کشمیر
Kashmir
رخت به کاشمر گشا کوه و تل و دمن نگر
سبزه جهان جهان ببین لاله چمن چمن نگر
کشمیر کا سفر اختیار کر پہاڑ اور ٹیلے اور وادیاں دیکھ ۔ ہر طرف اگا ہوا سبزہ اور ہر چمن میں کھلا ہوا لالہ کے پھول دیکھ ۔
Repair to Kashmir’s land and see hills, meadows, pastures, wealds. See miles on miles of greenery and endless tulip-fields.
باد بهار موج موج مرغ بهار فوج فوج
صلصل و سار زوج زوج بر سر نارون نگر
موج موج کی ہوا فوج فوج بہار کے پرندے دیکھ ۔ انار کے درخت پر فاختہ اور مینا کے جوڑے جھنڈ کے جھنڈ دیکھ
Whiff after whiff spring breezes blow, and hosts of birds of spring – the thrush, the quail, the dove – all go from place to place and sing.
تا نفتد به زینتش چشم سپهر فتنه باز
بسته به چهرهٔ زمین برقع نسترن نگر
تاکہ اس کی سج دھج پر فتنہ باز آسمان کی نظر نہ پڑے (اسے نظر نہ لگ جائے)دیکھ زمین نے اپنا چہرہ نسترن کے برقعے میں چھپا لیا ہے ۔
To hide it from the jealous sky the earth veils its fair face behind a complex tracery of shrubs that interlace.
لاله ز خاک بر دمید موج به آب جو تپید
خاک شرر شرر ببین آب شکن شکن نگر
لالہ زمین سے پھوٹا، موج ندی میں تڑپی مٹی کو شر شر دیکھ پانی کو شکن شکن دیکھ ۔
The tulips burst forth from the earth; the waves leap up in streams. Look at the sparks the dust puts forth and the waves’ silver seams.
زخمه به تار ساز زن باده بساتگین بریز
قافلهٔ بهار را انجمن انجمن نگر
مضراب سے تار ساز چھیڑ پیالے میں شراب انڈیل بہار کے قافلے کو انجمن انجمن دیکھ ۔
Come bring your lute and strike its strings, and fill your cup with wine, and let there be gay gatherings to greet spring’s caravan.
دخترکی برهمنی لاله رخی سمن بری
چشم بروی او گشا باز بخویشتن نگر
لالہ رخ اور سیمیں بدن برہمن بچی کی صورت پر نگاہ کر پھر اپنے آپ کو دیکھ (اپنے اندر نگاہ ڈال) یعنی تیرے اندر باہر کے جہاں سے بھی خوبصورت جہان ہے اس کی سیر کر ۔ نوٹ : دختر برہمن کا صرف دو لفظوں میں سراپا بیان کر دیا ہے ۔ رخسار گل لالہ کی طرح سرخ اور جسم چنبیلی کی طرح سفید اور خوشبودار ہے ۔
Look at that highborn Brahmin maid, lily-limbed, tulip-faced, look at her and feel yourself fade into someone low-placed.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور