صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »در فن تعمیر مردان آزاد

در فن تعمیر مردان آزاد

تیسرا بند

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: بشیر احمد
Toggle stanza 1
1

یک زمان با رفتگان صحبت گزین

صنعت آزاد مردان هم ببین

ایک لمحہ عہدِ ماضی کے لوگوں کے درمیان گزار کر اپنے اسلاف کی زندگی اور کارناموں پر غور کر اور ان آزاد مردوں کی کاریگری کو دیکھ ۔

Spare a moment for the company of those who have passed away; see the art (works) of free men.

2

خیز و کار ایبک و سوری نگر

وا نما چشمی اگر داری جگر

اٹھ اور قطب الدین ایبک اور شیر شاہ سوری (شاہانِ ہند) کے کارناموں پر نظر کر، اگر تو حوصلہ رکھتا ہے ۔

Open your eyes and see at miracles performed by Qutbuddin Aibek and Sher Shah Suri, if you have the heart.

3

خویش را از خود برون آورده اند

این چنین خود را تماشا کرده اند

انھوں نے ان عمارات کی تعمیر میں خود کو اجاگر کیا ہے ۔ اس طرح انھوں نے اپنا آپ تماشا کیا ۔

The displayed their inner selves through construction (creativity) and then sought satisfaction by looking at their own creations (through eyes of others).

4

سنگها با سنگها پیوسته اند

روزگاری را به آنی بسته اند

انھوں نے پتھروں کو پتھروں کے ساتھ پیوست کیا ہے ۔ انھوں نے زمانے کو ایک آن میں بند کر دیا ہے ۔ یعنی ایسی عمارتیں تعمیر کی ہیں کہ ان پر زمانے کے گزرنے کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔

By arranging stones along stones; they captured eternity in a moment.

5

دیدن او پخته تر سازد ترا

در جهان دیگر اندازد ترا

ان عمارتوں کو دیکھنا تجھے زیادہ پائیدار بناتا ہے اور تمہیں ایک اور ہی جہان میں لا پھینکتا ہے ۔

Watching their creations (works) strengthens your personality; it takes you to another world.

6

نقش سوی نقشگر می آورد

از ضمیر او خبر می آورد

نقش تجھ کو نقش گر کی طرف لے جاتا ہے اوراس نقش گر کے ضمیر کی خبر دیتا ہے ۔

Art (symbol) takes you towards artist (creator); provides access into artist's mind.

7

همت مردانه و طبع بلند

در دل سنگ این دو لعل ارجمند

مردانہ ہمت اور بلند سرشت یا فطرت پتھر کے دل کے یہ دو مبارک ہیرے ہیں ۔

Pearls of sustained manly effort and noble nature can be seen in the stones these buildings (creations).

8

سجده گاه کیست این از من مپرس

بی خبر روداد جان از تن مپرس

یہ یعنی آدمی کی روح کس کی سجدہ گاہ ہے مجھ سے مت پوچھ (اس کو تو فرشتوں نے سجدہ کیا تھا ۔ آدمی تو مسجود ملاءک ہے) اے بے خبر جان کی کہانی بدن سے نہ پوچھ ۔

Don't ask me whose place of worship these masterpieces become; O ignorant! Body cannot describe the tale of spirit.

9

وای من از خویشتن اندر حجاب

از فرات زندگی ناخورده آب

مجھ پر افسوس ہے کہ میں خود اپنے آپ سے پردہ میں ہوں ۔ اپنی صلاحیتوں سے بے خبر ہوں ۔ مجھے اپنی معرفت نہیں ۔ میں اپنی خودی سے نا آشنا ہوں ۔ میں نے تو اپنی زندگی کے دریائے فرات سے پانی ہی نہیں پیا ۔ یعنی مجھے حقیقت حیات کا کچھ علم نہیں ۔

Woe me! I am hidden from myself (I have not been able to discover myself); I have yet to drink from the stream of life.

10

وای من از بیخ و بن بر کنده ئی

از مقام خویش دور افکنده ئی

افسوس ہے مجھ پر جس نے خود کو بنیاد اور جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہوا ہے ۔ جو اپنے مقام سے دور گر پڑا ہے ۔ جس کو اپنی اصلیت کا کچھ علم نہیں ۔

Woe me! I regret digging (demolishing) my foundations; and I have fallen away from my (distinguished) position.

11

محکمی ها از یقین محکم است

وای من شاخ یقینم بی نم است

مضبوطیاں تو مضبوط یقین سے پیدا ہوتی ہے ۔ مجھے اپنے آپ پر افسوس ہے کہ میرے یقین کی شاخ بے نم ہے ۔

Stability accrues from strong faith; regretfully the branch of my faith has gone dry (has died).

12

در من آن نیروی الا الله نیست

سجده ام شایان این درگاه نیست

میرے اندر وہ طاقت اور بہادری نہیں جو میرے اسلاف میں کلمہ طیبہ کی وجہ سے تھی جو یقین رکھتے تھے اس بات کا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔ میں نے تو اللہ کے سوا زر، زمین، زن اور اس سے متعلقہ کئی بت بنا رکھے ہیں جن کو شب و روز سجدہ کرتا ہوں ۔ اس لیے میرا سجدہ اس درگاہ یعنی بار گاہ خدا کی شان کے قابل نہیں ہے ۔

I lack the strength of illallah (of the true faith, that there is no god except Allah); so my prostration is not worth this high shrine.

13

یک نظر آن گوهر نابی نگر

تاج را در زیر مهتابی نگر

ایک نظر اس خالص موتی کو دیکھ، تاج محل کو چاند کی چاندنی میں دیکھ ۔ (اسے شہنشاہ ہند شہجہان نے بنوایا ہے) ۔

Have a glance at this rare jewel; look at Taj Mahal in moonlit night.

14

مرمرش ز آب روان گردنده تر

یک دم آنجا از ابد پاینده تر

اس کے سفید پتھر بہتے ہوئے پانی سے زیادہ رواں ہیں یعنی شفاف ہیں ۔ وہاں کا ایک دم ابد سے بھی زیادہ پائندہ ہے ۔ یعنی اس کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ ایک وقت میں بنائی جانے والی عمارت کو کس طرح ہمہ وقت کے لیے مضبوط اور پائندہ بنایا جا سکتا ہے ۔

Its marble is shinier that the running (spring) water (it is difficult to focus on its dazzle); a moment of his world is longer than eternity.

15

عشق مردان سر خود را گفته است

سنگ را با نوک مژگان سفته است

مردوں کے عشق نے اپنے رازوں کو خود فاش کیا ہے اور پتھروں کو اپنی پلکوں کی نوک سے پرویا ہے یعنی انہیں جب عشق کی طاقت کا علم ہوا تو انھوں نے اس عشق کی بدولت فن تعمیر کے زندہ و پائندہ شاہکار پیدا کئے ۔

The secret of True Love has been expressed (through their works); as if stone slabs have been laced (arranged) with the help of eyelashes.

16

عشق مردان پاک و رنگین چون بهشت

می گشاید نغمه ها از سنگ و خشت

مردوں کا عشق بہشت کی طرح پاک اور رنگین ہے ۔ وہ پتھروں اور اینٹوں سے نغمے پیدا کرتا ہے ۔ (ان کی عمارتوں میں ان کے عشق کی داستان چھپی ہوئی ہے ۔ کیونکہ خون جگر دیے بغیر تاج محل یا مسجد قرطبہ یا الحمرا کی عمارتیں تعمیر نہیں کی جاسکتیں ۔ یہ عمارتیں بہ زبان جو اپنے تعمیر کنندوں کے عشق کی اور ان کے خون جگر کی داستانیں بیان کر رہی ہیں ۔

True Love is clean and colourful like heavens; it produces songs with (the help of) stones and bricks.

17

عشق مردان نقد خوبان را عیار

حسن را هم پرده در هم پرده دار

مردوں کا عشق حسینوں کی نقدی کی کسوٹی ہے ۔ وہ حسن کا پردہ پھاڑنے والا اور حسن کا پردہ رکھنے والا ہے ۔

True Love is reflection (criterion) of the beauty; he (lover) reveals the beauty and then guards it.

18

همت او آنسوی گردون گذشت

از جهان چند و چون بیرون گذشت

ایسے عشق کی ہمت آسمانوں سے اس طرف گزر گئی ۔ وہ اسباب کے جہان سے باہر نکل گئی، مردوں کا عشق اتنا باہمت ہوتا ہے کہ وہ زمان و مکان کو عبور کر کے محیر العقول کارنامے دکھاتا ہے اور یہ کارنامے زمانے کے ہاتھوں سے مٹ نہیں سکتے ۔

His perseverance takes him beyond heavens; his world (endeavours) cross the barriers of ifs and buts.

19

زانکه در گفتن نیاید آنچه دید

از ضمیر خود نقابی بر کشید

جو کچھ عشق نے دیکھا ہے چونکہ وہ الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا اس لیے عشق نے اپنے ضمیر سے خود نقاب اٹھا دی یعنی اس نے ایسا عمل کیا جس سے پتہ چل گیا کہ ا س کی صلاحیت اور قوت کیا ہے ۔

Whatever he sees cannot be described in words; so (without uttering a world) he exposes beauty of his inner-self.

20

از محبت جذبه ها گردد بلند

ارج می گیرد ازو ناارجمند

محبت سے جذبے بلند ہوتے ہیں ۔ بے قیمت چیزیں اس سے قیمت اور بے قدر و منزلت اشیاء اس سے قدرومنزلت والی بنتی ہیں ۔

True Love elevates the passions (to new heights); because of that the worthless becomes precious.

21

بی محبت زندگی ماتم همه

کاروبارش زشت و نامحکم همه

محبت کے بغیر زندگی ساری ماتم ہے ۔ اس کا کاروبار بدنما اور ناپائیدار ہے ۔

Without True Love life is eternal wailing; its entire affairs are rendered corrupt and unstable.

22

عشق صیقل می زند فرهنگ را

جوهر آئینه بخشد سنگ را

عشق آدمی کے ارادے اور عقل کو سان پر لگاتا ہے یعنی ان میں آب و تاب پیدا کرتا ہے ۔ عشق پتھر کو آئینہ میں تبدیل کر دیتا ہے ۔

True Love sharpens the common sense; it imparts shining glaze to the (rough surface) of stone.

23

اهل دل را سینهٔ سینا دهد

با هنرمندان ید بیضا دهد

عشق اہل دل کو وادی سینا کا سا سینہ عطا کرتا ہے یعنی ایسا سینہ عطا کرتا ہے جس میں تجلیات خدا کا ظہور ہوتا ہے ۔ عشق ہنرمندوں کو ید بیضا بخشتا ہے ۔ عشق کی وجہ سے اہل ہنر ایسے کارنامے دکھاتے ہیں جو معجزاتی جوہر رکھتے ہیں ۔

True Love turns the heart into Mount Sinai; it gives brightness to the hand of the artist (like that Mose's hand; he starts performing miracles).

24

پیش او هر ممکن و موجود مات

جمله عالم تلخ و او شاخ نبات

عشق کے سامنے ہر ممکن اور ہر موجود یعنی کائنات اور اس کی ہر شے مات ہے ۔ سارا جہان اگر تلخ ہے تو عشق مصری کی ڈلی ہے یعنی اگر عشق نہ ہوتا تو ساری کائنات بے مزہ ہوتی ، جہان میں جتنی بھی دلکشی، دلفریبی اور دل لگی ہے یہ ساری عشق ہی کی وجہ سے ہے ۔

All realities and possibilities become ordinary in True Love; entire world is bitter (in taste); only True Love is sweet like sugar cube.

25

گرمی افکار ما از نار اوست

آفریدن جان دمیدن کار اوست

ہمارے افکار میں گرمی اس کی آگ کی وجہ سے ہے ۔ پیدا کرنا یا جان کو ظاہر کرنا اس کا کام ہے ۔ (پیدا کر کے جان میں تخلیقی قوت پیدا کرنا یہ عشق ہی کا کام ہے) ۔

Fire of True Love (transmits) warmth into the thinking; True Love moulds a body (out of dust) and then grants it soul (life).

26

عشق مور و مرغ و آدم را بس است

«عشق تنها هر دو عالم را بس است»

عشق ہر مخلوق کے لیے کافی ہے ۔ چیونٹی ، پرندہ ، آدم کوئی ہو عشق اسکے وجود کے لیے ضروری ہے ۔ عشق اکیلا ہر دو جہان کے لیے کافی ہے ۔ یعنی دونوں جہانوں کے مقاصد صرف عشق کی بدولت بروئے کار آتے ہیں ۔ عشق نہ ہو تو ہر شے تصوراتی ہو کر رہ جائے ۔

True Love is sufficient for insects, birds and humans; True Love alone is better than two worlds (this and the world hereafter).

27

دلبری بی قاهری جادوگری است

دلبری با قاهری پیغمبری است

دلبری قاہری کے بغیر جادوگری ہے ۔ دلبری، قاہری کے ساتھ پیغمبری ہے ۔ یعنی صرف حسن ہو لیکن اس میں اپنی حفاظت کے لیے قوت نہ ہو تو وہ حسن دلفریبی کے لیے تو کافی ہو سکتا ہے لیکن صحیح معنوں میں حسن نہیں ہو سکتا ۔

The Love without power (to captivate) is magic (illusion, deception); Love with power is prophecy.

28

هر دو را در کار ها آمیخت عشق

عالمی در عالمی انگیخت عشق

عشق نے دونوں کو یعنی دلبری اور قاہری کو کاموں میں ملا رکھا ہے ۔ عشق نے ایک عالم کے اندر ایک اور عالم برپا کر رکھا ہے ۔ یعنی جمال میں جلال اور جلال میں جمال کی کیفیات پیدا کر رکھی ہیں ۔ ان دونوں کے امتزاج سے ہی صحیح دنیا وجود میں رہ سکتی ہے ۔ ان دونوں کے ہونے سے ہی نئے نئے جہانوں کی چاہے وہ علوم و فنون کے جہان کیوں نہ ہوں صحیح تعمیر ہو سکتی ہے ۔

True Love combines the two (characteristics) into one; and then creates a new world in this ancient world.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گفت با یزدان مه گیتی فروز

تاب من شب را کند مانند روز

علامہ اقبال»زبور عجم»بندگی نامه

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور