صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. میاں عبدالرشید
  2. »پیام مشرق

تراجم

میاں عبدالرشید کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق

یہ صفحہ صرف میاں عبدالرشید کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔

253نظمیں

تراجم والی نظمیں

میاں عبدالرشید کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب پیام مشرق

  1. زندہ رود
  2. »میاں عبدالرشید
  3. »پیام مشرق

بخش 19–کرمک شبتاب

رات کو چمکنے والا کیڑا یعنی جگنو

The Glow-Worm

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 19 - کرمک شبتاب

اردوEn

بخش 20–حقیقت

حقیقت

Reality

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 20 - حقیقت

اردوEn

بخش 23–محاورهٔ ما بین خدا و انسان

انسان

A Dialogue Between God and Man

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 23 - محاورهٔ ما بین خدا و انسان

اردوEn

بخش 24–ساقی نامه در نشاط باغ کشمیر نوشته شد

ساقی نامہ(نشاط باغ کشمیر میں لکھا گیا)

Sakinama

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 24 - ساقی نامه در نشاط باغ کشمیر نوشته شد

اردوEn

بخش 25–شاهین و ماهی

شاہین اور مچھلی

The Young Fish and the Eaglet

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 25 - شاهین و ماهی

اردوEn

بخش 26–کرمک شبتاب

The Glow-Worm

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 26 - کرمک شبتاب

اردوEn

بخش 28–شبنم

شبنم

Dew

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 28 - شبنم

اردوEn

بخش 29–عشق

عشق

Love

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 29 - عشق

اردوEn

بخش 30–اگر خواهی حیات اندر خطر زی

اگر زندگی چاہتا ہے تو خطرات میں بسر کر

Live Dangerously

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 30 - اگر خواهی حیات اندر خطر زی

اردوEn

بخش 32–زندگی

Life

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 32 - زندگی

اردوEn

بخش 33–حکمت فرنگ

مغرب کی دانائی

The Wisdom of the West

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 33 - حکمت فرنگ

اردوEn

بخش 36–الملک ﷲ

ملک اللہ کا ہے

God’s Country

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 36 - الملک ﷲ

اردوEn

بخش 37–جوی آب

پانی کی نہر

The Stream

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 37 - جوی آب

اردوEn

بخش 38–نامهٔ عالمگیر (به یکی از فرزندانش که دعای مرگ پدر میکرد)

عالمگیر کا خط( اپنے ایک بیٹے کی طرف جو باپ کے مرنے کی دعا کیا کرتا تھا)

Alamgir’s Letter

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 38 - نامهٔ عالمگیر (به یکی از فرزندانش که دعای مرگ پدر میکرد)

اردوEn

بخش 39–بهشت

جنت

Paradise

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 39 - بهشت

اردوEn

بخش 40–کشمیر

کشمیر

Kashmir

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 40 - کشمیر

اردوEn

بخش 41–عشق

عشق

Love

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 41 - عشق

اردوEn

بخش 42–بندگی

اللہ کی غلامی،مقام عبودیت

Humanity

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 42 - بندگی

اردوEn

بخش 43–غلامی

غلامی

Slavery

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 43 - غلامی

اردوEnآڈیو

بخش 45–جمهوریت

جمہوریت

Democracy

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 45 - جمهوریت

اردوEn

بخش 46–به مبلغ اسلام در فرنگستان

یورپ میں اسلام کی تبلیغ کرنے والے سے

To a Muslim Missionary in England

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 46 - به مبلغ اسلام در فرنگستان

اردوEn

بخش 47–غنی کشمیری

غنی کشمیری

Ghani Kashmiri

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 47 - غنی کشمیری

اردوEn

بخش 48–خطاب به مصطفی کمال پاشا ایده الله

مصطفی کمال پاشا سے خطاب (خدا اس کی تائید کرے)

Lines Addressed to Mustafa Kamal Pasha

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 48 - خطاب به مصطفی کمال پاشا ایده الله

اردوEn

بخش 49–طیاره

طیارہ

The Aeroplane

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 49 - طیاره

اردوEn

بخش 50–عشق

Love

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 50 - عشق

اردوEn

بخش 51–تهذیب

تہذیب

Civilization

علامہ اقبال » پیام مشرق » بخش 51 - تهذیب

اردوEn

غزل شمارهٔ 1–بهار تا به گلستان کشید بزم سرود

جب بہار نے ساز و نغمہ کی محفل کو چمن میں سجایا تو مستانی بلبل کی آواز نے کلی کی آنکھ کھول دی (پھول کھلنے لگے) ۔

When spring made of the garden a veritable concert hall, the nightingale’s impassioned songs made buds open their eyes.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 1

اردوEn

غزل شمارهٔ 2–حلقه بستند سر تربت من نوحه کران

میری قبر پر ماتم کرنے والوں نے حلقہ باندھا ، دلبروں ، زہرہ جمالوں ، گلبدنوں ، سیم بروں نے ۔

Around my grave atood in a ring a bevy of fair mourners, all comely, winsome, lily-white.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 2

اردوEn

غزل شمارهٔ 3–می تراشد فکر ما هر دم خداوندی دگر

ہماری فکر ہر دم ایک نیا خدا (معبود، بت) تراشتی رہتی ہے ۔ ایک قید سے چھوٹی کہ دوسری میں گرفتار ہو گئی ۔

Our thought is constantly engaged in fashioning new gods. Released from one bond, it entangles itself in another.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 3

اردوEn

غزل شمارهٔ 4–مرا ز دیدهٔ بینا شکایت دگر است

مجھے اپنی دیدہ َ بینا سے اور ہی قسم کی شکایت ہے ۔ جب تو درشن دیتا ہے نظر میری آڑ بن جاتی ہے(دیکھنے کی تاب نہیں لا سکتی) ۔

I have this odd complaint against my seeing eyes: When You unveil Yourself, my sight acts as a veil.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 4

اردوEn

غزل شمارهٔ 5–به این بهانه درین بزم محرمی جویم

میں اس بہانے سے محفل میں کوئی اپنا محرم ڈھونڈتا ہوں ۔ غزل چھیڑ کے دوست کا پیغام سناتا ہوں ۔

This is my way of finding in this company a confidant: I sing ghazals and through them I convey the message of my Friend.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 5

اردوEn

غزل شمارهٔ 6–خیز و نقاب بر گشا پردگیان ساز را

اٹھ اور ساز کے پردے میں چھپے ہوؤں کا گھونگھٹ کھول (نقاب اٹھا) ۔ خوشنوا پرندوں کو نیا نغمہ یاد کرا (سکھا) ۔ دین اسلام کے اعلیٰ اور پاکیزہ حقائق نوجوانوں کے سامنے پیش کر تا کہ ان میں جدوجہد کا ولولہ پیدا ہو ۔ ان حقائق سے روشناس کر جو قرآن مجید کے الفاظ میں پوشیدہ ہیں ۔

Arise and waken notes aslumber in the organ’s keys. Teach singing birds fresh tunes.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 6

اردوEn

غزل شمارهٔ 7–به ملازمان سلطان خبری دهم ز رازی

میں سلطان کے ملازمین کو ایک بہت ہی راز کی بات بتاتا ہوں کہ جی کو نہال کر دینے والے ایک بول سے دنیا فتح کی جا سکتی ہے ۔

Let me tell a secret to the servants of the king: You can make the whole world yours with a moving song.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 7

اردوEn

غزل شمارهٔ 8–بیا که ساقی گلچهره دست بر چنگ است

آ جا کہ گل چہرہ ساقی نے ساز پر ہاتھ رکھا ہے بہار کی ہوا سے چمن ارژنگ کا جواب بن گیا ہے(نہایت دلکش معلوم ہوتا ہے) ۔

Come, for a saki with a rose-like face is playing on a lute. The air of spring has made the garden look as if it were a painting from Arzhang.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 8

اردوEn

غزل شمارهٔ 9–صورت نپرستم من بتخانه شکستم من

میں صورت کا پجاری نہیں ہوں میں نے مندر ڈھا دیا ہے ۔ میں وہ تیز رو سیلاب ہوں جس نے سارے بند توڑ دیے ہیں ۔

I never worshipped forms; I broke the idol house. I am a rushing flood, which bursts all bounds.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 9

اردوEn

غزل شمارهٔ 13–خوش آنکه رخت خرد را به شعله‌ای می سوخت

مبارک ہے وہ شخص جس نے عقل کے لابس کو شراب کے شعلے سے جلا دیا (عقل کو عشق کی آگ سے جلا دے یعنی عقل کے بجائے عشق کی پیروی کر) اور گل لالہ کی طرح آگ ہی کو اپنی پونجی بنا لیا ۔

Happy the man who burned with flames of wine his intellectual goods. He gained a new thing from the flames, rich like the tulip’s fiery hue.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 13

اردوEn

غزل شمارهٔ 15–تیر و سنان و خنجر و شمشیرم آرزوست

تیر اور برچھی اور خنجر اور تلوار میری آرزو ہے (خدا کی راہ میں جہاد کروں ) ۔ میرے ساتھ نہ آ کہ میں شبیر کی راہ پر چلنا چاہتا ہوں ( خدا کی راہ میں سر کٹانا چاہتا ہوں ) ۔

I long for manly weapons – bow, dagger, spear and sword. O, do not come with me, for mine is Shabbir’s way.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 15

اردوEn

غزل شمارهٔ 16–دانهٔ سبحه به زنار کشیدن آموز

زنار میں تسبیح کا دانہ پرونا سیکھ (اگر تو عاشق صادق ہے تو دیر و حرم میں امتیاز کرنا چھوڑ دے یعنی تسبیح کے دانوں کو زنار میں پرو دے) اگر تیری نظر ایک کو دو دیکھنے والی ہے تو نہ دیکھنا سیکھ ۔

Learn how to put a rosary bead on the sacred thread, and if your eyes see double, then learn how not to see.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 16

اردوEn

غزل شمارهٔ 17–ز خاک خویش طلب آتشی که پیدا نیست

آپ اپنی مٹی سے وہ آگ مانگ جو ظاہر نہیں ہے کسی اور کی روشنی مانگے جانے کے لائق نہیں ہے

From your own dust elicit the fire that is not yet aflame. It is not worthwhile borrowing the radiance of others.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 17

اردوEn

غزل شمارهٔ 18–موج را از سینهٔ دریا گسستن می‌توان

موج کو دریا کی چھاتی سے الگ کیا جا سکتا ہے ۔ موج (خودی) کو بحر(خدا) سے جدا کر سکتے ہیں ۔ اتھاہ سمندر اپنی ندی میں سمویا جا سکتا ہے ۔

A wave can well be severed from the bosom of the sea, and you can well enclose the boundless sea within the channel of your private stream.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 18

اردوEn

غزل شمارهٔ 20–باز به سرمه تاب ده چشم کرشمه زای را

جادو جگانے والی آنکھ کو پھر سرمے سے تیز کر لہکتے گاتے شوق میں دیوانگی کی لذت دوبالا کر دے ۔

Let surma brighten once again your magic-working eyes, and let my frenzied urge to sing about them be intensified.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 20

اردوEn

غزل شمارهٔ 21–فریب کشمکش عقل دیدنی دارد

عقل کی کشمکش کا فریب دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے کہ سالار کارواں ہے مگر رہزنی کا چسکا رکھتی ہے ۔

The intellect’s deceitfulness is worthy of remark: It is the leader of the caravan, yet fond of highway robbery.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 21

اردوEn

غزل شمارهٔ 22–حسرت جلوهٔ آن ماه تمامی دارم

میں اس ماہ کامل کے دیدار کی حسرت رکھتا ہوں ۔ ہاتھ سینے پر نظر چھت کی منڈیر پر رکھتا ہوں ۔

O I long for a sight of that full moon. So I stand hand on heart, eyes fixed on a house-top.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 22

اردوEn

غزل شمارهٔ 24–فرقی ننهد عاشق در کعبه و بتخانه

عاشق کعبے اور بت خانے میں کوئی فرق نہیں رکھتا ۔ شاعر نے بت خانہ کو جلوت جانانہ اور کعبہ کو خلوت جانانہ سے تعبیر کیا ہے مطلب یہ دونوں میں اس کا جلوہ ہے ۔

A true lover does not differentiate between the Ka‘bah and the idol-house. The one is the Beloved’s privacy, the other His appearing publicly.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 24

اردوEn

غزل شمارهٔ 25–بی تو از خواب عدم دیده گشودن نتوان

تجھ بغیر عدم کی نیند سے آنکھ نہیں کھل سکتی ۔ تیرے بغیر ہماری مستی محال ہے اور تیرے ساتھ ہماری نیستی ناممکن ہے ۔

There is no waking up without You from non-being’s sleep, no being without You, no non-being with You.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 25

اردوEn

غزل شمارهٔ 26–این گنبد مینائی این پستی و بالائی

یہ گنبد مینائی (آسمان) یہ پستی اور بلندی، سب اپنی وسعت کے باوجود عاشق کے دل میں سما جاتے ہیں ۔

This azure sky, all that is high, all that is low, for all its vastness, is encompassed in the lover’s heart.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 26

اردوEn

غزل شمارهٔ 27–هوس منزل لیلی نه تو داری و نه من

لیلیٰ کی منزل تک پہنچنے کی دھن نہ تجھے ہے نہ مجھے ۔ صحرا کی گرمی کی برداشت کرنے کی ہمت نہ تو رکھتا ہے نہ میں ۔

Lines Addressed To a Sufi: Neither have I nor you the wish to go to Layla’s house. Neither have I nor you the heart to bear the desert heat.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 27

اردوEn

غزل شمارهٔ 28–دلیل منزل شوقم به دامنم آویز

میں منزل شوق کا راستہ دکھانے والا ہوں میرے دامن سے لگ جا ۔ میری خالص آگ کی کوئی چنگاری اپنی مٹی میں گوندھ لے ۔ یعنی میرے کلام کا مطالعہ کر تا کہ عشق رسول اللہ کا جذبہ پیدا ہو جائے ۔

I am a guidepost to the goal of heart’s desire. Adhere to me. Mix with your dust a spark of my pure fire.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 28

اردوEn

غزل شمارهٔ 29–در جهان دل ما دور قمر پیدا نیست

ہمارے دل کی دنیا میں چاند کی گردش نہیں پائی جاتی ایسا چاند نہیں جو گھٹتا بڑھتا ہو ۔ ایک الٹ پلٹ تو مچی رہتی ہے لیکن رات اور دن کا چکر دکھائی نہیں دیتا ۔دل کی دنیا زمان و مکان کی قیود سے بالاتر ہے۔

In the world of our heart there are no phases of the moon. There is a revolution, but no morning and no evening.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 29

اردوEn

غزل شمارهٔ 30–گریهٔ ما بی اثر ناله ما نارساست

ہمارا رونا بے اثر ہے ہماری فریاد نارسا ہے ۔ اس جلنے کرھنے کا پھل خون میں گندھی ہوئی پکار والا ایک دل ہے ۔

Our wailing is without effect, and fruitless are our cries. The gain from all this ardency: A heart whose songs are steeped in blood.

علامہ اقبال » پیام مشرق » غزل شمارهٔ 30

اردوEn
  1. 1
  2. 2
  3. 3
  4. 4
  5. 5
  6. 6
پچھلا صفحہاگلا صفحہ