جنت
Paradise
کجا این روزگاری شیشه بازی
بهشت این گنبد گردان ندارد
یہ دن رات یہ شعبہ باز دن رات کہاں کہاں جنت یہ گھومتا ہوا گنبد نہیں رکھتی ۔
This world of ours is full of a strange jugglery. Heaven does not have this kind of a revolving sky.
ندیده درد زندان یوسف او
زلیخایش دل نالان ندارد
اس کے یوسف نے قیدی کی تکلیف نہیں دیکھی اس کی زلیخا رو رو کر دہائی دیتا دل نہیں رکھتی ۔
Its Joseph is a stranger to imprisonment; and its Zuleikha’s heart does not know how to cry.
خلیل او حریف آتشی نیست
کلیمش یک شرر در جان ندارد
اس کا خلیل آگ کا حریف نہیں (مقابلہ نہیں کرتا) اس کا کلیم روح میں ایک چنگاری بھی نہیں رکھتا ۔
Its Abraham has not been cast into a fire; its Moses does not have a live spark in his soul.
به صرصر در نیفتد زورق او
خطر از لطمهٔ طوفان ندارد
اس کی کشتی جھکڑ میں نہیں پھنسی، اسے طوفان کے تھپیڑے کا کوئی ڈر نہیں ۔
Its barque has never had to cope with stormy winds, and never has been tossed about by seas that roll.
یقین را در کمین بوک و مگر نیست
وصال اندیشهٔ هجران ندارد
وہاں یقین کی گھات میں کوئی تر دد (شک) نہیں ہے ۔ وصال جدائی کے دھڑکے سے خالی ہے ۔
There cetainty has never been assailed by doubt. There union is not plagued by separation’s fear.
کجا آن لذت عقل غلط سیر
اگر منزل ره پیچان ندارد
ادھر ادھر بھٹکنے والی عقل کے وہ مزے کہاں ۔ ا گر منزل کا راستہ الجھا ہوا نہ ہو ۔
How can you have the joy of straying from the path, if the path that you have to tread is fixed and clear.
مزی اندر جهانی کور ذوقی
که یزدان دارد و شیطان ندارد
ایسی بے ذوق دنیا میں زندگی بسر نہ کر کہ جہاں خدا تو ہے مگر شیطان نہیں (ایسی بے مزہ دنیا میں نہیں رہنا چاہیے جہاں یزداں تو ہو لیکن شیطان نہ ہو، ہر طرف نیکی ہو لیکن بدی کے ارتکاب کا امکان نہ ہو) ۔
Never live in a world devoid of joy and zest, where God exists, but Beelzebub does not exist.
زمین
بیا، کاین دل سر هجران ندارد
بجز وصلت دگر درمان ندارد
عراقیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 64
سری در عهد ما سامان ندارد
کسی کو آب دارد نان ندارد
عرفیقصیدههاشمارهٔ 12 - درشکایت از وضع زمان
دلی کز عشق جانان جان ندارد
توان گفتن که او ایمان ندارد
عطاردیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 188
اگر درمان کنم امکان ندارد
که درد عشق تو درمان ندارد
عطاردیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 189
فارسی متن کا ماخذ: گنجور