شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب)
قافیہ: اممن
صنف: غزل/قصیده/قطعه
من بندهٔ آزادم عشق است امام من
عشق است امام من عقل است غلام من
میں تو ایک آزاد انسان ہوں اور عشق میرا رہبر ہے ۔ عشق میرا رہبر ہے تو عقل میری غلام ہے ۔
I am a slave set free, and Love still leadeth me; Love is my leader still, mind bows to do my will.
هنگامهٔ این محفل از گردش جام من
این کوکب شام من این ماه تمام من
اس محفل کا ہنگامہ میرے جام (دل کے پیالے) کی گردش کے باعث ہے (یہ دل) میری شام کا ستارہ اور میرا چودھویں کا چاند ہے ۔
The tumult flareth up out of my circling cup; this is my evening star, my full moon, flaming far.
جان در عدم آسودهٔ بی ذوق تمنا بود
مستانه نوا ها زد در حلقه دام من
یہ جان میں تمنا کے ذوق کے بغیر اطمینان و سکون سے رہ رہی تھی ۔ میرے جال کے حلقے میں اس نے مستانہ وار آوازیں پیدا کر دیں ۔
The spirit slept at rest, desire stirred not the breast, then struck a drunken air caught in my circling snare.
ای عالم رنگ و بو این صحبت ما تا چند
مرگست دوام تو عشق است دوام من
رنگ اور خوشبو سے مزین اے دلفریب فانی جہان ہماری آپس کی صحبت کب تک چلے گی ۔ کیونکہ تیرا دوام (ہمیشہ رہنے کی صفت) موت ہے اور میرا دوام تو میرا عشق ہے ۔ فنا اور بقا میں یہ میل جول کب تک قائم رہے گی
O world of scent and hue, how long shall we so do? Death thy survival proves my living all is Love’s.
پیدا به ضمیرم او پنهان به ضمیرم او
این است مقام او دریاب مقام من
وہ خدا میرے ضمیر میں ظاہر بھی ہے اور میرے ضمیر میں پوشیدہ بھی ہے ۔ یہ اس کا مقام ہے جو میں نے بتا دیا اب تو میرا مقام معلوم کر کہ وہ کیا ہے ۔ (جب سب کچھ وہی ہے تو پھر میری حیثیت کیا ہے)
The One my thought reveals, the One my thought conceals; here is His dwelling-place – behold my lofty grace!
فارسی متن کا ماخذ: گنجور