صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »بندگی نامه

بندگی نامه

تیسرا بند

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: بشیر احمد
Toggle stanza 1
1

گفت با یزدان مه گیتی فروز

تاب من شب را کند مانند روز

دنیا کو اپنی روشنی سے منور کرنے والے چاند نے خدا سے کہا میری روشنی رات کو دن کی مانند روشن کر دیتی ہے ۔

Moon that illuminates earth submitted to Allah; my light turns the night into day.

2

یاد ایامی که بی لیل و نهار

خفته بودم در ضمیر روزگار

مجھے وہ دن یاد ہیں جب دن اور رات کی تمیز کے بغیر میں زمانے کے ضمیر میں سویا ہوا تھا ۔

I remember the time when there was no night or day; I was deep asleep in the conscience of time.

3

کوکبی اندر سواد من نبود

گردشی اندر نهاد من نبود

میری حدود میں دور دور تک کوئی ستارہ روشن نہیں تھا ۔ میری فطرت میں کوئی گردش نہیں تھی ۔

There was no star in my attendence; revolutionary movement was not in my nature.

4

نی ز نورم دشت و در آئینه پوش

نی به دریا از جمال من خروش

نہ میرے نور سے بیابان اور وادیاں آئینہ پوش تھیں نہ میرے حسن کے جلووَں سے دریا میں مدوجزر کی کیفیت پیدا ہو رہی تھی ۔

When desert and human abode was not lit by my light; oceans had no restlessness (tides) because of (the attraction of my megnatic) beauty.

5

آه زین نیرنگ و افسون وجود

وای زین تابانی و ذوق نمود

یہ سوچ کر دل سے آہ نکلتی ہے اور اس وجود کی فریب اور فسوں پر افسوس ہوتا ہے ۔ اس چاندنی کے ہونے پر افسوس ہے ۔ مجھے وجود دیا گیا حالانکہ میں بھی ملک عدم میں کہیں آرام کر رہا ہوتا ۔

Alas! This was changed by the magic spell of being; I regret my brightness and urge for manifestation.

6

تافتن از آفتاب آموختم

خاکدانی مرده ئی افروختم

وجود میں آنے کے بعد میں نے سورج سے آب و تاب سیکھی اور خود میں نور پیدا کیا ۔ اور پھر اس نور سے مردہ مٹی کے گھر دنیا کو روشن کیا ۔

I learnt shining from the Sun; and lightened the dead Earth.

7

خاکدانی با فروغ و بی فراغ

چهرهٔ او از غلامی داغ داغ

یہ مادی جہان علم و دانش کے باعث روشن تو ہے لیکن اس میں راحت و سکون کسی کے مقد ر میں نہیں کیونکہ اس کا چہرہ روشن ہونے کے باوجود غلامی سے داغدار ہے ۔

Earth is lit (by me) but it has no joy or solace; its face has pimples of slavery.

8

آدم او صورت ماهی به شست

آدمی یزدان کشی آدم پرست

اس جہان کے لوگ مچھلی کی صورت میں کانٹے لگائے بیٹھے ہیں ۔ مکر و فریب سے ایک دوسرے کو لوٹ رہے ہیں ۔ یہاں کا آدم یزداں یعنی خدا کو مارنے اور آدم کی پوجا کرنے والا ہے ۔

Everyone on earth has a hook stuck in his throat like a fish; mankind has forgotten God and worships human beings.

9

تا اسیر آب و گل کردی مرا

از طواف او خجل کردی مرا

چاند اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ میں اپنے وجود سے پہلے اس مادی جہان اور لوگوں کے بارے میں بے خبر تھا ۔ اے خدا جب تو نے مجھے وجود دیا اور میں ا س جہان کے گرد گردش کرنے لگا مجھے اس طواف نے شرمندہ کر دیا ۔ کیونکہ مجھے یہاں انسانوں کے کارنامے دیکھ کر شرم محسوس ہو رہی تھی ۔

By bounding me to soil and water, made me ashamed of revolving around it.

10

این جهان از نور جان آگاه نیست

این جهان شایان مهر و ماه نیست

یہ جہان جان کے نور سے آشنا نہیں ہے ۔ یہاں کے لوگوں کو اپنی مادہ پرست روح کو روشن کرنے کے لیے خیال تک نہیں آتا اس لیے یہ جہان چاند اور سورج کے لائق نہیں ۔

This world is not aware of the light of the soul; it does not deserve Sun and Moon.

11

در فضای نیلگون او را بهل

رشتهٔ ما نوریان از وی گسل

یا پھر اے خدا اس جہان کو نیلی فضا میں چھوڑ دے اور کوئی نیا جہان بنا جو ہمارے نور کے قابل ہو یا پھر ہم سے قطع تعلق کر لے ۔

Push this Earth into blue sky; cut its link with celestial beings like us.

12

یا مرا از خدمت او واگذار

یا ز خاکش آدم دیگر بیار

یا تو مجھے اس کی خدمت سے رہائی دے یا اس کی مٹی سے کوئی نیا آدم پیدا کر جو اپنے مقصدِ حیات کو پہچانتا ہو ۔

Either relieve me (of duty) of serving it; or create a new Adam out of its soil.

13

چشم بیدارم کبود و کور به

ای خدا این خاکدان بی نور به

میری آنکھیں نیل آلودہ اندھی اور نابینا ہی اچھی ہیں یعنی اس جہان کو روشنی دینے والی قوت مجھ سے واپس لے لے ۔ اے خدا یہ خاکدان بے نور ہی بہتر ہے ۔

My eye was better blind and lightless; leave this earthly abode without my light.

14

از غلامی دل بمیرد در بدن

از غلامی روح گردد بار تن

غلامی کے دور میں بدن میں دل مردہ ہوجاتا ہے ۔ اور غلامی سے روح بدن کا بوجھ بن جاتی ہے ۔

In servitude heart dies inside the body; the soul becomes burden for the body.

15

از غلامی ضعف پیری در شباب

از غلامی شیر غاب افکنده ناب

غلامی سے جوانی کے عالم میں ہی بڑھاپا طاری ہو جاتا ہے اور غلامی سے جنگل کا آزاد شیر وہ شیر بن جاتا ہے جس کے دانت گر جائیں ۔ غلامی میں بڑے بڑے بہادر بزدل بن جاتے ہیں ۔

Slavery renders the young weak like the old; in slavery the (fiercefully young) lion sheds his teeth.

16

از غلامی بزم ملت فرد فرد

این و آن با این و آن اندر نبرد

غلامی سے مجلس کی وحدت ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہے یہ اس سے اور وہ اور سے جھگڑنے لگتا ہے ۔ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں ۔ ملت کئی گروہوں میں بٹ جاتی ہے ۔

In slavery a nation is fragmented; and its individuals fight with each other.

17

آن یکی اندر سجود این در قیام

کاروبارش چون صلوة بی امام

ملت بکھر جاتی ہے ۔ ایک سجدے میں ہوتا ہے اور دوسرا قیام میں ہوتا ہے ۔ ہر ایک کی اپنی اپنی رائے ہوتی ہے ایسی ملت کے لوگوں کا کاروبار بے امام نماز کی طرح ہوتا ہے ۔

One group prostrates and the other stands up; life is like praying without prayer leader.

18

در فتد هر فرد با فردی دگر

هر زمان هر فرد را دردی دگر

ہر فرد دوسرے فرد کے ساتھ تو تو میں میں کر رہا ہوتا ہے اور ہر وقت ہر فرد کسی نہ کسی نئے درد کا شکار ہو جاتا ہے ۔

Everyone quarrels with other; everyone complains of some problem all the time.

19

از غلامی مرد حق زنار بند

از غلامی گوهرش ناارجمند

غلامی کی وجہ سے مردِ حق زنار پوش کافر ہو جاتا ہے ۔ غلامی سے اس کا موتی بے چمک، بے برکت اور بے قیمت ہو جاتا ہے ۔

In slavery the man of God becomes idol worshiper; slavery turns his precious potentialities worthless.

20

شاخ او بی مهرگان عریان ز برگ

نیست اندر جان او جز بیم مرگ

اس غلام کی زندگی کی شاخ موسمِ خزاں کے بغیر ہی پتوں سے خالی ہو جاتی ہے اور اس کی جان میں سوائے موت کے خوف کے اور کچھ باقی نہیں رہتا ۔

Branches of his tree shed leaves without (autumn); he has no life as he is afraid of death every moment.

21

کور ذوق و نیش را دانسته نوش

مرده ئی بی مرگ و نعش خود بدوش

غلام میں لذت کی حس ختم ہو جاتی ہے اس لیے زہر کو شربت سمجھ کر پی جاتا ہے اور وہ ایک بے موت مردہ ہوتا اور اپنی نعش کندھوں پر اٹھائے پھرتا ہے ۔

He becomes so clueless that he takes poison as honey; dead without death and carrying his dead body on his shoulders.

22

آبروی زندگی در باخته

چون خران با کاه و جو در ساخته

وہ زندگی کی عزت لٹا چکا ہوتا ہے وہ گدھوں کی طرح تنکے اور جو کھاتا پھرتا ہے ۔ غلامی میں اس کی پسند یا ناپسند کو عمل دخل نہیں ہوتا ۔

He has lost the dignity of life; like a donkey he is satisfied with hay and barley.

23

ممکنش بنگر محال او نگر

رفت و بود ماه و سال او نگر

ایسے غلام شخص کی زندگی کے آسان اور مشکل مرحلوں پر غور کر ۔ اور اس کی زندگی کے ماہ و سال جس طرح گزرے ہیں یا گزر رہے ہیں انہیں دیکھ تمہیں یقین ہو جائے گا کہ غلام کی زندگی کتنی تلخ ہوتی ہے ۔

Observe his possible and impossible; watch his sense of time (and space).

24

روزها در ماتم یکدیگرند

در خرام از ریگ ساعت کمترند

اس غلام کے دن ایک دوسرے کا ماتم کر رہے ہیں اور رفتار میں گھڑی کی ریت کی طرح ہیں ۔ ریت کی گھڑی کی طرح سست رفتار ہیں ۔

His days mourn each other (in state of perpetual mourning); speed of his movement (endeavour) is slower than sand-clock.

25

شوره بوم از نیش کژدم خار خار

مور او اژدر گز و عقرب شکار

ایک بنجر زمین جو بچھووَں کے ڈنک سے کانٹوں میں بدل گئی ہو اس میں جو چونٹیاں ہوں وہ ازدھے کو کاٹتی ہوں اور بچھووَں کی شکاری ہوں ۔

The soil of which has turned like thorns (brackish) because of stinging by scorpions; where ants hunt dragons and prey scorpions.

26

صرصر او آتش دوزخ نژاد

زورق ابلیس را باد مراد

اس کی گرم اور تیز ہوا چاہے دوزخ کی آگ کی نسل سے ہو ۔ اس کی ابلیسی کشتی پار لگانے کے لیے موافق ہوائیں چلتی ہوں ۔

Its wind has heat of Hell; that acts as tail wind only for Devil’s barge.

27

آتشی اندر هوا غلطیده ئی

شعله ئی در شعله ئی پیچیده ئی

چاہے اس میں ایسی ہوا ہو جس میں آگ لپٹی ہوئی ہو اور اس آگ میں چاہے شعلہ کے اندر شعلہ بھرا ہوا ہو ۔

There is fire in its swirling wind; flames flare up, intermingle and multiply.

28

آتشی از دود پیچان تلخ پوش

آتشی تندر غو و دریا خروش

ایسی آگ جس کو بل کھاتے ہوئے دھوئیں کی تلخی نے ڈھانپا ہوا ہو ۔ ایسی آگ جو بجلی یا بادل کی کڑک والی یا دریا کے طوفان کے شور والی ہو ۔

Fire that has grown bitter due to its swirling smoke, the fire which roars like thunder and rages like (rough) sea.

29

در کنارش مارها اندر ستیز

مارها با کفچه های زهر ریز

ایسی آگ جس کے پہلو میں سانپ آپس میں لڑ رہے ہوں ۔ ایسے سانپ جن کے پھن زہر ٹپکاتے ہوں ۔

On its banks poisonous snakes fight each other like cobras with their hoods full of poison.

30

شعله اش گیرنده چون کلب عقور

هولناک و زنده سوز و مرده نور

اس کا شعلہ کٹ کھنے کتے کی طرح لپکتا ہو وہ ڈرانے والا، دہکتی حرارت والا اور مردہ روشنی والا ہے ۔

Its flames pounce like a dog that bites; extremely frightening, burn them alive and extinguish the light of their life.

31

در چنین دشت بلا صد روزگار

خوشتر از محکومی یک دم شمار

بلاؤں کے ایسے بیابان میں سو سال بسر کرنا غلامی کے ایک دم سے زیادہ بہتر شمار کرنا ۔

Spending centuries in such horrifying desert is better than a moment of slavery.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

می‌شود پردهٔ چشمم پر کاهی گاهی

دیده‌ام هردو جهان را به نگاهی گاهی

علامہ اقبال»زبور عجم»به خوانندهٔ کتاب زبور

اگلی نظم

یک زمان با رفتگان صحبت گزین

صنعت آزاد مردان هم ببین

علامہ اقبال»زبور عجم»در فن تعمیر مردان آزاد

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور