تراجم
یہ صفحہ صرف میاں عبدالرشید کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔
رات کو چمکنے والا کیڑا یعنی جگنو
The Glow-Worm
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 19 - کرمک شبتاب
حقیقت
Reality
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 20 - حقیقت
انسان
A Dialogue Between God and Man
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 23 - محاورهٔ ما بین خدا و انسان
ساقی نامہ(نشاط باغ کشمیر میں لکھا گیا)
Sakinama
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 24 - ساقی نامه در نشاط باغ کشمیر نوشته شد
شاہین اور مچھلی
The Young Fish and the Eaglet
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 25 - شاهین و ماهی
The Glow-Worm
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 26 - کرمک شبتاب
شبنم
Dew
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 28 - شبنم
عشق
Love
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 29 - عشق
اگر زندگی چاہتا ہے تو خطرات میں بسر کر
Live Dangerously
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 30 - اگر خواهی حیات اندر خطر زی
Life
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 32 - زندگی
مغرب کی دانائی
The Wisdom of the West
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 33 - حکمت فرنگ
ملک اللہ کا ہے
God’s Country
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 36 - الملک ﷲ
پانی کی نہر
The Stream
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 37 - جوی آب
عالمگیر کا خط( اپنے ایک بیٹے کی طرف جو باپ کے مرنے کی دعا کیا کرتا تھا)
Alamgir’s Letter
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 38 - نامهٔ عالمگیر (به یکی از فرزندانش که دعای مرگ پدر میکرد)
جنت
Paradise
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 39 - بهشت
کشمیر
Kashmir
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 40 - کشمیر
عشق
Love
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 41 - عشق
اللہ کی غلامی،مقام عبودیت
Humanity
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 42 - بندگی
غلامی
Slavery
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 43 - غلامی
جمہوریت
Democracy
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 45 - جمهوریت
یورپ میں اسلام کی تبلیغ کرنے والے سے
To a Muslim Missionary in England
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 46 - به مبلغ اسلام در فرنگستان
غنی کشمیری
Ghani Kashmiri
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 47 - غنی کشمیری
مصطفی کمال پاشا سے خطاب (خدا اس کی تائید کرے)
Lines Addressed to Mustafa Kamal Pasha
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 48 - خطاب به مصطفی کمال پاشا ایده الله
طیارہ
The Aeroplane
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 49 - طیاره
Love
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 50 - عشق
تہذیب
Civilization
علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 51 - تهذیب
جب بہار نے ساز و نغمہ کی محفل کو چمن میں سجایا تو مستانی بلبل کی آواز نے کلی کی آنکھ کھول دی (پھول کھلنے لگے) ۔
When spring made of the garden a veritable concert hall, the nightingale’s impassioned songs made buds open their eyes.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 1
میری قبر پر ماتم کرنے والوں نے حلقہ باندھا ، دلبروں ، زہرہ جمالوں ، گلبدنوں ، سیم بروں نے ۔
Around my grave atood in a ring a bevy of fair mourners, all comely, winsome, lily-white.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 2
ہماری فکر ہر دم ایک نیا خدا (معبود، بت) تراشتی رہتی ہے ۔ ایک قید سے چھوٹی کہ دوسری میں گرفتار ہو گئی ۔
Our thought is constantly engaged in fashioning new gods. Released from one bond, it entangles itself in another.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 3
مجھے اپنی دیدہ َ بینا سے اور ہی قسم کی شکایت ہے ۔ جب تو درشن دیتا ہے نظر میری آڑ بن جاتی ہے(دیکھنے کی تاب نہیں لا سکتی) ۔
I have this odd complaint against my seeing eyes: When You unveil Yourself, my sight acts as a veil.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 4
میں اس بہانے سے محفل میں کوئی اپنا محرم ڈھونڈتا ہوں ۔ غزل چھیڑ کے دوست کا پیغام سناتا ہوں ۔
This is my way of finding in this company a confidant: I sing ghazals and through them I convey the message of my Friend.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 5
اٹھ اور ساز کے پردے میں چھپے ہوؤں کا گھونگھٹ کھول (نقاب اٹھا) ۔ خوشنوا پرندوں کو نیا نغمہ یاد کرا (سکھا) ۔ دین اسلام کے اعلیٰ اور پاکیزہ حقائق نوجوانوں کے سامنے پیش کر تا کہ ان میں جدوجہد کا ولولہ پیدا ہو ۔ ان حقائق سے روشناس کر جو قرآن مجید کے الفاظ میں پوشیدہ ہیں ۔
Arise and waken notes aslumber in the organ’s keys. Teach singing birds fresh tunes.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 6
میں سلطان کے ملازمین کو ایک بہت ہی راز کی بات بتاتا ہوں کہ جی کو نہال کر دینے والے ایک بول سے دنیا فتح کی جا سکتی ہے ۔
Let me tell a secret to the servants of the king: You can make the whole world yours with a moving song.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 7
آ جا کہ گل چہرہ ساقی نے ساز پر ہاتھ رکھا ہے بہار کی ہوا سے چمن ارژنگ کا جواب بن گیا ہے(نہایت دلکش معلوم ہوتا ہے) ۔
Come, for a saki with a rose-like face is playing on a lute. The air of spring has made the garden look as if it were a painting from Arzhang.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 8
میں صورت کا پجاری نہیں ہوں میں نے مندر ڈھا دیا ہے ۔ میں وہ تیز رو سیلاب ہوں جس نے سارے بند توڑ دیے ہیں ۔
I never worshipped forms; I broke the idol house. I am a rushing flood, which bursts all bounds.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 9
مبارک ہے وہ شخص جس نے عقل کے لابس کو شراب کے شعلے سے جلا دیا (عقل کو عشق کی آگ سے جلا دے یعنی عقل کے بجائے عشق کی پیروی کر) اور گل لالہ کی طرح آگ ہی کو اپنی پونجی بنا لیا ۔
Happy the man who burned with flames of wine his intellectual goods. He gained a new thing from the flames, rich like the tulip’s fiery hue.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 13
تیر اور برچھی اور خنجر اور تلوار میری آرزو ہے (خدا کی راہ میں جہاد کروں ) ۔ میرے ساتھ نہ آ کہ میں شبیر کی راہ پر چلنا چاہتا ہوں ( خدا کی راہ میں سر کٹانا چاہتا ہوں ) ۔
I long for manly weapons – bow, dagger, spear and sword. O, do not come with me, for mine is Shabbir’s way.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 15
زنار میں تسبیح کا دانہ پرونا سیکھ (اگر تو عاشق صادق ہے تو دیر و حرم میں امتیاز کرنا چھوڑ دے یعنی تسبیح کے دانوں کو زنار میں پرو دے) اگر تیری نظر ایک کو دو دیکھنے والی ہے تو نہ دیکھنا سیکھ ۔
Learn how to put a rosary bead on the sacred thread, and if your eyes see double, then learn how not to see.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 16
آپ اپنی مٹی سے وہ آگ مانگ جو ظاہر نہیں ہے کسی اور کی روشنی مانگے جانے کے لائق نہیں ہے
From your own dust elicit the fire that is not yet aflame. It is not worthwhile borrowing the radiance of others.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 17
موج کو دریا کی چھاتی سے الگ کیا جا سکتا ہے ۔ موج (خودی) کو بحر(خدا) سے جدا کر سکتے ہیں ۔ اتھاہ سمندر اپنی ندی میں سمویا جا سکتا ہے ۔
A wave can well be severed from the bosom of the sea, and you can well enclose the boundless sea within the channel of your private stream.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 18
جادو جگانے والی آنکھ کو پھر سرمے سے تیز کر لہکتے گاتے شوق میں دیوانگی کی لذت دوبالا کر دے ۔
Let surma brighten once again your magic-working eyes, and let my frenzied urge to sing about them be intensified.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 20
عقل کی کشمکش کا فریب دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے کہ سالار کارواں ہے مگر رہزنی کا چسکا رکھتی ہے ۔
The intellect’s deceitfulness is worthy of remark: It is the leader of the caravan, yet fond of highway robbery.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 21
میں اس ماہ کامل کے دیدار کی حسرت رکھتا ہوں ۔ ہاتھ سینے پر نظر چھت کی منڈیر پر رکھتا ہوں ۔
O I long for a sight of that full moon. So I stand hand on heart, eyes fixed on a house-top.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 22
عاشق کعبے اور بت خانے میں کوئی فرق نہیں رکھتا ۔ شاعر نے بت خانہ کو جلوت جانانہ اور کعبہ کو خلوت جانانہ سے تعبیر کیا ہے مطلب یہ دونوں میں اس کا جلوہ ہے ۔
A true lover does not differentiate between the Ka‘bah and the idol-house. The one is the Beloved’s privacy, the other His appearing publicly.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 24
تجھ بغیر عدم کی نیند سے آنکھ نہیں کھل سکتی ۔ تیرے بغیر ہماری مستی محال ہے اور تیرے ساتھ ہماری نیستی ناممکن ہے ۔
There is no waking up without You from non-being’s sleep, no being without You, no non-being with You.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 25
یہ گنبد مینائی (آسمان) یہ پستی اور بلندی، سب اپنی وسعت کے باوجود عاشق کے دل میں سما جاتے ہیں ۔
This azure sky, all that is high, all that is low, for all its vastness, is encompassed in the lover’s heart.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 26
لیلیٰ کی منزل تک پہنچنے کی دھن نہ تجھے ہے نہ مجھے ۔ صحرا کی گرمی کی برداشت کرنے کی ہمت نہ تو رکھتا ہے نہ میں ۔
Lines Addressed To a Sufi: Neither have I nor you the wish to go to Layla’s house. Neither have I nor you the heart to bear the desert heat.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 27
میں منزل شوق کا راستہ دکھانے والا ہوں میرے دامن سے لگ جا ۔ میری خالص آگ کی کوئی چنگاری اپنی مٹی میں گوندھ لے ۔ یعنی میرے کلام کا مطالعہ کر تا کہ عشق رسول اللہ کا جذبہ پیدا ہو جائے ۔
I am a guidepost to the goal of heart’s desire. Adhere to me. Mix with your dust a spark of my pure fire.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 28
ہمارے دل کی دنیا میں چاند کی گردش نہیں پائی جاتی ایسا چاند نہیں جو گھٹتا بڑھتا ہو ۔ ایک الٹ پلٹ تو مچی رہتی ہے لیکن رات اور دن کا چکر دکھائی نہیں دیتا ۔دل کی دنیا زمان و مکان کی قیود سے بالاتر ہے۔
In the world of our heart there are no phases of the moon. There is a revolution, but no morning and no evening.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 29
ہمارا رونا بے اثر ہے ہماری فریاد نارسا ہے ۔ اس جلنے کرھنے کا پھل خون میں گندھی ہوئی پکار والا ایک دل ہے ۔
Our wailing is without effect, and fruitless are our cries. The gain from all this ardency: A heart whose songs are steeped in blood.
علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 30