دُعا
INVOCATION
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)
قافیہ: ربده
صنف: غزل/قصیده/قطعه
یارب درون سینه دل با خبر بده
در باده نشئه را نگرم، آن نظر بده
یارب میرے سینے میں حقیقت کی خبر رکھنے والا دل عطا کر دے ۔ مجھے ایسی نظر دے کہ میں جام شراب میں نشہ محسوس کر سکوں ۔ اقبال خدا سے ایسے دل اور نظر کی تمنا کر رہے ہیں جو اسے کائنات کے اسرار کی حقیقت سے آگاہ کر دے ۔
I pray thee, Lord; to me impart within my breast a conscious heart: Give me the vision to divine the rapture pulsing through the wine.
این بنده را که با نفَسِ دیگران نزیست
یک آهِ خانهزاد مثالِ سَحر بده
اے خدا اپنے بندے کو خلوص اور محبت سے بھری ہوئی آہِ سحر عطا کر دے کیونکہ تیرا یہ بندہ دوسروں کے سہارے جینا نہیں چاہتا ۔ اسے اپنی ذات کی پہچان دے دے ۔ یہ پہچان اس کی زندگی کی رات کو صبح میں تبدیل کر دے گی ۔
It never pleased me, to receive another’s breath that I might live: Give me a breath as light as morn, a sigh that in the home was born.
سِیلم، مرا بجویِ تُنُکمایه ئی مَپیچ
جولانگهی بِوادی و کوه و کمر بده
میری فکر اور سوچ ایک سیلاب کی مانند ہے اسے کم پانی والی ندی میں مت الجھا ۔ میرے لافانی پیغام کے لیے وادی، پہاڑ اور گھاٹیوں جیسی وسعت درکار ہے ۔
I am a torrent: do not set me dribbling in a rivulet, but give my waters space to spill o’er valley broad and spreading hill.
سازی اگر حریف یم بیکران مرا
با اضطرابِ موج، سکونِ گُهَر بده
اے خدا اگر تو مجھے اس بے کنار سمندر کا شناور کر دے تو جس طرح بے قراری موج میں موتی کا سکون پوشیدہ ہوتا ہے اسی طرح مجھے بھی سکون حاصل ہو گا ۔ میرے تفکر کی موجیں ہر دم بے قرار ہیں اور اپنے اندر پوشیدہ علم کے خزانے لٹانے کے لیے تیار ہیں ۔
Is it thy will to fashion me a rival to the boundless sea, amid the tumult of the main grant me the pearl’s repose to gain.
شاهینِ من بصیدِ پلنگان گذاشتی
همّتِ بلند و چنگل ازین تیزتر بده
اے خدا تو نے اگر میرے شاہین کو چیتوں کے شکار کے لیے چھوڑا ہے تو اسے اور زیادہ ہمت عطا کر ۔ معاشرے کی اصلاح کے لیے جدوجہد آسان کام نہیں ہوتا اس کے لیے آہنی عزم و ارادے درکار ہوتے ہیں ۔
Thou had’st the falcon that I am follow the leopard for his game: Give me high will, a sharper claw, to win my victim to my maw.
رفتم که طایران حرم را کنم شکار
تیری که نافِکَنده فتد کارگر بده
میں حرم کے پرندوں کے شکار کے لیے جاتا ہوں ۔ اے خدا میرے ترکش میں ایسا تیر عطا کر دے جو چلائے بغیر ہی کارگر ہو ۔ اقبال نے اپنے کلام کے ذریعے مسلمانوں خصوصاً نوجوان نسل اور دین فروش علماء اور نام نہاد صوفیا کی اصلاح کا کام شروع کیا ہے ۔ یہاں طائران حرم سے مراد مسلمان ہیں ۔
The small fowl of the Sanctuary I marked my precious prey to be: Grant me an arrow that, unsped, unerring flies, and strikes them dead.
خاکم به نورِ نغمهٔ داؤد برفروز
هر ذره مرا پر و بالِ شرر بده
اے خدا میری حیثیت تو ایک بے نور مٹی جیسی ہے ۔ تو اس مٹی کو نغمہ داوَد کے نور سے منور کر دے اور میری خاک کے ہر ذرے کو چنگاری کے بال و پر عطا کر دے ۔ جس طرح نغمہ داوَد سے انسان جن پرند اور دوسرے جانور مسحور ہو جاتے تھے اس طرح میرے کلام کی شیرینی سے بھی اہل جہاں کو میرا ہمنوا بنا دے ۔
Illuminate my lifeless clay with anthems David used to play; let all my atoms swiftly spring upborne upon an ember’s wing.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور