صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »افکار
  4. »بخش 33 - حکمت فرنگ

بخش 33 - حکمت فرنگ

مغرب کی دانائی

The Wisdom of the West

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعولن فعولن فعولن فعل (متقارب مثمن محذوف یا وزن شاهنامه)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

شنیدم که در پارس مرد گزین

ادا فهم رمز آشنا نکته بین

میں نے سنا کہ فارس میں ایک برگزیدہ آدمی ادا فہم رمز آشنا نکتہ بیں تھا ۔

The story goes that in Iran a worthy man, intelligent and wise;

2

بسی سختی از جان کنی دید و مرد

بر آشفت و جان شکوه لبریز برد

اس نے مرنے سے پہلے جان کی بہت سختی دیکھی ۔ (اس لیے) وہ ناراضگی اور شکوہ سے لبریز جان لے کر یہاں سے رخصت ہوا ۔

Died, suffering great agonies, departing with a heart full of distress and smart;

3

به نالش در آمد به یزدان پاک

که دارم دلی از اجل چاک چاک

موت کے بعد یہ فریاد لیکر وہ خدائے پاک کی جناب میں دعویٰ دائر کیا کہ فرشتہ اجل کی سختی سے میرا دل پاش پاش ہو گیا ہے ۔

He went up to God’s throne and said: ‘God I am one grieved at the way that I was made to die.

4

کمالی ندارد به این یک فنی

نداند فن تازهٔ جان کنی

وہ فرشتہ ایک ہی فن رکھنے کے باوجود کوئی مہارت نہیں رکھتا ۔ جان نکالنے کا نیا ہنر نہیں جانتا ۔

Your angel of death is supposed to be a specialist, and yet he has no expertise, no knowledge of the new skills that exist in the fine art of killing.

5

برد جان و ناپخته در کار مرگ

جهان نو شد و او همان کهنه برگ

وہ روح قبض کرتا ہے مگر (اب تک) اس کام میں کچا ہے ۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی مگر وہ ویسا ہی لکیر کا فقیر رہا ۔

He kills, but does it so clumsily. The world is going rapidly ahead, but his growth has stopped dead.

6

فرنگ آفریند هنرها شگرف

بر انگیزد از قطره ئی بحر ژرف

یورپ عجیب عجیب ہنر ایجاد کر رہا ہے ایک قطرے میں سے اتھاہ سمندر کھینچ لیتا ہے ۔

The West develops wonderful new skills in this as in so many other fields. Fine are the ways it kills, and great are its skill’s yields.

7

کشد گرد اندیشه پرگار مرگ

همه حکمت او پرستار مرگ

وہ فکر و خیال کے گرد موت کی پرکار گھماتا ہے اس کا سارا فلسفہ موت کا خدمتگار ہے ۔

It has encompassed even thought with death. Death is all its philosophies’ life-breath; it is what all its sciences devise.

8

رود چون نهنگ آبدوزش به یم

ز طیارهٔ او هوا خورده بم

اس کی آبدوز سمندر کے اندر مگر مچھ کی طرح چلتی ہے اس کے ہوائی جہاز ہوا کے طمانچے کھاتے ہیں ۔

Its submarines are crocodiles, with all their predatory wiles. Its bombers rain destruction from the skies.

9

نبینی که چشم جهان بین هور

همی گردد از غاز او روز کور

کیا تو نہیں دیکھتا کہ سورج کی دنیا بھر کو دیکھنے والی آنکھ اس کی گیس سے اندھی ہو جاتی ہے ۔

Its gases so obscure the sky they blind the sun’s world-seeing eye. Its guns deal death so fast.

10

تفنگش به کشتن چنان تیز دست

که افرشتهٔ مرگ را دم گسست

اس کی بندوق جان لینے میں ایسی تیزی دکھانے والی ہے کہ موت کے فرشتے کا دم ٹوٹ گیا (موت کا فرشتہ بھی دم بخود رہ جاتا ہے) ۔

The Angel of Death stands aghast, quite out of breath in coping with this rate of death.

11

فرست این کهن ابله را در فرنگ

که گیرد فن کشتن بی درنگ

اس بوڑھے بیوقوف کو یورپ بھیج دے تاکہ یہ جھٹ پٹ مارنے کا فن سیکھ جائے ۔ نوٹ : اس طنزیہ نظم میں اقبال نے واضح کیا ہے کہ اقوام مغرب نے انسان کو ہلاک کرنے کے لیے بہت سے نئے آلات ایجاد کئے ہیں ۔

Dispatch this old fool to the West to learn the art of killing fast – and best.’

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

پرسیدم از بلند نگاهی حیات چیست

گفتا مئی که تلخ تر او نکوتر است

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 32 - زندگی

اگلی نظم

نه به باده میل داری نه به من نظر گشائی

عجب اینکه تو ندانی ره و رسم آشنائی

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 34 - حور و شاعر در جواب نظم گوته موسوم به حور و شاعر

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور