شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)
قافیہ: ایینداشت
صنف: غزل/قصیده/قطعه
لاله این گلستان داغ تمنائی نداشت
نرگس طناز او چشم تماشائی نداشت
اس چمن میں گل و لالہ تمنا کا داغ نہ رکھتا تھا اور اس کی شوخ و بیباک نرگس نگاہ شوق نہیں رکھتی تھی ۔ چمن میں بے عملی کا دور دورہ تھا ۔
In the mead a tulip blows in whose breast no yearning glows, a narcissus, languid too, yet it lacked the eye to view.
خاک را موج نفس بود و دلی پیدا نبود
زندگانی کاروانی بود و کالائی نداشت
مٹی (آدم) میں سانس کی موج تو موجود تھی ۔ زندگی تو تھی لیکن اس کے اندر سوز والا دل پیدا نہیں ہوا تھا ۔ زندگی اک کارواں تو تھی لیکن اس کے ساتھ کوئی زادہِ راہ نہ تھا ۔ (زندگی میں ذوق عمل کی کمی تھی) ۔
Billowing breath was in the clay, but no heart did it display; caravan upon the road – such was life, yet where the load?
روزگار از های و هوی میکشان بیگانه ئی
باده در میناش بود و باده پیمائی نداشت
زمانے کا میکدہ ، میکشوں کے شور و غل سے خالی تھا ۔ اس کی صراحی میں شراب عشق تو موجود تھی لیکن کوئی شراب پینے والا عاشق موجود نہیں تھا ۔
Time itself was void and free of the topers’ song of glee; wine was in the glass aflame yet was none to quaff the same.
برق سینا شکوه سنج از بی زبانیهای شوق
هیچکس در وادی ایمن تقاضائی نداشت
وادی سینا کی تجلی عشق کی بے زبانی کا شکوہ کر رہی ہے ۔ (جلوہَ حسن تو موجود ہے لیکن نظارہ کرنے والا کوئی نہیں ) دیدار کا تقاضا کرنے والا موجود نہیں ۔
Sinai’s lightning made complaint that desire was dumb and faint; in the peaceful valley there silent was the voice of prayer.
عشق از فریاد ما هنگامه ها تعمیر کرد
ورنه این بزم خموشان هیچ غوغائی نداشت
عشق نے ہماری فریاد سے سارے ہنگامے برپا کئے ہیں ۔ ورنہ یہ خاموش بزم کوئی ہنگامہ (شور و غوغا) نہیں رکھتی تھی ۔
Love upon our woe exprest builds anew the great unrest; else no murmur ever stirs from these silent banqueters.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور