پانی کی بوند
The Raindrop and the Sea
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
صنف: مثنوی
مرا معنی تازه ئی مدعاست
اگر گفته را باز گویم رواست
مجھے ایک نئے معنی سے مطلب ہے (میرا مدعا نئے معنی پیدا کرتا ہے) ۔ اگر کہے ہوئے کو دہراؤں تو بھی جائز ہے ۔
I quote what someone else has said, but wish to make a new point with its aid.
«یکی قطره باران ز ابری چکید
خجل شد چو پهنای دریا بدید
بارش کا ایک قطرہ بادل سے ٹپکا دریا کی وسعت کو دیکھ کر وہ شرما گیا ۔
‘A raindrop fell into the sea. And awed by its expanse, it thought:
که جائی که دریاست من کیستم؟
گر او هست حقا که من نیستم»
(کہنے لگا) کہ جہاں دریا ہو وہاں میں کیا ہوں (میری کیا ہستی ہے) ۔ اگر وہ ہے تو خدا کی قسم میں نہیں ہوں ۔
By God, I am a mere nonentity beside the sea. If it exists, then surely I do not.’
ولیکن ز دریا برآمد خروش
ز شرم تنک مایگی رو مپوش
لیکن دریا سے شور اٹھا (آواز آئی) بے سروسامانی کی شرم سے منہ مت چھپا (شرمسار نہ ہو) ۔
There came out of the sea a sound, loud and profound, as of a voice, and it declaimed: ‘You do not have to be ashamed of being small and feel so sad.
تماشای شام و سحر دیده ئی
چمن دیده ئی دشت و در دیده ئی
تو نے شام و سحر کا تماشا دیکھا ہے ۔ باغ دیکھا ہے جنگل اور گھاٹی دیکھ رکھے ہیں ۔
For all your smallness, you have had experiences which were great. You have watched dawn and evening alternate. You have seen orchard, plain and glade.
به برگ گیاهی به دوش سحاب
درخشیدی از پرتو آفتاب
گھاس کی پتی پر بادل کے دوش پر تو سورج کی کرن سے جگمگا (چمکا) ہے ۔
Suspended on a blade of grass or a cloud-flake, you have reflected the sun’s rays.
گهی همدم تشنه کامان راغ
گهی محرم سینه چاکان باغ
کبھی تو صحرا میں پیاس کے ماروں کا ساتھ بنا ۔ کبھی چمن کے سینہ چاکوں کا راز دار بنا ۔
There have been days on which it fell to you to slake the thirst of desert shrubs. Again, there were days when you soothed the pain in the rent bosom of a rose.
گهی خفته در تاک و طاقت گداز
گهی خفته در خاک بی سوز و ساز
کبھی تو انگور کی بیل میں سویا ہوا اور دم خم توڑ دینے والا بنا (انگور سے جو شراب بنتی ہے وہ عقل کو زائل کر تی ہے) کبھی تو مٹی میں سویا ہوا ہوتا ہے اورر سوزو ساز سے خالی ہوتا ہے ۔
At times you slumbered in the vine to wake up as a potent liquid – wine. At other times abed in dust, you made mere mud.
ز موج سبک سیر من زاده ئی
ز من زاده ئی در من افتاده ئی
تو میری تیز رفتار موج سے پیدا ہوا، مجھ سے جنم لیا اور مجھی میں آن گرا ۔
It was out of my waves that you arose. Born of me, you come back to me, come back to be a part of me.
بیاسای در خلوت سینه ام
چو جوهر درخش اندر آئینه ام
میری چھاتی کی خلوت میں آرام کر، میرے آئینے میں جوہر کی طرح چمک ۔
Now rest in my broad breast, and make my mirror gleam with one more beam of light.
گهر شو در آغوش قلزم بزی
فروزان تر از ماه و انجم بزی
موتی بن کر دریا کے آغوش میں رہ ، چاند اور ستاروں سے زیادہ چمکتے ہوئے زندگی گزار۔
Become a pearl and be lodged in the depths of me – My moon, my star, as bright as those of the sky are.’
فارسی متن کا ماخذ: گنجور