صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 68

غزل شمارهٔ 68

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: ید

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 6

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

صورت گری که پیکر روز و شب آفرید

از نقش این و آن بتماشای خود رسید

وہ تخلیق کار جس نے دن اور رات کے اجسام پیدا کئے ہیں وہ اپنے ان تخلیق کردہ نقوش کے آئینوں کے ذریعے اپنے تماشا تک پہنچا ہے (آپ اپنا تماشائی ہوا ہے) تخلیق اجسام کا مقصد یہ تھا کہ خدا اپنی ربوبیت ظاہر کرنا چاہتا تھا ۔

The Artist, Whose vast mind both day and night designed, engraving these, displays upon Himself His gaze.

2

صوفی! برون ز بنگه تاریک پا بنه

فطرت متاع خویش به سوداگری کشید

اے صوفی! اپنے تاریک حجرہ سے باہر قدم رکھ اور دیکھ کہ فطرت نے اپنے متاع تخلیق کو سوداگری کے لیے بازار میں لا رکھا ہے ۔

Sufi! Step out before thy dim and dusty store; nature has merchandise to offer – at what price!

3

صبح و ستاره و شفق و ماه و آفتاب

بی پرده جلوه ها به نگاهی توان خرید

صبح، ستارہ، شفق، چاند اور سورج ان سب کے بے پردہ نظاروں کو ایک نگاہ کے بدلے خریدا جا سکتا ہے (اگر وہ نگاہ معرفت شناس ہے) ۔

Down, and the stars and moon, nightfall, the sun at noon – all these unveiled the eye for but one glance may buy!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بهار آمد نگه می غلطد اندر آتش لاله

هزاران ناله خیزد از دل پرکاله پرکاله

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 67

اگلی نظم

باز این عالم دیرینه جوان می‌بایست

برگ کاهش صفت کوه گران می‌بایست

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 69

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ساقی به شکل جام زر آمد هلال عید

می ده به فر دولت سلطان ابوسعید

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 271

آن کیست تا به حضرت سلطان ادا کند

کز جور چرخ گشت شتر گربه‌ها پدید

حافظ»اشعار منتسب»شمارهٔ 58

صبح آمد و صحیفه مصقول برکشید

وز آسمان سپیدهٔ کافور بردمید

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 879

آن شعله ام که صبح ازل در کنار عشق

پیش از نمود بلبل و پروانه می تپید

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 17 - لاله

مرغی ز آشیانه به سیر چمن پرید

خاری ز شاخ گل بتن نازکش خلید

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 3 - شوپنهاور و نیچه

از سستی عناصر انسان دلش تپید

فکر حکیم پیکر محکم‌تر آفرید

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 6 - نیچه

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور