صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »افکار
  4. »بخش 17 - لاله

بخش 17 - لاله

لالے کا پھول

The Tulip

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: ید

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 6

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

آن شعله ام که صبح ازل در کنار عشق

پیش از نمود بلبل و پروانه می تپید

میں وہ شعلہ ہوں جو ازل کی صبح عشق کے آغوش میں بلبل اور پروانے کے ظہور سے پہلے تڑپ رہا تھا ۔

I am the flame which on creation’s dawn was kindled in love’s heart before the nightingale and the moth came to play their sacrificial part.

2

افزونترم ز مهر و بهر ذره تن زنم

گردون شرار خویش ز تاب من آفرید

میں سورج سے بڑھا ہوا ہوں اور ہر ذرے میں سمایا ہوا ہوں ۔ آسمان نے اپنی چنگاری میری آگ سے پیدا کی ہے ۔

I am far bigger than the sun, and pour into each atom’s core a potion of my light: I lend my spark to everyone, and it was I who made the heavens so bright.

3

در سینه چمن چو نفس کردم آشیان

یک شاخ نازک از ته خاکم چو نم کشید

میں نے چمن کے سینے میں سانس کا آشیانہ بنایا اور ایک نازک شاخ نے مجھے مٹی کے نیچے سے نمی کی طرح اپنے اندر جذب کر لیا ۔

Residing like its life-breath in the garden’s breast, in pristine rest, I was drawn up into its bosom by a tree-stem, delicate and thin, as sap that rises up towards the sky.

4

سوزم ربود و گفت یکی در برم بایست

لیکن دل ستم زدهٔ من نیارمید

میں نے اپنا سوز لوٹ لیا اور بولی اک ذرا میرے پہلو میں رہو ۔ لیکن میرے ستم زدہ دل کو کل نہ پڑی (قرار نہ کیا) ۔

It quenched my inner fire and, wanting to beguile me, it said, ‘Stay awhile, and don’t go out into the day’; but my heart’s long-repressed desire could brook no more delay.

5

در تنگنای شاخ بسی پیچ و تاب خورد

تا جوهرم به جلوه گه رنگ و بو رسید

شاخ کی تنگنائے میں اس نے بہت پیچ و تاب کھایا یہاں تک کہ میرا جوہر رنگ و بو کی جلوہ گاہ تک آ پہنچا ۔

I writhed and writhed within the tree, encaged, enraged, until the essence of my being found its way to summits of the ecstasy of self-display.

6

شبنم براه من گهر آبدار ریخت

خندید صبح و باد صبا گرد من وزید

شبنم نے میرے راستے میں آبدار موتی بکھیر دیئے ۔ صبح ہنسی اور باد صبا میرے گرد چلنے لگی ۔

With its pearls of the purest water dew bestrewed my way, as if to say, ‘O what a glorious birth!’ The morning laughed its brightest hue: the breezes blew in hymeneal mirth.

7

بلبل ز گل شنید که سوزم ربوده اند

نالید و گفت جامهٔ هستی گران خرید

بلبل نے پھول سے سنا کہ میرا سوز مجھ سے چھین لیا گیا ۔ (تو)وہ بہت روئی اورا سنے مجھ سے کہا کہ تو نے ہستی کا لباس بہت مہنگا خریدا ہے ۔

The nightingale heard from the rose that I had thrown away my own primordial consuming flame. It said, because this crowned its woes, ‘He paid a heavy price to thrive. For shame!’

8

وا کرده سینه منت خورشید می کشم

آیا بود که باز بر انگیزد آتشم؟

سینہ چاک کئے ہوئے میں سورج کا احسان اٹھا رہا ہوں ۔ ہو سکتا ہے کہ یہ میری آگ کو پھر سے بھڑکا دے ۔ نوٹ: اس نظم کا بنیادی تصور یہ ہے کہ سوز عشق باعث تخلیق کائنات ہے ۔ اگر سوز عشق کارفرما نہ ہوتا تو یہ کائنات ہی پیدا نہ ہوتی ۔

I now stand by my breast rent open to the sun’s effulgence so that it may set ablaze again the fire of my prenatal days.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

یخ ، جوی کوه را ز ره کبر و ناز گفت

ما را ز مویهٔ تو شود تلخ روزگار

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 16 - کبر و ناز

اگلی نظم

بوعلی اندر غبار ناقه گم

دست رومی پردهٔ محمل گرفت

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 18 - حکمت و شعر

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ساقی به شکل جام زر آمد هلال عید

می ده به فر دولت سلطان ابوسعید

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 271

آن کیست تا به حضرت سلطان ادا کند

کز جور چرخ گشت شتر گربه‌ها پدید

حافظ»اشعار منتسب»شمارهٔ 58

صبح آمد و صحیفه مصقول برکشید

وز آسمان سپیدهٔ کافور بردمید

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 879

صورت گری که پیکر روز و شب آفرید

از نقش این و آن بتماشای خود رسید

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 68

مرغی ز آشیانه به سیر چمن پرید

خاری ز شاخ گل بتن نازکش خلید

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 3 - شوپنهاور و نیچه

از سستی عناصر انسان دلش تپید

فکر حکیم پیکر محکم‌تر آفرید

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 6 - نیچه

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور