صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »افکار
  4. »بخش 18 - حکمت و شعر

بخش 18 - حکمت و شعر

فلسفہ اور شعر

Philosophy and Poetry

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

قافیہ: لگرفت

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

بوعلی اندر غبار ناقه گم

دست رومی پردهٔ محمل گرفت

بو علی ناقے کے اڑائے ہوئے غبار میں گم (ہو کے رہ گیا) رومی کے ہاتھ میں محمل کا پردہ آ گیا ۔

Bu Ali got lost in the dust kicked up by Layla’s dromedary. Rumi’s hand seized the curtain of her litter.

2

این فرو تر رفت و تا گوهر رسید

آن بگردابی چو خس منزل گرفت

اور یہ گہرائی میں گیا ا ور موتی تک جا پہنچا ۔ (بو علی) نے تنکے کی مانند گرداب ہی کو منزل بنا لیا ۔ (حقیقت کی رسائی کے لیے عشق اور عقل دونوں نے کوشش کی ۔ عشق پا گیا عقل محروم رہ گئی) ۔

This one dived deeper, deeper still, till he came upon the pearl he was after. But the other got caught in a whirlpool like a piece of straw.

3

حق اگر سوزی ندارد حکمت است

شعر میگردد چو سوز از دل گرفت

حقیقت اگر سوز سے خالی ہے تو فلسفہ ہے ۔ اگر وہ دل سے سوز حاصل کر لے تو شعر بن جاتا ہے ۔ حق بے سوز فلسفہ ۔ حق با سوز: شعر ۔

If the truth has no fervour, it is plain philosophy. If it has the proper fervour, it is poetry.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

آن شعله ام که صبح ازل در کنار عشق

پیش از نمود بلبل و پروانه می تپید

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 17 - لاله

اگلی نظم

یک ذره بی مایه متاع نفس اندوخت

شوق این قدرش سوخت که پروانگی آموخت

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 19 - کرمک شبتاب

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آن سفر کرده کش از ما دل گرفت

جان فدایش هر کجا منزل گرفت

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 218

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور