صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 74

غزل شمارهٔ 74

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: ازیداشت

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

کم سخن غنچه که در پردهٔ دل رازی داشت

در هجوم گل و ریحان غم دم سازی داشت

کم سخن غنچہ کہ جو اپنے دل میں ایک راز چھپائے رکھتا تھا ۔ گلاب کے پھولوں اور ریحان کی نرم اور خوشبو دار گھاس کی انجمن کے درمیان کسی دوست کا غم رکھتا تھا ۔

Silent rosebud in her heart had a secret, veiled apart, suffered countless aches and woes buffeted by thyme and rose.

2

محرمی خواست ز مرغ چمن و باد بهار

تکیه بر صحبت آن کرد که پروازی داشت

اس غنچہ نے چمن کے پرندے اور بہار کی ہواسے دوستی کر لی ۔ ان کی صحبت پر اس نے بھروسہ کر لیا کہ وہ بزم کے آداب سے آگاہ تھے ۔ اور جب کچھ دنوں کے بعد خزاں کے موسم نے ڈیرے ڈال لیے تو نہ بلبل رہی اور نہ بہار ۔ تب غنچے کو معلوم ہوا کہ جن کی دوستی پر بھروسہ کیا تھا وہ تو اس کا ساتھ چھوڑ گئے ۔

So she sought, to keep her word, breeze of spring and meadow-bird, putting faith in these (yet both soared on wing) to guard her troth.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

من بندهٔ آزادم عشق است امام من

عشق است امام من عقل است غلام من

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 73

اگلی نظم

خود را کنم سجودی ، دیر و حرم نمانده

این در عرب نمانده آن در عجم نمانده

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 75

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور