صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 67

غزل شمارهٔ 67

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)

قافیہ: اله

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

بهار آمد نگه می غلطد اندر آتش لاله

هزاران ناله خیزد از دل پرکاله پرکاله

بہار آ گئی ہے اور یہ نگاہ لالہ کے پھول کی آگ کی طرح سرخی میں لوٹ پوٹ ہو رہی ہے ۔ (چاروں طرف پھول کھلے ہیں ) لیکن میرے ٹکڑے ٹکڑے اس دل سے ہزاروں فریادیں نکل رہی ہیں ۔

Spring is come; bright glances dart in the tulip’s bowl of fire; thousand thousand sighs upspire from each several ember’s heart.

2

فشان یک جرعه بر خاک چمن از بادهٔ لعلی

که از بیم خزان بیگانه روید نرگس و لاله

اپنے عشق کی سرخ شراب سے ایک گھونٹ چمن کی مٹی پر ڈال دے ۔ تاکہ لالے اور نرگس کے پھول خزاں کے خوف کے بغیر اگیں ۔ انہیں موسم خزاں کا ڈر نہ ہو ۔ جن پھولوں کی آبیاری شرابِ عشق سے کی جاتی ہے وہ فنا نہیں ہوتے ۔

Pour a stoup of ruby glow o’er the garden’s dusty bed; strange and shy, in autumn’s dread, tulip and narcissus grow.

3

جهان رنگ و بو دانی ولی دل چیست میدانی

مهی کز حلقهٔ آفاق سازد گرد خود هاله

اس جہان رنگ و بو کو تو جانتا ہے (اور اس کی دلفریبیوں میں کھو جانا چاہتا ہے ) لیکن دل کیا چیز ہےکیا تجھے اس کی خبر ہےدل ایک ایسا چاند ہے جو اپنے گرد آفاق کا ہالہ بناتا ہے (دل کائنات کا مرکز ہے اور وجہَ تخلیق کائنات بھی یہی ہے ۔ اس لیے ساری کائنات عشق میں جذب ہو کر اسی کا طواف کرتی ہے)

Hue-and-scent world fills thine eyes; what the heart is, knowest thou? ’Tis a moon, that round its brow casts a halo of the skies.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

این هم جهانی آن هم جهانی

این بیکرانی آن بیکرانی

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 66

اگلی نظم

صورت گری که پیکر روز و شب آفرید

از نقش این و آن بتماشای خود رسید

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 68

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

من ار چه هر شب از شبهای هجرش می کنم ناله

ز آه من مبادا بر لبش آزار تبخاله

امیرخسرو دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1700

ز چشمم ریخت چندان آب کامد خون ز دنباله

کنون افتد به جان خون دلم پرکاله پرکاله

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 424

زمانی برق پر خنده، زمانی رعد پر ناله

چنان چون مادر از سوک عروس سیزده ساله

رودکی»قصاید و قطعات»شمارهٔ 108

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور