صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »افکار
  4. »بخش 23 - محاورهٔ ما بین خدا و انسان

بخش 23 - محاورهٔ ما بین خدا و انسان

انسان

A Dialogue Between God and Man

شاعر: علامہ اقبال

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: مستنصر میر

جهان را ز یک آب و گل آفریدم

تو ایران و تاتار و زنگ آفریدی

میں نے دنیا کو ایک ہی مٹی اور پانی سے بنایا تھا (تمام انسانوں کو یکساں پیدا کیا سب کی اصل ایک ہی ہے) تو نے ایران ، تاتار اور حبش (مختلف ممالک) بنا لیے(رنگ و نسل کا امتیاز دیا) ۔

I made the whole world with the same water and clay, but you created Iran, Tartary, and Ethiopia.

من از خاک پولاد ناب آفریدم

تو شمشیر و تیر و تفنگ آفریدی

میں نے مٹی سے خالص لوہا پیدا کیا تھا تو نے اس سے تلوار اور تیر اور بندوق گھڑ لی (مختلف قسم کے ہتھیار بنا لیے) ۔

From the earth I brought forth pure iron, but you made from that iron sword, arrow, and gun.

تبر آفریدی نهال چمن را

قفس ساختی طایر نغمه زن را

تو نے چمن کے پودے کے لیے کلہاڑی بنا لی تو نے چہچہاتے پرندے کے لیے پنجرا بنایا (مراد ہے میں نے آسائش اور امن، اتفاق اور بھائی چارہ کے سامان پیدا کیے تو نے فساد، جنگ اور تقسیم کے سامان پیدا کر لیے دنیا میں خرابی تیری وجہ سے ہے) ۔

You made an axe for the tree in the garden, and a cage for the songbird.

انسان:

تو شب آفریدی چراغ آفریدم

سفال آفریدی ایاغ آفریدم

تو نے رات بنائی میں نے (اس کو روشن رکھنے کے لیے) چراغ پیدا کیا ۔ تو نے مٹی پیدا کی میں نے (اس سے) پیالہ بنا لیا ۔

You made the night, I made the lamp; you made the earthen bowl, I made the goblet.

بیابان و کهسار و راغ آفریدی

خیابان و گلزار و باغ آفریدم

تو نے صحرا اور پہاڑ اور جنگل تخلیق کیے میں نے ّان میں کیاری اور پھلواری اور باغ بنائے ۔

You made deserts, mountains and valleys; I made gardens, meadows and parks.

من آنم که از سنگ آئینه سازم

من آنم که از زهر نوشینه سازم

میں وہ ہوں کہ پتھر سے آئینہ بناتا ہوں ، میں وہ ہوں کی زہر سے تریاق نکالتا ہوں (مراد یہ ہے کہ میں مانتا ہوں کہ مجھ میں کچھ عیب ہیں لیکن میری باتیں اچھی بھی تو ہیں میں نہ ہوتا تو کائنات بے رونق ہوتی) ۔

I am one who makes a mirror out of stone, and turns poison into sweet, delicious drink.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مرا معنی تازه ئی مدعاست

اگر گفته را باز گویم رواست

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 22 - قطرهٔ آب

اگلی نظم

خوشا روزگاری خوشا نوبهاری

نجوم پرن رست از مرغزاری

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 24 - ساقی نامه در نشاط باغ کشمیر نوشته شد

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور