صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 72

غزل شمارهٔ 72

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: اغ

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 5

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

ای لاله ای چراغ کهستان و باغ و راغ

در من نگر که میدهم از زندگی سراغ

باغ اور سبزہ زار کے پہاڑی سلسلوں میں کھلنے والے اے چراغ لالہ تو مجھ میں جھانک کہ میں تجھے رازِ زندگی سے آشنا کر دوں ۔ میرے اندر جھانکنے سے تجھے معلوم ہو گا کہ میں نے اپنے من میں ڈوب کر زندگی کا سراغ پا لیا ہے ۔

Tulip in the mountains blowing, lamp in mead and garden glowing, gaze on me, for I will give guidance on the way to live.

2

ما رنگ شوخ و بوی پریشیده نیستیم

مائیم آنچه می رود اندر دل و دماغ

ہم کوئی شوخ رنگ اور پریشان پھرنے والی خوشبو نہیں ہیں ۔ ہم تو وہ ہیں کہ جو ہمارے دل و دماغ میں ہے وہی ظاہر میں ہے ۔ (ہماری سوچ اور فکر اور ہمارا عشق ہمیں خدا آشنا کرتا ہے) ۔

We are not the pigment charming, nor the scattered scent disarming, we are that which moves confined in the heart, and in the mind.

3

مستی ز باده میرسد و از ایاغ نیست

هر چند باده را نتوان خورد بی ایاغ

مستی تو شراب میں ہوتی ہے پیالے میں نہیں ۔ بلاشبہ شراب پیالے کے بغیر نہیں پی جا سکتی (شراب اور پیالہ دونوں ضروری ہیں ۔ جس طرح روح کے بغیر جسم بیکار ہے اور جسم کے بغیر روح) ۔

Drunkenness is wine-engendered, springeth not of goblet tendered, though it needs the goblet, too, to consume the wine, ’tis true.

4

داغی به سینه سوز که اندر شب وجود

خود را شناختن نتوان جز به این چراغ

اپنے سینے کے اندر غمِ عشق کا داغ روشن کر کیونکہ وجود کی اندھیری رات میں اس چراغ کے بغیر خود کو پہچانا نہیں جا سکتا ۔

Let thy breast be flame-conceiving, for within this night of living self may never come to sight save discovered by this light.

5

ای موج شعله سینه بباد صبا گشای

شبنم مجو که میدهد از سوختن فراغ

اے شعلہَ عشق کی موج اس سینے کو صبح کی نرم و لطیف ہوا سے لطف اندوز ہونے کے لیے کشادہ کر دے ۔ (اے عشق کے متلاشی) شبنم کی تلاش یا آرزو نہ کر کہ یہ شبنم اس شعلے کو بجھا دیتی ہے جس سے زندگی حرارت ہے ۔

Wave of flame, O bare thy bosom to the morning-breeze; O blossom, do not seek the dew, to quell Thy heart’s fiery crucible!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

هنگامه را که بست درین دیر دیر پای

زناریان او همه نالنده همچو نای

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 71

اگلی نظم

من بندهٔ آزادم عشق است امام من

عشق است امام من عقل است غلام من

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 73

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

نازد به عشق غازهٔ حسن جنون دماغ

پروانه است جوهر آیینهٔ چراغ

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 1869

خلقی چو گل شکفته و خندان به طرف باغ

ما و دلی ز هجر تو چون لاله داغ داغ

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 520

امروز روز شادی و امسال سال لاغ

نیکوست حال ما که نکو باد حال باغ

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 1298

برخیز تا تفرج بستان کنیم و باغ

چون دست می‌دهد نفسی موجب فراغ

سعدی»مواعظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 39

گوید سحر که شب گذر افکنده ای به باغ

گل ها نشان دهند ز تو بلبلان سراغ

نظیری نیشابوری»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 380

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور