شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)
باز این عالم دیرینه جوان میبایست
برگ کاهش صفت کوه گران میبایست
اس پرانے بوڑھے کو پھر سے جوان ہونا چاہیے اور اسکے تنکے کو بھاری پہاڑی کی مانند ہونا چاہیے (یہ تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب انسان اپنی خودی سے آشنا ہو) ۔
This ancient universe new youth must now rehearse, its trembling blade of grass huge mountains should surpass.
کف خاکی که نگاه همهبین پیدا کرد
در ضمیرش جگر آلوده فغان میبایست
وہ مٹھی بھر خاک جس نے ہر چیز کو دیکھنے والی آنکھ پیدا کیا ہے (ہر شے کو پرکھنے کا ہنر سیکھا ہے) اس کے دل میں جگر کے خون سے آلودہ فریاد بھی ہونی چاہیے ۔
The handful of poor clay that did a glance display all-viewing, in the brain must shape a cry of pain.
این مه و مهر کهن راه به جایی نبرند
انجم تازه به تعمیر جهان میبایست
یہ صدیوں پرانے چاند اور سورج کسی منزل پر نہیں جاتے ۔ اس لیے اب جہان کی تعمیر کے لیے کوئی نیا ستارہ طلوع ہونا چاہیے ۔ پرانے نظام معاشرے کی اصلاح میں ناکام ہو چکے ہیں ۔ اب نیا نظام جو قرآن کی صورت میں موجود ہے آزمانا چاہے تب ہی نئے معاشرے کی تعمیر ہو سکتی ہے ۔ ) ۔
Our aged moon and sun the course have never run; Fresh stars we must pursue to build the world anew.
هر نگاری که مرا پیش نظر میآید
خوش نگاریست ولی خوشتر از آن میبایست
ہر وہ محبوب جو میری نگاہوں کے سامنے آتا ہے خوب ہے ۔ لیکن (حسنِ محبوب) کو اور بھی زیادہ اچھا ہونا چاہیے ۔
Each image of delight that dawns upon my sight is fair; yet fairer still the image that I will.
گفت یزدان که چنین است و دگر هیچ مگو
گفت آدم که چنین است چنان میبایست
خدا نے آدم سے کائنات کی تخلیق کے بارے میں کہا کہ ایسا ہی ہے اور تم کچھ اور نہ کہو ۔ (ہم نے دنیا جیسی بنا دی ہے ٹھیک بنا دی ہے تم اس میں ترمیم و اضافہ کے لیے نہ کہو ۔ آدم نے کہا کہ اگر یہ ایسی ہے جیسی کہ تو نے بنائی ہے ٹھیک ہے ۔ لیکن یہ ویسی ہونی چاہیے جیسی کہ میں چاہتا ہوں ۔
God said, ‘The world so lies, and say not otherwise’; said Adam, ‘So I see; but thus it ought to be!’
فارسی متن کا ماخذ: گنجور