صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »افکار
  4. »بخش 39 - بهشت

بخش 39 - بهشت

جنت

Paradise

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: انندارد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 4

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

کجا این روزگاری شیشه بازی

بهشت این گنبد گردان ندارد

یہ دن رات یہ شعبہ باز دن رات کہاں کہاں جنت یہ گھومتا ہوا گنبد نہیں رکھتی ۔

This world of ours is full of a strange jugglery. Heaven does not have this kind of a revolving sky.

2

ندیده درد زندان یوسف او

زلیخایش دل نالان ندارد

اس کے یوسف نے قیدی کی تکلیف نہیں دیکھی اس کی زلیخا رو رو کر دہائی دیتا دل نہیں رکھتی ۔

Its Joseph is a stranger to imprisonment; and its Zuleikha’s heart does not know how to cry.

3

خلیل او حریف آتشی نیست

کلیمش یک شرر در جان ندارد

اس کا خلیل آگ کا حریف نہیں (مقابلہ نہیں کرتا) اس کا کلیم روح میں ایک چنگاری بھی نہیں رکھتا ۔

Its Abraham has not been cast into a fire; its Moses does not have a live spark in his soul.

4

به صرصر در نیفتد زورق او

خطر از لطمهٔ طوفان ندارد

اس کی کشتی جھکڑ میں نہیں پھنسی، اسے طوفان کے تھپیڑے کا کوئی ڈر نہیں ۔

Its barque has never had to cope with stormy winds, and never has been tossed about by seas that roll.

5

یقین را در کمین بوک و مگر نیست

وصال اندیشهٔ هجران ندارد

وہاں یقین کی گھات میں کوئی تر دد (شک) نہیں ہے ۔ وصال جدائی کے دھڑکے سے خالی ہے ۔

There cetainty has never been assailed by doubt. There union is not plagued by separation’s fear.

6

کجا آن لذت عقل غلط سیر

اگر منزل ره پیچان ندارد

ادھر ادھر بھٹکنے والی عقل کے وہ مزے کہاں ۔ ا گر منزل کا راستہ الجھا ہوا نہ ہو ۔

How can you have the joy of straying from the path, if the path that you have to tread is fixed and clear.

7

مزی اندر جهانی کور ذوقی

که یزدان دارد و شیطان ندارد

ایسی بے ذوق دنیا میں زندگی بسر نہ کر کہ جہاں خدا تو ہے مگر شیطان نہیں (ایسی بے مزہ دنیا میں نہیں رہنا چاہیے جہاں یزداں تو ہو لیکن شیطان نہ ہو، ہر طرف نیکی ہو لیکن بدی کے ارتکاب کا امکان نہ ہو) ۔

Never live in a world devoid of joy and zest, where God exists, but Beelzebub does not exist.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ندانی که یزدان دیرینه بود

بسی دید و سنجید و بست و گشود

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 38 - نامهٔ عالمگیر (به یکی از فرزندانش که دعای مرگ پدر میکرد)

اگلی نظم

رخت به کاشمر گشا کوه و تل و دمن نگر

سبزه جهان جهان ببین لاله چمن چمن نگر

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 40 - کشمیر

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

بیا، کاین دل سر هجران ندارد

بجز وصلت دگر درمان ندارد

عراقی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 64

سری در عهد ما سامان ندارد

کسی کو آب دارد نان ندارد

عرفی»قصیده‌ها»شمارهٔ 12 - درشکایت از وضع زمان

دلی کز عشق جانان جان ندارد

توان گفتن که او ایمان ندارد

عطار»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 188

اگر درمان کنم امکان ندارد

که درد عشق تو درمان ندارد

عطار»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 189

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور