صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »نقشِ فرنگ
  4. »بخش 3 - شوپنهاور و نیچه

بخش 3 - شوپنهاور و نیچه

Schopenhauer and Nietzsche

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: ید

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 6

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: نکلسن
Toggle stanza 1
1

مرغی ز آشیانه به سیر چمن پرید

خاری ز شاخ گل بتن نازکش خلید

ایک پرندہ آشیانے سے چمن کی سیر کو اڑا گلاب کی ٹہنی سے ایک کانٹا اس کے نازک بدن میں چبھ گیا ۔

A bird flew from its nest and ranged about the garden; its soft breast was pierced by a rose-thorn.

2

بد گفت فطرتِ چمنِ روزگار را

از درد خویش و هم ز غم دیگران تپید

اس نے زمانے کے چمن کی فطرت کو برا کہا ۔ اپنے اور دوسرے کے درد سے تڑپ اٹھا ۔ اقبال نے ایک مصرع میں نٹشے کی ساری زندگی بیان کر دی ۔

It reviled the nature of Time’s garden; it throbbed with its own pain and pain of others.

3

داغی ز خون بی‌گنهی لاله را شمرد

اندر طلسمِ غنچه فریبِ بهار دید

اس نے گل لالہ کو کسی بے گناہ کے خون کا داغ شمار کیا ۔ غنچے کی طلسم میں اسے بہار کا دھوکا دکھائی دیا ۔

It thought the tulip was branded with the blood of innocents; in the closed bud it saw the guile of spring.

4

گفت اندرین سرا که بنایش فتاده کج

صبحی کجا که چرخ درو شامها نچید

وہ بولا اس مکان میں جس کی بنیاد ہی ٹیڑھی پڑی ہے وہ صبح کہاں جس میں آسمان نے شا میں نہیں چن دیں ۔

It asked if in this world, with its foundation wrongly laid, there was a single morning into which Time had not built an evening;

5

نالید تا به حوصلهٔ آن نوا طراز

خون گشت نغمه و ز دو چشمش فرو چکید

یہاں تک رویا کہ اس نوا طراز کے گلے میں نغمہ خون ہو گیا اور اس کی آنکھوں سے ٹپک پڑا ۔

And it wept so much that song turned to blood in its throat and dripped as tears from its eyes.

6

سوز فغان او بدل هدهدی گرفت

با نوک خویش خار ز اندام او کشید

اس کی فریاد کی لپک نے ایک ہد ہد کے دل کو متاثر کیا ہد ہد نے اپنی چونچ سے اس کے بدن میں سے کانٹاکھینچ لیا ۔

From the cries of burning woe a hoopoe’s heart caught fire. The hoopoe with his beak drew forth the thorn from its body.

7

گفتش که سود خویش ز جیب زیان برآر

گل از شکاف سینه زرِ ناب آفرید

وہ اس سے بولا کہ نقصان کے اندر سے فائدہ کی صورت پیدا کر ۔ پھول نے سینے کے شگاف سے کھرا سونا پیدا کیا ۔

Saying, ‘Get the profit out of loss: The rose has created pure gold by rending her breast.

8

درمان ز درد ساز اگر خسته تن شوی

خوگر به خار شو که سراپا چمن شوی

اگر ترا بدن زخمی ہو جائے تو درد ہی کو اپنا علاج بنا کانٹے سے میل کر لے تاکہ تو سراپا چمن ہو جائے ۔

If thou art wounded, make the pain thy remedy. Accustom thyself to thorns that thou mayst become entirely one with the garden.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بَرفِتَد تا روشِ رزم درین بزم کهن

دردمندان جهان طرح نو انداخته‌اند

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 2 - جمعیت الاقوام

اگلی نظم

فلسفی را با سیاست دان بیک میزان مسنج

چشم آن خورشید کوری دیدهٔ این بی نمی

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 4 - فلسفه و سیاست

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ساقی به شکل جام زر آمد هلال عید

می ده به فر دولت سلطان ابوسعید

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 271

آن کیست تا به حضرت سلطان ادا کند

کز جور چرخ گشت شتر گربه‌ها پدید

حافظ»اشعار منتسب»شمارهٔ 58

صبح آمد و صحیفه مصقول برکشید

وز آسمان سپیدهٔ کافور بردمید

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 879

صورت گری که پیکر روز و شب آفرید

از نقش این و آن بتماشای خود رسید

علامہ اقبال»زبور عجم»غزلیات»غزل شمارهٔ 68

آن شعله ام که صبح ازل در کنار عشق

پیش از نمود بلبل و پروانه می تپید

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 17 - لاله

از سستی عناصر انسان دلش تپید

فکر حکیم پیکر محکم‌تر آفرید

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 6 - نیچه

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور