صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »افکار
  4. »بخش 38 - نامهٔ عالمگیر (به یکی از فرزندانش که دعای مرگ پدر میکرد)

بخش 38 - نامهٔ عالمگیر (به یکی از فرزندانش که دعای مرگ پدر میکرد)

عالمگیر کا خط( اپنے ایک بیٹے کی طرف جو باپ کے مرنے کی دعا کیا کرتا تھا)

Alamgir’s Letter

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعولن فعولن فعولن فعل (متقارب مثمن محذوف یا وزن شاهنامه)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

ندانی که یزدان دیرینه بود

بسی دید و سنجید و بست و گشود

کیا تو نہیں جانتا کہ خدائے قدیم نے بہتوں کو دیکھا اور آزمایا اور باندھا اور کھولا ۔

To one of his sons who used to pray for the father’s death. Do you know that to punish and reward has been from old the business of the Lord?

2

ز ما سینه چاکان این تیره خاک

شنید است صد نالهٔ درد ناک

اس اندھیاری مٹی (دنیا) کے ہم سینہ چاکوں (مصیبت زدگان) سے اس نے سینکڑوں دردناک نالے سن رکھے ہیں ۔

He has heard many anguishing laments from this benighted planet’s residents,

3

بسی همچو شبیر در خون نشست

نه یک ناله از سینهٔ او گسست

کئی شبیر کی طرح خون میں نہا گئے مگر اس کے سینے میں ایک آہ نہ نکلی ۔

But did a cry escape His lips? Oh no. Like Shabbir He has seen streams of blood flow.

4

نه از گریهٔ پیر کنعان تپید

نه از درد ایوب آهی کشید

نہ وہ یعقوب کے رونے سے بے قرار ہوا اورر نہ ایوب کے درد سے آہ کھینچی (بھری) ۔

While Jacob wept, He looked on unimpressed; and by Job’s wailing He was not distressed.

5

مپندار آن کهنه نخچیر گیر

بدام دعای تو گردد اسیر

یہ مت سمجھو کہ وہ پرانا شکاری تیری دعا کے جال میں آ پھنسے گا ۔

Do not think that you ever can ensnare that seasoned Hunter with your foolish prayer.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بنگر که جوی آب چه مستانه میرود

مانند کهکشان بگریبان مرغزار

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 37 - جوی آب

اگلی نظم

کجا این روزگاری شیشه بازی

بهشت این گنبد گردان ندارد

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 39 - بهشت

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور