هنگامه را که بست درین دیر دیر پای
زناریان او همه نالنده همچو نای
اس دیرپا (صدیوں سے موجود) مندر میں ہنگامے کس نے پیدا کئے ہیں کہ اس مندر کے زناری (دنیا دار لوگ) سب کے سب بانسری کی مانند رو رہے ہیں (دیر پا مندر سے مراد یہ دنیا ہے جہاں ہر آدمی مضطرب و بے چین ہے) ۔
Whence hath this commotion swirled in our old, slow-moving world that each girdled infidel like a reed of grief doth tell?
در ’بنگه فقیر و به کاشانهٔ امیر
غمها که پشت را به جوانی کند دو تای
غریب کی جھونپڑی ہو یا امیر کا محل، دونوں جگہ ایسے ایسے غم ہیں کہ جو جوانی ہی میں کمر دوہری کر دیتے ہیں (وقت سے پہلے بوڑھا کر دیتے ہیں ) ۔
In the hut of the faqir, in the palace of the ameer there is pain and there is ruth huge to bow the back of youth.
درمان کجا که درد بدرمان فزون شود
دانش تمام حیله و نیرنگ و سیمیای
ان دکھوں کا علاج کیا جائے تو کیسے کیونکہ علاج سے تو درد اور بڑھتا جاتا ہے ۔ (کیونکہ زندگی کے دکھوں کا علاج کرنے کے جتنے بھی عقل نے طریقے دریافت کئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ) عقل اور دانائی سب کی سب بہانہ، شعبدہ اور فریب نظر ہے ۔
Where is cure? For the disease with the cure doth yet increase; science is all wizardry, mean deceit, and trickery.
بی زور سیل کشتی آدم نمی رود
هر دل هزار عربده دارد به ناخدای
آدمی کی کشتی زندگی کے سمندر میں سیلاب کے زور کے بغیر نہیں چلتی ۔ کیونکہ ہر دل کشتی کے کھیون ہار کے ساتھ ہزار طرح کی دشمنی رکھتا ہے ۔
Adam’s ship rides not the main save the torrent strive and strain; every heart a thousand wise doth the helmsman agonize.
از من حکایت سفر زندگی مپرس
در ساختم بدرد و گذشتم غزل سرای
مجھ سے زندگی کے سفر کی داستان مت پوچھو کہ میں نے زندگانی کا سفر کس مشکل سے طے کیا میں نے تو زندگی کا سفر ایسے طے کیا کہ رنج و غم سے دوستی کر لی ۔ اور غزل گاتا ہوا ہنسی خوشی زندگی کے سفر کی منازل طے کرتا چلا گیا ۔
Of life’s story do not seek any tale for me to speak; all its pain I suffered long, and departed with a song.
آمیختم نفس به نسیم سحر گهی
گشتم درین چمن به گلان نانهاده پای
میں نے اپنے سانسوں کو صبح کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میں ملا دیا اور چمن میں اس قدر احتیاط سے چلتا رہا کہ کہیں نازک پھولوں پر پاؤں نہ پڑ جائے ( میں نے زندگی بڑی عاجزی سے اور کسی کا دل دکھائے بغیر بسر کی ہے) ۔
I have let my breath to ride; with the breeze of morning tide; I have wandered in this mead yet no rose hath known my tread.
از کاخ و کو جدا و پریشان بکاخ و کوی
کردم بچشم ماه تماشای این سرای
میں جب تک زندہ رہا محل و کوچوں کے عیش و آرام سے الگ رہا ۔ لیکن محل اور کوچوں میں رہ کر پریشانی سے دن گزارے ۔ میں نے اس جہان کا نظارہ چاند کی طرح کیا (چاند زمین کو اپنی روشنی سے منور کرتا ہے لیکن الگ بھی ہے ۔ اسی طرح میں دنیا سے الگ بھی رہا لیکن دنیا کا شریک سفر بھی رہا ۔
Far from cottage and from street, yet in both abroad, and fleet, with the vision of the moon I have gazed this world upon!
فارسی متن کا ماخذ: گنجور