صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »در فن تعمیر مردان آزاد

در فن تعمیر مردان آزاد

تیسرا بند

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: بشیر احمد
Toggle stanza 1
11

یک زمان با رفتگان صحبت گزین

صنعت آزاد مردان هم ببین

ایک لمحہ عہدِ ماضی کے لوگوں کے درمیان گزار کر اپنے اسلاف کی زندگی اور کارناموں پر غور کر اور ان آزاد مردوں کی کاریگری کو دیکھ ۔

Spare a moment for the company of those who have passed away; see the art (works) of free men.

22

خیز و کار ایبک و سوری نگر

وا نما چشمی اگر داری جگر

اٹھ اور قطب الدین ایبک اور شیر شاہ سوری (شاہانِ ہند) کے کارناموں پر نظر کر، اگر تو حوصلہ رکھتا ہے ۔

Open your eyes and see at miracles performed by Qutbuddin Aibek and Sher Shah Suri, if you have the heart.

33

خویش را از خود برون آورده اند

این چنین خود را تماشا کرده اند

انھوں نے ان عمارات کی تعمیر میں خود کو اجاگر کیا ہے ۔ اس طرح انھوں نے اپنا آپ تماشا کیا ۔

The displayed their inner selves through construction (creativity) and then sought satisfaction by looking at their own creations (through eyes of others).

44

سنگها با سنگها پیوسته اند

روزگاری را به آنی بسته اند

انھوں نے پتھروں کو پتھروں کے ساتھ پیوست کیا ہے ۔ انھوں نے زمانے کو ایک آن میں بند کر دیا ہے ۔ یعنی ایسی عمارتیں تعمیر کی ہیں کہ ان پر زمانے کے گزرنے کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔

By arranging stones along stones; they captured eternity in a moment.

55

دیدن او پخته تر سازد ترا

در جهان دیگر اندازد ترا

ان عمارتوں کو دیکھنا تجھے زیادہ پائیدار بناتا ہے اور تمہیں ایک اور ہی جہان میں لا پھینکتا ہے ۔

Watching their creations (works) strengthens your personality; it takes you to another world.

66

نقش سوی نقشگر می آورد

از ضمیر او خبر می آورد

نقش تجھ کو نقش گر کی طرف لے جاتا ہے اوراس نقش گر کے ضمیر کی خبر دیتا ہے ۔

Art (symbol) takes you towards artist (creator); provides access into artist's mind.

77

همت مردانه و طبع بلند

در دل سنگ این دو لعل ارجمند

مردانہ ہمت اور بلند سرشت یا فطرت پتھر کے دل کے یہ دو مبارک ہیرے ہیں ۔

Pearls of sustained manly effort and noble nature can be seen in the stones these buildings (creations).

88

سجده گاه کیست این از من مپرس

بی خبر روداد جان از تن مپرس

یہ یعنی آدمی کی روح کس کی سجدہ گاہ ہے مجھ سے مت پوچھ (اس کو تو فرشتوں نے سجدہ کیا تھا ۔ آدمی تو مسجود ملاءک ہے) اے بے خبر جان کی کہانی بدن سے نہ پوچھ ۔

Don't ask me whose place of worship these masterpieces become; O ignorant! Body cannot describe the tale of spirit.

99

وای من از خویشتن اندر حجاب

از فرات زندگی ناخورده آب

مجھ پر افسوس ہے کہ میں خود اپنے آپ سے پردہ میں ہوں ۔ اپنی صلاحیتوں سے بے خبر ہوں ۔ مجھے اپنی معرفت نہیں ۔ میں اپنی خودی سے نا آشنا ہوں ۔ میں نے تو اپنی زندگی کے دریائے فرات سے پانی ہی نہیں پیا ۔ یعنی مجھے حقیقت حیات کا کچھ علم نہیں ۔

Woe me! I am hidden from myself (I have not been able to discover myself); I have yet to drink from the stream of life.

1010

وای من از بیخ و بن بر کنده ئی

از مقام خویش دور افکنده ئی

افسوس ہے مجھ پر جس نے خود کو بنیاد اور جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہوا ہے ۔ جو اپنے مقام سے دور گر پڑا ہے ۔ جس کو اپنی اصلیت کا کچھ علم نہیں ۔

Woe me! I regret digging (demolishing) my foundations; and I have fallen away from my (distinguished) position.

1111

محکمی ها از یقین محکم است

وای من شاخ یقینم بی نم است

مضبوطیاں تو مضبوط یقین سے پیدا ہوتی ہے ۔ مجھے اپنے آپ پر افسوس ہے کہ میرے یقین کی شاخ بے نم ہے ۔

Stability accrues from strong faith; regretfully the branch of my faith has gone dry (has died).

1212

در من آن نیروی الا الله نیست

سجده ام شایان این درگاه نیست

میرے اندر وہ طاقت اور بہادری نہیں جو میرے اسلاف میں کلمہ طیبہ کی وجہ سے تھی جو یقین رکھتے تھے اس بات کا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔ میں نے تو اللہ کے سوا زر، زمین، زن اور اس سے متعلقہ کئی بت بنا رکھے ہیں جن کو شب و روز سجدہ کرتا ہوں ۔ اس لیے میرا سجدہ اس درگاہ یعنی بار گاہ خدا کی شان کے قابل نہیں ہے ۔

I lack the strength of illallah (of the true faith, that there is no god except Allah); so my prostration is not worth this high shrine.

1313

یک نظر آن گوهر نابی نگر

تاج را در زیر مهتابی نگر

ایک نظر اس خالص موتی کو دیکھ، تاج محل کو چاند کی چاندنی میں دیکھ ۔ (اسے شہنشاہ ہند شہجہان نے بنوایا ہے) ۔

Have a glance at this rare jewel; look at Taj Mahal in moonlit night.

1414

مرمرش ز آب روان گردنده تر

یک دم آنجا از ابد پاینده تر

اس کے سفید پتھر بہتے ہوئے پانی سے زیادہ رواں ہیں یعنی شفاف ہیں ۔ وہاں کا ایک دم ابد سے بھی زیادہ پائندہ ہے ۔ یعنی اس کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ ایک وقت میں بنائی جانے والی عمارت کو کس طرح ہمہ وقت کے لیے مضبوط اور پائندہ بنایا جا سکتا ہے ۔

Its marble is shinier that the running (spring) water (it is difficult to focus on its dazzle); a moment of his world is longer than eternity.

1515

عشق مردان سر خود را گفته است

سنگ را با نوک مژگان سفته است

مردوں کے عشق نے اپنے رازوں کو خود فاش کیا ہے اور پتھروں کو اپنی پلکوں کی نوک سے پرویا ہے یعنی انہیں جب عشق کی طاقت کا علم ہوا تو انھوں نے اس عشق کی بدولت فن تعمیر کے زندہ و پائندہ شاہکار پیدا کئے ۔

The secret of True Love has been expressed (through their works); as if stone slabs have been laced (arranged) with the help of eyelashes.

1616

عشق مردان پاک و رنگین چون بهشت

می گشاید نغمه ها از سنگ و خشت

مردوں کا عشق بہشت کی طرح پاک اور رنگین ہے ۔ وہ پتھروں اور اینٹوں سے نغمے پیدا کرتا ہے ۔ (ان کی عمارتوں میں ان کے عشق کی داستان چھپی ہوئی ہے ۔ کیونکہ خون جگر دیے بغیر تاج محل یا مسجد قرطبہ یا الحمرا کی عمارتیں تعمیر نہیں کی جاسکتیں ۔ یہ عمارتیں بہ زبان جو اپنے تعمیر کنندوں کے عشق کی اور ان کے خون جگر کی داستانیں بیان کر رہی ہیں ۔

True Love is clean and colourful like heavens; it produces songs with (the help of) stones and bricks.

1717

عشق مردان نقد خوبان را عیار

حسن را هم پرده در هم پرده دار

مردوں کا عشق حسینوں کی نقدی کی کسوٹی ہے ۔ وہ حسن کا پردہ پھاڑنے والا اور حسن کا پردہ رکھنے والا ہے ۔

True Love is reflection (criterion) of the beauty; he (lover) reveals the beauty and then guards it.

1818

همت او آنسوی گردون گذشت

از جهان چند و چون بیرون گذشت

ایسے عشق کی ہمت آسمانوں سے اس طرف گزر گئی ۔ وہ اسباب کے جہان سے باہر نکل گئی، مردوں کا عشق اتنا باہمت ہوتا ہے کہ وہ زمان و مکان کو عبور کر کے محیر العقول کارنامے دکھاتا ہے اور یہ کارنامے زمانے کے ہاتھوں سے مٹ نہیں سکتے ۔

His perseverance takes him beyond heavens; his world (endeavours) cross the barriers of ifs and buts.

1919

زانکه در گفتن نیاید آنچه دید

از ضمیر خود نقابی بر کشید

جو کچھ عشق نے دیکھا ہے چونکہ وہ الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا اس لیے عشق نے اپنے ضمیر سے خود نقاب اٹھا دی یعنی اس نے ایسا عمل کیا جس سے پتہ چل گیا کہ ا س کی صلاحیت اور قوت کیا ہے ۔

Whatever he sees cannot be described in words; so (without uttering a world) he exposes beauty of his inner-self.

2020

از محبت جذبه ها گردد بلند

ارج می گیرد ازو ناارجمند

محبت سے جذبے بلند ہوتے ہیں ۔ بے قیمت چیزیں اس سے قیمت اور بے قدر و منزلت اشیاء اس سے قدرومنزلت والی بنتی ہیں ۔

True Love elevates the passions (to new heights); because of that the worthless becomes precious.

2121

بی محبت زندگی ماتم همه

کاروبارش زشت و نامحکم همه

محبت کے بغیر زندگی ساری ماتم ہے ۔ اس کا کاروبار بدنما اور ناپائیدار ہے ۔

Without True Love life is eternal wailing; its entire affairs are rendered corrupt and unstable.

2222

عشق صیقل می زند فرهنگ را

جوهر آئینه بخشد سنگ را

عشق آدمی کے ارادے اور عقل کو سان پر لگاتا ہے یعنی ان میں آب و تاب پیدا کرتا ہے ۔ عشق پتھر کو آئینہ میں تبدیل کر دیتا ہے ۔

True Love sharpens the common sense; it imparts shining glaze to the (rough surface) of stone.

2323

اهل دل را سینهٔ سینا دهد

با هنرمندان ید بیضا دهد

عشق اہل دل کو وادی سینا کا سا سینہ عطا کرتا ہے یعنی ایسا سینہ عطا کرتا ہے جس میں تجلیات خدا کا ظہور ہوتا ہے ۔ عشق ہنرمندوں کو ید بیضا بخشتا ہے ۔ عشق کی وجہ سے اہل ہنر ایسے کارنامے دکھاتے ہیں جو معجزاتی جوہر رکھتے ہیں ۔

True Love turns the heart into Mount Sinai; it gives brightness to the hand of the artist (like that Mose's hand; he starts performing miracles).

2424

پیش او هر ممکن و موجود مات

جمله عالم تلخ و او شاخ نبات

عشق کے سامنے ہر ممکن اور ہر موجود یعنی کائنات اور اس کی ہر شے مات ہے ۔ سارا جہان اگر تلخ ہے تو عشق مصری کی ڈلی ہے یعنی اگر عشق نہ ہوتا تو ساری کائنات بے مزہ ہوتی ، جہان میں جتنی بھی دلکشی، دلفریبی اور دل لگی ہے یہ ساری عشق ہی کی وجہ سے ہے ۔

All realities and possibilities become ordinary in True Love; entire world is bitter (in taste); only True Love is sweet like sugar cube.

2525

گرمی افکار ما از نار اوست

آفریدن جان دمیدن کار اوست

ہمارے افکار میں گرمی اس کی آگ کی وجہ سے ہے ۔ پیدا کرنا یا جان کو ظاہر کرنا اس کا کام ہے ۔ (پیدا کر کے جان میں تخلیقی قوت پیدا کرنا یہ عشق ہی کا کام ہے) ۔

Fire of True Love (transmits) warmth into the thinking; True Love moulds a body (out of dust) and then grants it soul (life).

2626

عشق مور و مرغ و آدم را بس است

«عشق تنها هر دو عالم را بس است»

عشق ہر مخلوق کے لیے کافی ہے ۔ چیونٹی ، پرندہ ، آدم کوئی ہو عشق اسکے وجود کے لیے ضروری ہے ۔ عشق اکیلا ہر دو جہان کے لیے کافی ہے ۔ یعنی دونوں جہانوں کے مقاصد صرف عشق کی بدولت بروئے کار آتے ہیں ۔ عشق نہ ہو تو ہر شے تصوراتی ہو کر رہ جائے ۔

True Love is sufficient for insects, birds and humans; True Love alone is better than two worlds (this and the world hereafter).

2727

دلبری بی قاهری جادوگری است

دلبری با قاهری پیغمبری است

دلبری قاہری کے بغیر جادوگری ہے ۔ دلبری، قاہری کے ساتھ پیغمبری ہے ۔ یعنی صرف حسن ہو لیکن اس میں اپنی حفاظت کے لیے قوت نہ ہو تو وہ حسن دلفریبی کے لیے تو کافی ہو سکتا ہے لیکن صحیح معنوں میں حسن نہیں ہو سکتا ۔

The Love without power (to captivate) is magic (illusion, deception); Love with power is prophecy.

2828

هر دو را در کار ها آمیخت عشق

عالمی در عالمی انگیخت عشق

عشق نے دونوں کو یعنی دلبری اور قاہری کو کاموں میں ملا رکھا ہے ۔ عشق نے ایک عالم کے اندر ایک اور عالم برپا کر رکھا ہے ۔ یعنی جمال میں جلال اور جلال میں جمال کی کیفیات پیدا کر رکھی ہیں ۔ ان دونوں کے امتزاج سے ہی صحیح دنیا وجود میں رہ سکتی ہے ۔ ان دونوں کے ہونے سے ہی نئے نئے جہانوں کی چاہے وہ علوم و فنون کے جہان کیوں نہ ہوں صحیح تعمیر ہو سکتی ہے ۔

True Love combines the two (characteristics) into one; and then creates a new world in this ancient world.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گفت با یزدان مه گیتی فروز

تاب من شب را کند مانند روز

علامہ اقبال»زبور عجم»بندگی نامه

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور