صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »افکار
  4. »بخش 21 - حدی

بخش 21 - حدی

حدی وہ نغمہ ہے جو حجازی ساربان اپنی ناقہ کو سناتا ہے تاکہ وہ تیزی کے ساتھ مسافت طے کر سکے

Song of the Hijazi Camel-Driver

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفتعلن فاعلن مفتعلن فاعلن (منسرح مطوی مکشوف)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
بند 1
نغمهٔ ساربان حجاز
Toggle stanza 1
11

ناقهٔ سیار من

22

آهوی تاتار من

33

درهم و دینار من

44

اندک و بسیار من

55

دولت بیدار من

66

تیزترک گام زن منزل ما دور نیست

چونکہ ناقہ جفاکش، سخت کوش، متحمل مزاج اور خدمت گزار ہوتی ہے ۔ اقبال انہی خوبیوں کو اپنی قوم کے افراد میں دیکھنا چاہتے تھے ۔ اس لیے ناقہ کے پردہ میں انھوں نے قوم سے یہ خطاب کیا ہے کہ میری اونٹنی میری تاتاری ہرنی (تاتار کی ہرنی کی طرح حسین اور تیز رفتار) میرا چاند ی سونا، میری کل پونجی (دولت) میری جاگتی ہوئی قسمت ۔ میری معاش اور روزی کا ذریعہ، ذرا اور تیز قدم اٹھا، ہماری منزل دور نہیں ہے ۔

My fleet-footed dromedary, my doe of the Tartar country, O my riches, O my money, O my entire patrimony, O my fortune, O my plenty! Quicken your pace just a little; journey’s end is not far off.

بند 2
Toggle stanza 2
77

دلکش و زیباستی

88

شاهد رعناستی

99

روکش حوراستی

1010

غیرت لیلاستی

1111

دختر صحراستی

1212

تیزترک گام زن منزل ما دور نیست

تو دلکش اور زیبا ہے (حسین ہے) تو حسین محبوب ہے ۔ تو حور کی ہمسر ہے (حوروں کے لیے باعث رشک ہے) تو لیلیٰ کو شرماتی ہے، تو صحرا کی بیٹی ہے ۔ ذرا اور تیز قدم اٹھا ہماری منزل دور نہیں ہے ۔

O you bright and beautiful thing, you are lovely, you are charming, O you houri of my dreaming, you, the Layla of whom bards sing, you, the desert’s sprightly offspring! Quicken your pace just a little; journey’s end is not far off.

بند 3
Toggle stanza 3
1313

در تپش آفتاب

1414

غوطه زنی در سراب

1515

هم به شب ماهتاب

1616

تند روی چون شهاب

1717

چشم تو نادیده خواب

1818

تیزترک گام زن منزل ما دور نیست

تپتی ہوئی دھوپ میں تو سراب میں غوطہ لگاتی ہے (یعنی صحرا کو طے کرتی ہے) ۔ ایسے ہی چاندنی رات میں تو شباب کی طرح سن سے گزر جاتی ہے ۔ تیری آنکھ نے نیند نہیں دیکھی ذرا اور تیز چل ، ہماری منزل دور نہیں ہے ۔

When the sun of noontide blazes, you dive into clear mirages; and in moonlit nights’ bright reaches you flash as a comet flashes with an eye that never closes! Quicken your pace just a little; journey’s end is not far off.

بند 4
Toggle stanza 4
1919

لکه ابر روان

2020

کشتی بی بادبان

2121

مثل خضر راه دان

2222

بر تو سبک هر گران

2323

لخت دل ساربان

2424

تیزترک گام زن منزل ما دور نیست

تو اڑتے ہوئے بادل کا ٹکڑا ہے تو بلابادبان کی کشتی ہے خضر کی طرح راستہ جاننے والی ہے ہر بوجھل تجھ پر ہلکا ساربان کے دل کا ٹکڑا ذرا اور تیز چل ، ہماری منزل دور نہیں ہے ۔

Like the clouds a constant roamer; sailless boat with sand for river; born path-knower like a Khizr, carrier who does not murmur, darling of the camel-driver! Quicken your pace just a little; journey’s end is not far off.

بند 5
Toggle stanza 5
2525

سوز تو اندر زمام

2626

ساز تو اندر خرام

2727

بی خورش و تشنه کام

2828

پا به سفر صبح و شام

2929

خسته شوی از مقام

3030

تیزترک گام زن منزل ما دور نیست

تیری تڑپ نکیل میں ، تیری مستی خرام میں (تجھ میں سوز و ساز دونوں کیفیتیں پائی جاتی ہیں ) بنا کھائے پییے دن رات سفر اور سفر تو سستانے سے تھک جاتی ہے ۔ ذرا اور تیز چل، ہماری منزل دور نہیں ۔

In your rein is stimulation; travel is your inspiration; with a very scanty ration, you are night and day in motion, never resting at one station! Quicken your pace just a little; journey’s end is not far off.

بند 6
Toggle stanza 6
3131

شام تو اندر یمن

3232

صبح تو اندر قرن

3333

ریگ درشت وطن

3434

پای ترا یاسمن

3535

ای چو غزال ختن

3636

تیزترک گام زن منزل ما دور نیست

تیری شام یمن میں ، تیری صبح قرن میں ، وطن کی کھردری ریت، تیرے پاؤں کے لیے چنبیلی ہے ۔ اے ختن کے ہرن ایسی (تیری چال ختن کے ہرن جیسی ہے) ذرا اور تیز چل ، ہماری منزل دور نہیں ہے ۔

If at dusk you are in Yaman, then at dawn you are in Qaran. Rough sand of your native region is to your feet soft like jasmine. O you fleet gazelle of Khotan! Quicken your pace just a little; journey’s end is not far off.

بند 7
Toggle stanza 7
3737

مه ز سفر پا کشید

3838

در پس تل آرمید

3939

صبح ز مشرق دمید

4040

جامهٔ شب بر درید

4141

باد بیابان وزید

4242

تیزترک گام زن منزل ما دور نیست

چاند نے سفر سے پاؤں کھینچ لیا (سفر ختم ہوا) وہ ٹیلوں کی اوٹ میں چھپ گیا ۔ مشرق سے صبح طلوع ہوئی ۔ رات کا لباس ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ۔ صحرا کی ہوا چلی، ایک ذرا اور تیز چل، ہماری منزل دور نہیں ہے ۔

Now the moon, her journey over, goes into her sand hill shelter, dawns a new day, so much brighter than the moon for all her splendour. Blows the desert wind of summer! Quicken your pace just a little; journey’s end is not far off.

بند 8
Toggle stanza 8
4343

نغمهٔ من دلگشای

4444

زیر و بمش جانفرای

4545

قافله ها را درای

4646

فتنه ربا فتنه زای

4747

ای به حرم چهره سای

4848

تیزترک گام زن منزل ما دور نیست

میرا گیت دل کھلانے والا ہے ۔ اس کا اتار چڑھاوَ جان میں جان ڈالنے والا ہے ۔ یہ قافلوں کی گھنٹی ہے ۔ ہنگاموں کو اپنی طرف کھینچنے والا ہلچل پیا کرنے والا حرم کی خاک پر منہ رگڑنے والی (اے ناقہ! تو خوش قسمت ہے کہ مکہ مکرمہ کی طرف جا رہی ہے جس میں حرم کعبہ واقع ہے) ایک ذرا اور تیز چل ، ہماری منزل دور نہیں ہے ۔

Lively is the song that I sing; lively, but full of foreboding – for the caravan a warning that the hour has struck for starting. Kisser of the Haram’s paving! Quicken your pace just a little; journey’s end is not far off.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

عقاب دوربین جوئینه را گفت

نگاهم آنچه می بیند سراب است

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 20 - حقیقت

اگلی نظم

مرا معنی تازه ئی مدعاست

اگر گفته را باز گویم رواست

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 22 - قطرهٔ آب

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور