صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »افکار
  4. »بخش 41 - عشق

بخش 41 - عشق

عشق

Love

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب)

قافیہ: ابی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

عقلی که جهان سوزد یک جلوهٔ بی‌باکش

از عشق بیاموزد آیین جهان‌تابی

عقل جس کا ایک جلوہ بے باک دنیا کو جلا دیتا ہے ۔ اس نے جہان کو روشن کرنے کا طریقہ عشق سے سیکھا ہے ۔

To Intellect, which, if it chose, could set the universe aflame, learns from Love to illuminate, instead of burning up, its frame.

2

عشق است که در جانت هر کیفیت انگیزد

از تاب و تب رومی تا حیرت فارابی

یہ عشق ہی ہے جو تیری روح میں ہر کیفیت پیدا کرتا ہے ۔ رومی کے جوش اور تڑپ سے لیکر فارابی کی حیرت تک (رومی مسلک عشق کے علمبردار ہیں اور عشق کا ثمرہ تب و تاب ہے ۔ فارابی مذہب عقل کا نمائندہ ہے اور عقل کا نتیجہ حیرت و استعجاب ہے ۔ )

To Love it is that your soul owes its heightened states’ engenderment – from Rumi’s ardent passion to Farabi’s solemn wonderment.

3

این حرف نشاط‌آور می‌گویم و می‌رقصم

از عشق دل آساید با این همه بی‌تابی

میں اس نشاط آور حرف کا ورد کرتا ہوں اور ناچتا ہوں اس تمام بے تابی کے باوجود دل عشق ہی سے چین (سکون) پاتا ہے ۔

I sing these joy-inspiring words – I sing them and dance with delight – Love is a balsam for the heart despite its soul-tormenting might.

4

هر معنی پیچیده در حرف نمی‌گنجد

یک لحظه به دل در شو شاید که تو دریابی

حر ف میں ہر پیچیدہ معنی نہیں سماتا ۔ اک پل کے لیے اپنے دل کے اندر نظر ڈال شاید کہ تو اسے پا جائے ۔ اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی ۔

Not every subtle point can be expressed in words. Consult a while your own heart: maybe you will see my point made in the heart’s own style.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

رخت به کاشمر گشا کوه و تل و دمن نگر

سبزه جهان جهان ببین لاله چمن چمن نگر

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 40 - کشمیر

اگلی نظم

دوش در میکده ترسا بچه باده فروش

گفت از من سخنی دار چو آویزه به گوش

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 42 - بندگی

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ای خیره نظر در جو پیش آ و بخور آبی

بیهوده چه می‌گردی بر آب چو دولابی

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2580

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور