صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »افکار
  4. »بخش 20 - حقیقت

بخش 20 - حقیقت

حقیقت

Reality

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: اباست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 6

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

عقاب دوربین جوئینه را گفت

نگاهم آنچه می بیند سراب است

دور تک دیکھنے والا عقاب مرغ آبی سے بولا میری نظر جو کچھ دیکھتی ہے وہ سراب ہے

The eagle, who sees far, said to the swan, ‘My eyes see nothing but a bright mirage.’

2

جوابش داد آن مرغ حق اندیش

تو می بینی و من دانم که آب است

اس حق اندیش پرندے نے اسے جواب دیا کہ تو صرف دیکھتا ہے اور میں جانتا ہوں کہ یہ پانی ہے ۔

That truthful bird replied, ‘You see, and I know that you see, a watery expanse.’

3

صدای ماهی آمد از ته بحر

که چیزی هست و هم در پیچ و تاب است

دریا کی تہہ سے مچھلی کی آواز آئی کہ ایک چیز ہے اور وہ بھی پیچ و تاب میں ہے (مراد یہ ہے کہ کسی شے کی حقیقت آدمی کو اس وقت تک معلوم نہیں ہو سکتی جب تک وہ خود وہ شے نہ بن جائے ۔ حق کی معرفت کے لیے حق بننا ضروری ہے ۔ یعنی جس نے خود کو پہچان لیا اس نے خدا کو پہچان لیا) ۔

From the sea’s depth arose a fish’s cry, ‘There is something in an unceasing dance.’

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

یک ذره بی مایه متاع نفس اندوخت

شوق این قدرش سوخت که پروانگی آموخت

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 19 - کرمک شبتاب

اگلی نظم

ناقهٔ سیار من

آهوی تاتار من

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 21 - حدی

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ببستی چشم یعنی وقت خواب است

نه خوابست آن حریفان را جواب است

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 337

کجا میل کبابم در شراب است؟

بط می هم شراب و هم کباب است

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 2234

تو را در ره خراباتی خراب است

گر آنجا خانه‌ای گیری صواب است

عطار»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 37

تراش از تیشهٔ خود جادهٔ خویش

براه دیگران رفتن عذاب است

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 103

دلا رمز حیات از غنچه دریاب

حقیقت در مجازش بی حجاب است

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 108

بساطم خالی از مرغ کباب است

نه در جامم می آئینه تاب است

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 157

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور