صنف کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف صنفِ غزل/قصیده/قطعه کے تحت آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
کتاب زبور کے قاری سے خطاب
To the Reader
علامہ اقبال » زبور عجم » به خوانندهٔ کتاب زبور
Part One
علامہ اقبال » زبور عجم » حصهٔ اول (غزلیات) » ز برون در گذشتم ز درون خانه گفتم
دُعا
INVOCATION
علامہ اقبال » زبور عجم » حصهٔ اول (غزلیات) » دعا
یہ غزل صرف ایک شعر پر مشتمل ہے ۔ اقبال اپنے عشق کی شوریدہ سری کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس شور پیدا کرنے والے عشق کو ہر راستہ تیری گلی کی طرف لے گیا ۔ وہ اپنی تلاش کر کیا فخر کرتا کہ راستہ تو خود ہی اسے تیری گلی کی طرف لے گیا تھا ۔ سچا عشق اور سچی طلب ہی منزلِ مراد تک پہنچا سکتے ہیں ۔ عاشق کو اپنی تلاش پر نازاں نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس کی کامیا بی اس کے محبوب کی نظرِ عنایت کی مرہونِ منت ہے ۔
Tumultuous Love where’er it rove unto Thy street is brought; what boasteth he who findeth Thee that for himself he sought?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 1
علامہ اقبال » زبور عجم » حصهٔ دوم (غزلیات) » «شاخ نهال سدرهای خار و خس چمن مشو»
(اے انسان) اٹھ کھڑا ہو کیونکہ آدم کی خوبیوں کے اظہار کا وقت آ پہنچا ہے ۔ اس مٹھی بھر خاک کے پتلے (انسان) کے آگے ستارے سجدہ ریز ہیں (انسان کے سیاروں پر قدم رکھنے کا وقت آ گیا ہے) ۔
Rise up, for Adam’s hour of manifestation has come; the stars bow down before this handful of dust.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 1
ہمارے سینے میں تمنا کی حرارت کہاں سے آئی ہے ۔ یہ صراحی تو بے شک ہماری ہے لیکن اس میں جو شراب ہے وہ کہاں سے آئی ہےیہاں صراحی سے مراد مادی جسم ہے اور اس میں تمناؤں کا سوز و گداز اور جذباتی کیفیت وہ شراب ہے جو ہمیشہ اس مشت خاک کو خالق حقیقی کے وصال کے لیے بے قرار رکھتی ہے ۔
The ardent longing in our hearts – where does it come from? Ours is the tumbler, but the wine within – where does it come from?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 2
زبور عجم حصہ دوم (ابتدا)
علامہ اقبال » زبور عجم » حصهٔ دوم (غزلیات) » دو عالم را توان دیدن بمینائی که من دارم
چاند اور ستارے جو راہِ شوق (عشق) میں اکھٹے محوِ سفر ہیں وہ (حسن) کی اشارہ بازیوں کو پرکھنے ، اس کی دلفریب اداؤں کو سمجھنے اور حقیقت شناس نظر رکھنے والے ہیں (چاند اور ستارے منشاے فطرت کے مطابق مصروف سفر ہیں ) ۔
Moon and star, travelling together on the road of desire, are measuring graces and understanding gestures and are possessed of insight.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 2
لالہ کے پھولوں کے اندر نرم و لطیف ہو اکی طرح گزرا جا سکتا ہے ۔ ایک شگفتہ اور نرم سانس سے غنچہ کھلایا جا سکتا ہے ۔ (اسی طرح غم زدہ دلوں کی مسرتیں بھی تلاش کی جا سکتی ہے) ۔
Thou canst pass, like morning’s breeze, deep into the anemones, with a single breath disclose the locked secrets of the rose.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 3
اے خدا تو نے میری آہ و زاری کو میری شاعری کی وجہ سے بڑھا دیا ہے ۔ میری اس آواز سے ہزاروں سال کی پرانی مٹی کو زندہ کر دے ۔ مطلب یہ کہ مسلمان اس مادہ پرست دنیا میں گم ہو کر اپنی پہچان کھو چکا ہے ۔ وہ اپنی پہچان صرف اس صورت میں حاصل کر سکتا ہے اگر اس کے دل میں تیری محبت پیدا ہو جائے ۔
Thou who didst make more ardent my sighing and my tears, O let my anthem quicken dust of a thousand years.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 4
(اے انسان) اگر تو محبت کے سمندر میں رہتے ہوئے ساحل کی تمنا کر رہا ہے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے تو ہزاروں شعلے دے کر ایک چنگاری حاصل کرنا چاہتا ہے ۔
If you seek a shore in the sea of love, you ask a thousand flames to become one tongue.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 4
اے خدا! تو ہمارے مٹھی بھر خاکی جسم میں سینکڑوں طرح کی فریادیں بلند کرتا ہے ۔ دوسروں سے کم ملنے کی عادت رکھنے کے باوجود تو ہماری جان سے زیادہ نزدیک ہے ۔ یعنی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ۔ میری آہ و زاری یہ ثابت کرتی ہے کہ تو مجھ سے واقعی بہت قریب ہے ۔
From my handful of dust You draw out a hundred laments; you are nearer than the soul – for all Your shy reserve.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 5
یہ جہاں اس دل کو قرار پہنچانے والے محبوب (خالق کائنات) کا ایسا پیغام رساں ہے جو کبھی ایک جگہ ٹھہرتا نہیں ۔ ہر وقت سرگرمِ سفر رہتا ہے ۔ یہ جہاں کیسا زبردست قاصد ہے کہ جو سر تا پا پیغام ہی پیغام ہے (زمانہ ہر لمحہ نئے پیغامات لے کر آتا ہے) ۔
Time is the winged messenger of the Heart’s Desire; wondrous herald! Tidings fair is his life entire.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 5
میں اگرچہ سیاہ مٹی ہوں یعنی ایک خاکی جسم ہوں لیکن اس خاکی جسم کے اندر جو ایک چھوٹا سا دل ہے وہی میرا سازوسامان ہے ۔ یہ دل جب روشن ہو جاتا ہے تو سارا جسم منور ہو جاتا ہے ۔ اے خدا میں تیرے حسن کے نظارہ کے لیے ایک ستارے کی طرح آنکھیں کھلی رکھتا ہوں ۔
Though dust, and dark as dust, am I, I have a little heart, whereby with vision open as a star I gaze on beauty from afar.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 6
میں اپنے محبوب کی سادہ دلی سے متعلق سوائے اس کے اور کیا کہہ سکتا ہوں کہ وہ میرے سرہانے بیٹھ کر یہ کہتا ہے کہ (میرے غمِ عشق ) کا کوئی علاج نہیں ۔
Of the Friend’s ingenuous wit I can relate no more: By my pillow He did sit, and spoke upon the cure!
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 6
میں نے اپنی دردمند اور دل پذیر آواز یعنی شاعری کے ذریعے زندگی کی شراب کا مٹکا دنیا کے لیے کھول دیا ہے یعنی جذبہَ عشق ان لوگوں تک پہنچا دیا ہے جو اس سے آشنا نہیں تھے ۔
With a song of agony, with a sweet, soft melody, to a dying world athirst Lo: life’s flagon I have burst.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 7
عقل اگر کائنات کی حقیقتوں کی تلاش میں سرگرم عمل ہے تو یہ سب سرگرمی اس میں ذوقِ نظر کی وجہ سے ہے ۔ عقل کائنات میں موجود ہر شے کی متلاشی ہے اور حاصل کرنے کی جستجو میں رہتی ہے (ذوق نظر عشق ہی کی بدولت پیدا ہوتا ہے) ۔
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 7
اے خدا اہل کفر اور اہل ایمان دونوں پر اپنی رحمت عام نچھاور کر اور اپنے چودھویں کے چاند جیسے چہرے سے نقاب ہٹا دے ۔ کیونکہ تیری رحمت تو ہر ایک کے لیے ہے ۔ جب تیرے چہرے کے انوار و تجلیات مومن دیکھے گا تو اس کا ایمان اور مضبوط ہو گا اور جب اسے کافر دیکھیں گے تو یقینا تجھ پر ایمان لے آئیں گے
On faith and infidelity O scatter wide Thy Clemency; at last the veil of darkness raise from the full splendour of Thy Face.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 8
میں ان زندہ دل لوگوں کا غلام ہوں جو سچے عاشق ہیں ۔ ان خانقاہ نشینوں نام نہاد دنیا دار صوفیوں سے میرا کوئی تعلق نہیں جو کسی کو دل نہیں دیتے ۔
I am the slave of each living heart whose love is pure, refined; not cloistered monks who dwell apart, their hearts to none resigned.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 8
میری فریاد سوزِ غم سے بھری ہوئی ، بے خوف اور غم اُبھارنے والی ہے ۔ کیونکہ میرے حسن و خاشاک میں چنگاری گری ہوئی ہے اور صبح کی ہوا بھی تیز ہے ۔ (اس تیز ہوا سے آگ بھڑک اٹھے گی اور مجھے ہر آلائش سے پاک کر دے گی) ۔
A flame is in my minstrelsy, a fearlessness, a tragedy; a spark is smouldering in my corn, and sprightly blows the breath of morn.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 9
اس چمن کے لالہ کا پھول (مسلمان) ابھی زنگ آلودہ ہے ۔ (ابھی مسلمان دنیا کی آلائشوں میں پھنسا ہوا ہے) اس لیے اپنے ہاتھ سے ابھی ڈھال مت رکھ کہ جنگ ابھی جاری ہے (اہل ایمان کی جنگ کبھی ختم نہیں ہوتی) ۔
The tulip of this meadowland is yet all flecked with hue; cast not the shield out of thy hand, for battle flares anew.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 9
اے میرے محبوب تو میری نظروں کے سامنے نہیں ہے اور میں یہ جو دل اور آنکھیں رکھتا ہوں وہ تیرے دیدار کا نظارہ کرنے کی تمنا کی مکمل لذت لیے ہوئے ہیں (تو چونکہ پنہاں ہے اور مجھے اپنے دیدار کی نعمت سے محروم کر رکھا ہے ) اس لیے اگر میں نے سخت پتھر سے تیرا یہ خیالی بت تراش لیا ہے تو اس میں کونسی ایسی برائی ہے
The eyes and heart that I have take such delight in view – what is my fault if I should carve idols out of rough stone?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 10
(حق پھیلانے اور اس کی مدافعت کے لیے) کبھی کبھی دلیل اور اعجاز بیان پر بھی بھروسہ کرنا پڑتا ہے اور کبھی حق کا قیام تلوار اور نیزے کی طاقت سے بھی لیا جاتا ہے ۔
Faith depends on arguments and on magic eloquence; yet anon men serve the Lord with the lance and fearless sword.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 10
اگرچہ عقل کا شاہین اڑان کے لیے تیار ہے لیکن اس بیابان میں ایک تیر انداز بھی پوشیدہ ہے جو اسے آسانی سے شکار کر لیتا ہے ۔ عشق کی جہاں تک رسائی ہوتی ہے وہاں عقل کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ۔
Though the falcon of the brain yearneth on the wing to be, archers in this desert plain wait upon him secretly!
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 11
(دریا کی ) موج کی طرح خودی میں مست ہو کر طوفان سے ٹکرانے کی ہمت پیدا کر ۔ تجھے کس نے یہ مشورہ دیا ہے کہ خاموشی سے بیٹھ جا اور دامن میں پاؤں سمیٹ لے (با عمل زندگی بسر کرنا شروع کر دے) ۔
Drunk with self hood like a wave plunge into the stormy lave; who commanded thee to sit with thy skirts about thy feet?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 11
سر زمینِ حجاز کے صحرا سے زمانے کا خضر ظہور کر رہا ہے اس دور دراز وادی سے کوئی قافلہ سفر پر روانہ ہو رہا ہے (احیائے اسلام کی کوئی تحریک پیدا ہونے والی ہے) ۔
Out of Hijaz and the lonely plain the Guide of the Time is come, back from the far, far vale again the Caravan hastens home.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 12
جب بہار کا موسم اتنا دلکش ہو اور بلبلیں گیت گا رہی ہوں تو ایسے میں تو بھی (اے محبوب) اپنے چہرے سے نقاب اٹھا کر اس خوشگوار ماحول کے مطابق شراب وصل پلا دے ۔
It is the season of the spring and nightingales are carolling; O smile on me, and chant a song, and freely pass the wine along.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 13
میں تو (صرف حقیقی مالک) سلطا ن سے نگاہِ کرم کی امید رکھتا ہوں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سچا مسلمان ہوں اور مسلمان کبھی مٹی کے معبود نہیں بناتا(مٹی کے معبودوں کی پوجا نہیں کرتا) ۔
Of the Sultan I would take one gaze, if so I may; Muslim I; I do not make a god of clay.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 13
مجھے موت و حیات کی کشمکش سے میرا مقامِ رضا باہر نکال لایا ۔ میرے اس مقام رضا نے میرے کیسے کیسے مسائل حل کر دیے ہیں ۔
From life and being’s twisted skein let me be free; in resignation is to gain true liberty.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 14
(بڑی قوتوں سے ٹکرانے کے لیے) تو درویشی کا نشہ (شراب) برداشت کرنے کی ہمت پیدا کر اور پھر اس نشہ کو مسلسل پینا شروع کر دے ۔ جب یہ نشہ تجھ میں جراَت و ہمت پیدا کر دے تو پھر ایران کے بادشاہ جمشید کی سلطنت سے ٹکر لے (یہ فقیری نشہ کر کے تو وقت کے جابر حکمرانوں سے ٹکرانے کی ہمت حاصل کرے گا) ۔
Like the dervish drunken be quaff the winecup instantly, and, when thou art bolder grown, hurl thyself on Jamshid’s throne.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 14
اٹھ اور پیاسی مٹی (آدمی کے خاکی جسم) پر زندگی کی شراب چھڑک دے کیونکہ اس خاکی جسم کے لیے عشق کی شراب تریاق کا کام دے گی ۔ اے خدا تو اپنے عشق کی آگ اس جسم خاکی میں تیز کر دے اور میرے نفس کی آگ ٹھنڈی کر دے ۔
Rise! And upon the thirsty land sprinkle life’s wine with lavish hand; kindle anew the spirit’s fire, and bid the flame in us expire.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 15
ہوس ابھی تک اسی فکر میں ہے کہ کسی طرح دنیاوی مال و دولت اکٹھی کی جا سکتی ہے ۔ ہرے رنگ کے پردوں کے پیچھے اور کونسا فتنہ پوشیدہ ہے دنیا میں جتنے بھی فتنے و فساد پیدا ہوئے ان کا سبب ہوس ہی ہے ۔
Greed is acting still his play this world to dominate; what new turbulence, I pray, behind Heaven’s veil doth wait?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 15
مجھے مصروفِ طواف کعبہ دیکھ کر اگر تو یہ سمجھ رہا ہے کہ شاید طواف کعبہ ہی میرا اصل مقصد ہے تو تیرا یہ گمان غلط ہے ۔ میرا اصل مقصد تو خدا کا قرب حاصل کرنا ہے طواف کعبہ تو صرف ایک ذریعہ ہے ۔
Thinkest Thou that to the threshold I have made this pilgrimage? With the master of the household I have business to engage.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 16
فرشتہ اگرچہ (انسانوں کی طرح) آسمانوں کے جادو (قوانینِ فطرت) سے آزاد ہے اس کے باوجود اس کی نظر مٹھی بھر خاک کے پتلے پر ہے ۔ یعنی وہ انسان کی رفعت کی طرف دیکھتا ہے جو اسے عشق کے سوز و گداز کی بدولت حاصل ہے ۔
Although the Angel dwells beyond the talisman of the skies, yet on this hand of dust in fond affection rest his eyes.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 16
میرا محبوب گھوڑے پر سوا ہو کر راستہ میں بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے والے عشاق پر نظر ڈالے بغیر گزر رہا ہے ۔ اے دوستو! مجھ تھام لو کہ میرا دل اب میرے قابو میں نہیں رہا (شراب عشق کے باعث مجھ پر نشہ طاری ہو رہا ہے) ۔
With a glance at us who sit by the way He goes riding by: Conceive, if Thou canst, my soul’s dismay sore distraught am I.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 17
وہ عرب جو رات کے وقت محفلیں سجاتے تھے اب کہاں ہیں ۔ وہ عجم جو عاشقانہ نغمے زندہ کرے وہ کہاں ہیں ۔ نہ تو اب عربوں میں ایمان کی حرارت باقی ہے اور نہ ہی عجمیوں میں ذوق نغمہ گری زندہ ہے ۔
Where is the Arab, to revive the old night-revelry, and where the Persian, to bring alive the love-lute’s minstrelsy?
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 17
آسمان تک رسائی حاصل کرنے والی عقل پر ترکوں کی طرح شبخون مارنا ہی اچھا ہے یعنی اسے عشق کے آگے سرنگوں کرنا ضروری ہے کیونکہ دردِ عشق کا ایک ذرہ عظیم فلسفی افلاطون کے علم سے کہیں بڑھ کر ہے ۔
Better is the robbers’ train than the heaven-pacing brain, better one distress of heart than all Plato’s learned art.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 18
عقل بھی عشق کی مانند ہے اور وہ ذوقِ نظر سے انجان نہیں ہے ۔ لیکن اس بے چاری کے پاس وہ ہمت و دلیری نہیں جو عشق کو حاصل ہے ۔
Intellect is passion too, and it knows the joy to view, but the poor unfortunate dares not as the inebriate.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 20
ہماری دنیا جو کہ سب کی سب مٹی ہے اور یہ مٹی ایک دن بے سپر ہو جائے گی ۔ مجھے معلوم نہیں کہ جو سانسیں جا چکی ہیں وہ واپس آئیں گی یا نہیں (مرنے کے بعد کیا ہو گا، میں اس سے بے خبر ہوں ) ۔
Our world is dusty clay trampled upon the way; I do not think our breath returneth out of death.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 20
اس زندگی میں حرارت و گداز تیری تلاش کی لذت کے باعث ہے ۔ اگر میں تیری طرف سفر اختیار نہ کروں تو راستہ مجھے سانپ کی طرح ڈستا ہے ۔
All that in life I love the best is the sweet fever of Thy quest; the way is like an adder’s sting, be not to thee my wayfaring.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 21
(اے انسان) تجھے از سر نو اپنی گذشتہ زندگی اور آنے والی زندگی پر نظر دوڑانی چاہیے ۔ وہ تمہیں خبردار کر رہا ہے اٹھ ۔ اور پھر سے سوچ کہہ تجھے کیا کرنا ہے ۔
Sleeper, rise thou up, and fast! Once again upon the past and the future fix thy gaze; Thou must think on other ways.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 21
اس بزم ِ جہاں میں ساقی رہے اور نہ ہی میکش اس کا کام شراب و ساقی سے گزر گیا ہے ۔ ایسا دوست اب کہاں ہے کہ میں بچی ہوئی شراب اس کے جام میں انڈیل دوں ۔ مجھے تو کوئی اپنے اسلاف کی پیروی کرنے والا نظر نہیں آتا ۔
The night grows late, the route is up, no need for saki now or cup; pass me Thy goblet, friend of mine, I’ll pour thee the remaining wine.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 22
میرا (مردِ مومن) خیال آسمانوں ( میں ہونے والی تبدیلیوں ) کا مشاہدہ کر رہا ہے اور چاند کے شانوں پر اور کہکشاں کی گود میں رہ رہا ہے (زمین کا رہنے والا آسمان سے بھی پرے ہونے والے واقعات کا علم رکھتا ہے) ۔
My mind awhile was gone about the heavens to pace, high on the back of the moon, fast in the stars’ embrace.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 22
اے ساقی میرے جگر پر نم آلود شعلہ پھینک ۔ یعنی مجھے شراب عشق پلا کر میرے اس مٹھی بھر جسم میں اپنے عشق کا شور قیامت بر پا کر دے ۔
Saki, on my heart bestow liquid flame with living glow; let the resurrection day dawn tremendous on my clay.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 23
میری نوا سے تو مجھ پر قیامت کا سماں گزر گیا ہے ۔ اور کسی کو اس کی خبر بھی نہیں ( میں نے اپنے نغمات خون جگر سے تحریر کیے ہیں ۔ اور انہیں عشق کی موسیقی سے سجایا ہے ۔ لیکن اہل بزم ان نغمات کے ظاہری پہلووَں سے تو با خبر ہیں لیکن انہیں ان نغمات میں پوشیدہ پیغام کی خبر نہیں ہے) ۔
A melody swept me through and through and nobody knew; the air and the note is all they know: The high and low.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 23
اے خدا مجھے اس پانی (شرابِ عشق) سے صراحی یا بڑا پیالہ عطا کردے جو میرے سینے میں لالہ کے پھول کھلا دے ۔ یعنی وہ شراب عشق جو میرے دل میں امنگوں کو بیدار کر دے ۔ اے ساقی دوراں میرے اس مٹھی بھر جسم کو بہار کی ہوا کے سپرد کر دے تاکہ میری ذات سے دوسروں کو بھی فائدہ حاصل ہو ۔
The juice that maketh tulips spring within the heart – a bumper bring, Saki! And let the April gust scatter at will my body’s dust.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 24
میرے میکدے کی شراب میں ایرانی افکار و خیالات نہیں پائے جاتے ۔ میری اس عجمی صراحی یعنی فارسی شاعری میں جو شراب ہے وہ میرے جگر کا لہو ہے ( میں نے یہ خیالات کسی سے مستعار نہیں لیے) ۔
No Jamshid’s memory, the wine that fioweth in this inn of mine, it is the pressing of my soul that sparkleth in my Persian bowl.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 24
میں ہر اس برے نقش سے پاک ہو کر آیا ہوں جو دل پر آنکھوں کے ذریعے ابھرتا ہے ۔ میں پاکیزہ فطرت رکھتا ہوں اور تیرے پاس ہر فکر اور خیال سے آزاد ہو کر آیا ہوں یعنی میرا دل ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہے ۔
Of every image that the heart takes from the eye – I have no part; perception weigheth not with me, I beg for pure reality.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 25
میں تو صحرا میں کھلنے والا لالہ ہوں (میرا باغ سے کیا کام) مجھے باغ سے لے جاوَ اور جنگل ، پہاڑ اور بیابان کی ہواؤں میں لے جاوَ ۔ (میری اصل عالم علوی ہے ۔ وہاں سے مجھے عالم دنیا میں لایا گیا ۔ اب مجھے پھر سے اسی عالم میں پہنچا دو ۔ اس شعر میں صحرا کنایہ ہے عالم علوی اور باغ کنایہ ہے عالم دنیا کا) ۔
I am a blossom of the plain; carry me back from the avenue to mountain and wilderness again where air’s to breathe, and the vast to view.
علامہ اقبال » زبور عجم » غزلیات » غزل شمارهٔ 25