شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)
قافیہ: ازیداشت
صنف: غزل/قصیده/قطعه
کم سخن غنچه که در پردهٔ دل رازی داشت
در هجوم گل و ریحان غم دم سازی داشت
کم سخن غنچہ کہ جو اپنے دل میں ایک راز چھپائے رکھتا تھا ۔ گلاب کے پھولوں اور ریحان کی نرم اور خوشبو دار گھاس کی انجمن کے درمیان کسی دوست کا غم رکھتا تھا ۔
Silent rosebud in her heart had a secret, veiled apart, suffered countless aches and woes buffeted by thyme and rose.
محرمی خواست ز مرغ چمن و باد بهار
تکیه بر صحبت آن کرد که پروازی داشت
اس غنچہ نے چمن کے پرندے اور بہار کی ہواسے دوستی کر لی ۔ ان کی صحبت پر اس نے بھروسہ کر لیا کہ وہ بزم کے آداب سے آگاہ تھے ۔ اور جب کچھ دنوں کے بعد خزاں کے موسم نے ڈیرے ڈال لیے تو نہ بلبل رہی اور نہ بہار ۔ تب غنچے کو معلوم ہوا کہ جن کی دوستی پر بھروسہ کیا تھا وہ تو اس کا ساتھ چھوڑ گئے ۔
So she sought, to keep her word, breeze of spring and meadow-bird, putting faith in these (yet both soared on wing) to guard her troth.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور