کتاب زبور کے قاری سے خطاب
To the Reader
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)
قافیہ: اهیگاهی
صنف: غزل/قصیده/قطعه
کبھی کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ گھاس کا معمولی سا تنکا بھی میری آنکھ کے اجالے کو کم کر دیتا ہے اور کبھی میں نے اپنی نگاہوں سے دونوں جہانوں کا مشاہد کیا ہے ۔ ظاہری آنکھ سے قدرت کے مظاہر کا مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ باطنی نگاہ ہی ہے جس میں فطرت کے ظاہری اور باطنی حسن کو پرکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور صلاحیت صرف بندگانِ خدا یعنی اولیاَ اور صوفیا َ میں پائی جاتی ہے ۔
A straw, at times, becomes the screen of my eye; And with one look, at times, I have seen both the worlds.
وادی عشق بہت طویل اور دشوار گزار ہے اسے طے کرنا آسان نہیں ۔ لیکن جب دل میں عشقِ حقیقی بیدار ہو جاتا ہے تو صرف ایک آہ ِ عاشقانہ سے سلوک کی منزل طے ہو جاتی ہے اور برسوں پر محیط سفر لمحوں میں طے ہو جاتا ہے ۔ منزلِ عشق ہزارہا ریاضتوں کے بعد بھی حاصل نہیں ہوتی ۔ دل کی تڑپ ہی اس کے حصول کا اصل ذریعہ ہے ۔
The Valley of Love is a long way away, and yet, at times, The journey of a hundred years is covered in a sigh.
تو بھی ہر وقت کوشش کرتا رہ اور امید کا دامن اپنے ہاتھ سے کبھی نہ چھوڑ ۔ خودی ایک ایسی دولت ہے جو سرِ راہ بھی حاصل ہو سکتی ہے ۔ لیکن شرط یہ ہے کہ کوشش میں مگن اور سچائی ہو ۔ منزل و مراد کی طرف قدم بڑھاتا جا ۔ کوئی نہ کوئی سچا رہبر تجھے تیری منزل کا راستہ بتا ہی دے گا ۔
Persist in your search, and do not let go of the hem of hope- There is a treasure that, at times, you will find by the way.