بهار آمد نگه می غلطد اندر آتش لاله
هزاران ناله خیزد از دل پرکاله پرکاله
بہار آ گئی ہے اور یہ نگاہ لالہ کے پھول کی آگ کی طرح سرخی میں لوٹ پوٹ ہو رہی ہے ۔ (چاروں طرف پھول کھلے ہیں ) لیکن میرے ٹکڑے ٹکڑے اس دل سے ہزاروں فریادیں نکل رہی ہیں ۔
Spring is come; bright glances dart in the tulip’s bowl of fire; thousand thousand sighs upspire from each several ember’s heart.
فشان یک جرعه بر خاک چمن از بادهٔ لعلی
که از بیم خزان بیگانه روید نرگس و لاله
اپنے عشق کی سرخ شراب سے ایک گھونٹ چمن کی مٹی پر ڈال دے ۔ تاکہ لالے اور نرگس کے پھول خزاں کے خوف کے بغیر اگیں ۔ انہیں موسم خزاں کا ڈر نہ ہو ۔ جن پھولوں کی آبیاری شرابِ عشق سے کی جاتی ہے وہ فنا نہیں ہوتے ۔
Pour a stoup of ruby glow o’er the garden’s dusty bed; strange and shy, in autumn’s dread, tulip and narcissus grow.
جهان رنگ و بو دانی ولی دل چیست میدانی
مهی کز حلقهٔ آفاق سازد گرد خود هاله
اس جہان رنگ و بو کو تو جانتا ہے (اور اس کی دلفریبیوں میں کھو جانا چاہتا ہے ) لیکن دل کیا چیز ہےکیا تجھے اس کی خبر ہےدل ایک ایسا چاند ہے جو اپنے گرد آفاق کا ہالہ بناتا ہے (دل کائنات کا مرکز ہے اور وجہَ تخلیق کائنات بھی یہی ہے ۔ اس لیے ساری کائنات عشق میں جذب ہو کر اسی کا طواف کرتی ہے)
Hue-and-scent world fills thine eyes; what the heart is, knowest thou? ’Tis a moon, that round its brow casts a halo of the skies.
زمین
من ار چه هر شب از شبهای هجرش می کنم ناله
ز آه من مبادا بر لبش آزار تبخاله
امیرخسرو دهلویدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 1700
ز چشمم ریخت چندان آب کامد خون ز دنباله
کنون افتد به جان خون دلم پرکاله پرکاله
جامیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 424
زمانی برق پر خنده، زمانی رعد پر ناله
چنان چون مادر از سوک عروس سیزده ساله
رودکیقصاید و قطعاتشمارهٔ 108
فارسی متن کا ماخذ: گنجور