صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »حصهٔ دوم (غزلیات)
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 75

غزل شمارهٔ 75

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن (مضارع مثمن اخرب)

قافیہ: منمانده

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: مستنصر میر
Toggle stanza 1
1

خود را کنم سجودی ، دیر و حرم نمانده

این در عرب نمانده آن در عجم نمانده

میں اب اپنے آپ ہی کو سجدہ کرتا ہوں کیونکہ اب مندر اور مسجد دونوں ہی باقی نہیں رہے ۔ مسجد عرب میں نہیں رہی اور مندر عجم میں موجود نہیں ۔ (نہ تو مسجد ہی رہبری کا فریضہ انجام دے رہی ہے اور نہ ہی مندر میں کوئی راہنما موجود ہے تو پھر اس کے سوا اورکوئی چارہ نہیں کہ میں صرف اپنے ضمیر کی پیروی کروں ) ۔

I bow down before myself – there is no temple or Ka’bah left! This one is missing in Arabia, that one in other lands.

2

در برگ لاله و گل آن رنگ و نم نمانده

در ناله های مرغان آن زیر و بم نمانده

(موجودہ دور جو کہ اہلِ یورپ کی تہذیب کا عکس لیے ہوئے ہے ) اس میں لالہ اور گلاب کے پھولوں کی پتیوں میں وہ رنگ اور لطافت نہیں پائی جاتی ۔ چمن کے پرندوں کے غم انگیز گیتوں میں بھی سر اور تال کا وہ زیر و بم نہیں رہا جو کبھی ان کے گیتو ں میں پایا جاتا تھا ۔

The petals of rose and tulip have lost their colour and moisture; the laments of birds have lost their melody.

3

در کارگاه گیتی نقش نوی نبینم

شاید که نقش دیگر اندر عدم نمانده

کائنات کے اندر میں کوئی نیا نقش ابھرتا ہوا نہیں دیکھ رہا ۔ شاید کی ملک عدم میں کوئی اور نقش باقی نہیں رہا ۔

In the workshop that is the world I see no new designs: Pre-existence has, perhaps, run out of blueprints.

4

سیاره های گردون بی ذوق انقلابی

شاید که روز و شب را توفیق رم نمانده

آسمان کے سیارے ذوقِ انقلاب کے بغیر اپنا سفر طے کر رہے ہیں ۔ شاید کہ دن اور رات میں حرکت کی ہمت باقی نہیں رہی ۔

The heavenly bodies no longer want to revolve: Day and night are, perhaps, unable to move.

5

بی منزل آرمیدند پا از طلب کشیدند

شاید که خاکیان را در سینه دم نمانده

(عہد حاضر کے لوگ) منزل مراد کی فکر کئے بغیر آرام سے سو رہے ہیں ۔ شاید کہ مٹی کے بنے ہوئے ان خاکی پتلوں میں دم باقی نہیں رہا ۔

They have put up their feet before reaching their destination: the earthlings have, perhaps, no breath left in their chests.

6

یا در بیاض امکان یکبرگ ساده ئی نیست

یا خامهٔ قضا را تاب رقم نمانده

(اس تمام بے عملی کی وجہ یہ ) ہو سکتی ہے کہ امکان کے بیاض میں کوئی سادہ ورق باقی نہیں رہا ۔ یا پھر ایسا ہے کہ ممکنات کا ظہور تو ابھی باقی ہے لیکن تب تقدیر میں لکھنے کی ہمت نہیں ۔

Either the Register of Possibles has no blank pages left or the Pen of Fate has grown too tired to write.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

کم سخن غنچه که در پردهٔ دل رازی داشت

در هجوم گل و ریحان غم دم سازی داشت

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 74

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور