رات کو چمکنے والا کیڑا یعنی جگنو
The Glow-Worm
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن (هزج مثمن اخرب مکفوف محذوف)
صنف: چند بندی
یک ذره بی مایه متاع نفس اندوخت
شوق این قدرش سوخت که پروانگی آموخت
ایک حقیر ذرے نے سانس کی متاع (زندگی) حاصل کی، شوق نے اسے اس قدر جلایا کہ اس نے اڑنا سیکھ لیا۔
پهنای شب افروخت
رات کی وسعت کو روشن کیا۔
A tiny atom found itself a living thing by chance. Aquiver with life’s ardour it began a moth-like dance, and set aglow the night’s expanse.
وامانده شعاعی که گره خورد و شرر شد
از سوز حیاتست که کارش همه زر شد
یا یہ کوئی پس ماندہ شعاع ہے جس نے اپنے آپ کو گرہ لگائی اور شرر بن گئی، سوز حیات کی برکت سے اس کا سارا کام زریں ہوگیا۔
دارای نظر شد
وہ صاحب نظر ہوگئی۔
A dormant sunbeam re-awoke and shot up with a dash. The alchemy of life converted it to gold from trash came vision to it in a flash.
پروانهٔ بیتاب که هر سو تک و پو کرد
بر شمع چنان سوخت که خود را همه او کرد
یا یہ ایک بے تاب پروانہ ہے جس نے ہر سمت تگ و تاز کی، اپنے آپ کو شمع پر اس طرح جلایا کہ خود شمع بن گیا۔
ترک من و تو کرد
من و تو کا فرق مٹا دیا۔
A restlessly aflutter moth was bold enough to dart into the candle’s flame, became one with its fiery heart, and ceased to be a thing apart.
یا اخترکی ماه مبینی به کمینی
نزدیک تر آمد بتماشای زمینی
یا یہ کوئی چھوٹا سا ستارہ ہے جس کے پہلو میں چمکتا چاند ہے، جو زمین کے نظارے کے لیے اور نزدیک آ گیا ہے۔
از چرخ برینی
چرخ بریں سے۔
A moon-faced starlet, living in its isolated bower, came out of it in order to look closer at the lower planet than from its high tower.
یا ماه تنک ضو که بیک جلوه تمام است
ماهی که برو منت خورشید حرام است
یا یہ کوئی کم روشن چاند ہے جو ایک ہی جلوے میں پورے کمال کو پہنچ گیا ہے، یہ ایسا چاند ہے جسے خورشید کا احسان اٹھانے کی ضرورت نہیں۔
آزاد مقام است
یہ مقام سے آزاد ہے۔ (جدھر چاہتا ہے اڑتا پھرتا ہے)
A gently beaming moonlet told itself that it would owe its light no longer to the bounty of the sun, and so wherever it likes it can go.
ای کرمک شب تاب سراپای تو نور است
پرواز تو یک سلسلهٔ غیب و حضور است
اے رات کو روشن کرنے والے جگنو! تو سراپا نور ہے، تیری پرواز غیب و حضور کا سلسلہ ہے۔ (ایک لمحہ نظر آتا ہے دوسرے لمحہ نظر نہیں آتا)
آئین ظهور است
یہی آئین ظہور (حقیقت) ہے۔
O glow-worm, your whole body is made of the stuff of light. A sequence of its intermittent flashes is your flight – thus flit things in and out of sight.
در تیره شبان مشعل مرغان شب استی
آن سوز چه سوز است که در تاب و تب استی
تو اندھیری رات میں پرندوں کے لیے مشعل کا کام دیتا ہے، تیرا سوز ہے جس کی وجہ سے تو پیچ و تاب میں رہتا ہے۔
گرم طلب استی
(ہر دم) گرم طلب ہے۔
You are a torch for birds that in the evening fly to rest; but what and whence this restless passion burning in your breast, which keeps you in unceasing quest?
مائیم که مانند تو از خاک دمیدیم
دیدیم تپیدیم ، ندیدیم تپیدیم
ایک ہم ہیں کہ اگرچہ تیری طرح خاک سے پیدا ہوئے ہیں، (حقیقت کو) دیکھیں تو بھی تڑپتے ہیں نہ دیکھیں تو بھی تڑپتے ہیں مگر کہیں پہنچتے نہیں۔
جائی نرسیدیم
Like you we entered into this world by earth’s dusty door. We saw and tossed about; we did not see, and tossed about the more. O never did we reach the shore.
گویم سخن پخته و پرورده و ته دار
از منزل گم گشته مگو پای بره دار
(جگنو نے کہا) میں تم سے ایک بات کہتا ہوں جو پختہ اور بامعنی ہے، منزل گم گشتہ کی بات نہ کر، اپنا سفر جاری رکھ۔
این جلوه نگه دار
اور اس جلوۂ (حقیقت) کو ہمیشہ پیش نظر رکھ۔
I speak from ripe experience and true is what I say, don’t think of lost horizons and be steadfast on your way: Keep shining like this while you may.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور