عالمگیر کا خط( اپنے ایک بیٹے کی طرف جو باپ کے مرنے کی دعا کیا کرتا تھا)
Alamgir’s Letter
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعولن فعولن فعولن فعل (متقارب مثمن محذوف یا وزن شاهنامه)
صنف: مثنوی
ندانی که یزدان دیرینه بود
بسی دید و سنجید و بست و گشود
کیا تو نہیں جانتا کہ خدائے قدیم نے بہتوں کو دیکھا اور آزمایا اور باندھا اور کھولا ۔
To one of his sons who used to pray for the father’s death. Do you know that to punish and reward has been from old the business of the Lord?
ز ما سینه چاکان این تیره خاک
شنید است صد نالهٔ درد ناک
اس اندھیاری مٹی (دنیا) کے ہم سینہ چاکوں (مصیبت زدگان) سے اس نے سینکڑوں دردناک نالے سن رکھے ہیں ۔
He has heard many anguishing laments from this benighted planet’s residents,
بسی همچو شبیر در خون نشست
نه یک ناله از سینهٔ او گسست
کئی شبیر کی طرح خون میں نہا گئے مگر اس کے سینے میں ایک آہ نہ نکلی ۔
But did a cry escape His lips? Oh no. Like Shabbir He has seen streams of blood flow.
نه از گریهٔ پیر کنعان تپید
نه از درد ایوب آهی کشید
نہ وہ یعقوب کے رونے سے بے قرار ہوا اورر نہ ایوب کے درد سے آہ کھینچی (بھری) ۔
While Jacob wept, He looked on unimpressed; and by Job’s wailing He was not distressed.
مپندار آن کهنه نخچیر گیر
بدام دعای تو گردد اسیر
یہ مت سمجھو کہ وہ پرانا شکاری تیری دعا کے جال میں آ پھنسے گا ۔
Do not think that you ever can ensnare that seasoned Hunter with your foolish prayer.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور