پانی کی نہر
The Stream
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)
صنف: چند بندی
بنگر که جوی آب چه مستانه میرود
مانند کهکشان بگریبان مرغزار
دیکھ کہ ندی کیسی مستانہ چلی جارہی ہے ۔ جیسے سبزہ زار کی چھاتی پر کہکشاں بادلوں کے
Behold the stream! How merrily it flows right through the meadow, like the Milky Way!
در خواب ناز بود به گهوارهٔ سحاب
وا کرد چشم شوق به آغوش کوهسار
پنگھوڑے میں میٹھی نیند سوئی ہوئی تھی ۔ اس نے کہسار کی آغوش میں اپنی چشم شوق کھولی ۔ نوٹ: علامہ اقبال نے حاشیہ میں خود تصریح فرمائی ہے یہ گوءٹے کی مشہور نظم موسوم بہ نغمہ محمد کا ایک آزاد ترجمہ ہے یہ نظم رموز و کنایات سے معمور ہے ۔ گوءٹے آنحضرت کی پیغمبرانہ شان سے اور اس کامیابی سے جو آپ کو اپنے مقصد میں حاصل ہوئی بہت متاثر تھا ۔
’Twas sound asleep in the cradle of the clouds; opened its wondering eye in the lap of the mountains.
از سنگریزه نغمه گشاید خرام او
سیمای او چو آینه بیرنگ و بی غبار
اس کا بہاوَ سنگریزوں سے نغمے نکالتا ہے اس کی پیشانی آئینہ کی طرح بے رنگ اور بے غبار ہے ۔
From the pebbles its graceful motion music strikes; its brows chaste and unsullied like the mirror!
زی بحر بیکرانه چه مستانه میرود
در خود یگانه از همه بیگانه میرود
بے کنار سمندر کی طرف کیسی مستانہ چلی جا رہی ہے اپنے آپ میں ایک اور باقی سب سے بیگانہ چلی جا رہی ہے ۔
Towards the shoreless ocean how merrily it flows; linked with itself, unlinked with all, it flows.
در راه او بهار پریخانه آفرید
نرگس دمید و لاله دمید و سمن دمید
اس کے راستے میں بہار نے پری خانہ بنا دیا ۔ نرگس پھوٹی اور لالہ اگا اور چنبیلی کے پھول کھلے ۔
Around its track spring fashioned a fairyland: Narcissus bloomed, and tulip, and Jessamine.
گل عشوه داد و گفت یکی پیش ما بایست
خندید غنچه و سر دامان او کشید
گلاب نے ناز و انداز سے کہا ہمارے پاس ٹھہر، کلی مسکرائی اور اس نے اس کے دامن کا کنارہ کھینچا ۔
The rose said temptingly: Stay with us here awhile; the rose-bud laughed and pulled the helm of its skirt.
نا آشنای جلوه فروشان سبز پوش
صحرا برید و سینهٔ کوه و کمر درید
مگر وہ ان سبز پوش جلوہ فروشوں سے الگ رہی ۔ وہ صحرا میں سے گزری اور کوہ و کمر کی چھاتی پھاڑ دی ۔
Unmindful of these green-robed beauty-vendors, it cleft the desert and rent the breast of hill and dale.
زی بحر بیکرانه چه مستانه میرود
در خود یگانه از همه بیگانه میرود
بے کنار سمندر کی طرف کیسی مستانہ چلی جا رہی ہے اپنے آپ میں ایک اور باقی سب سے بیگانہ چلی جا رہی ہے(اپنے اندر یگانہ اور باقی سب سے بیگانہ) ۔
Towards the shoreless ocean how merrily it flows; linked with itself, unlinked with all, it flows.
صد جوی دشت و مرغ و کهستان و باغ و راغ
گفتند ای بسیط زمین با تو سازگار
صحرا اور ہریاول اور پہاڑ اور باغ اور سرسبز وادی کی ان گنت ندیاں بولیں اے تو کہ تیرے لیے زمین کی وسعتیں سازگار ہیں ۔
A hundred brooks from woods and meadows, from vales and gardens and villas cried: ‘O thou with whom accords the earth’s expanse!
ما را که راه از تنک آبی نبرده ایم
از دستبرد ریگ بیابان نگاه دار
ہم جو کم پانی کے سبب راستہ نہیں پا سکیں ۔ ہمیں ریگستان کی ریت کی تباہی سے بچا ۔
Stricken with drought, we have fallen by the way; protect us from the pillage of the sandy waste!’
وا کرده سینه را به هوا های شرق و غرب
در بر گرفته همسفران زبون و زار
اس نے مشرق و مغرب کی ہواؤں کے لیے اپنا سینہ کشادہ کیے ہوئے گرے پڑے ہمسفروں کو آغوش میں لیے ہوئے
It opened its breast to the winds of the East and the West, clasping its weak and wailing fellow travelers.
زی بحر بیکرانه چه مستانه میرود
با صد هزار گوهر یکدانه میرود
بے کنار سمندر کی طرف کیسی مستانہ چلی جا رہی ہے ہزاروں بے مثال موتی لیے ہوئے رواں دواں ہے ۔
Towards the shoreless ocean how merrily it flows; with a hundred thousand matchless pearls it flows.
دریای پر خروش ز بند و شکن گذشت
از تنگنای وادی و کوه و دمن گذشت
(گویا) یہ ٹھاٹھیں مارتا دریا بندشوں اور رکاوٹوں سے گزر گیا ۔ وہ گھاٹی اور پہاڑ اور ٹیلوں سے تنگ راستوں سے نکل گیا ۔
The surging river went over dam dyke, went over the narrow gorge of valley, hill and glen,
یکسان چو سیل کرده نشیب و فراز را
از کاخ شاه و باره ه کشت و چمن گذشت
اس نے سیلاب کی طرح بلندی اور پستی کو ایک سا (برابر) کر دیا ۔ یہ شاہوں کے محل اور قلعے اور کھیتی اور چمن پر سے (باسانی) گزر گیا ۔
Made one, like a torrent, each hollow and eminence, went over the king’s palace and rampart and field and orchard.
بیتاب و تند و تیز و جگر سوز و بیقرار
در هر زمان به تازه رسید از کهن گذشت
بے چین اور بپھرا ہوا ، جگر سوز اور بےقرار ہر گھڑی نئے رنگ اختیار کرتا اور پرانا رنگ چھوڑتا ۔
Passionate and fierce and sharp, restless and heart-inflaming each time it arrived at the New and went beyond the Old.
زی بحر بیکرانه چه مستانه میرود
در خود یگانه از همه بیگانه میرود
بے کنار سمندر کی طرف کیسی مستانہ چلی جا رہی ہے اپنے آپ میں ایک اور باقی سب سے بیگانہ چلی جا رہی ہے ۔
Towards the shoreless ocean how merrily it flows; linked with itself, unlinked with all, it flows.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور