Schopenhauer and Nietzsche
مرغی ز آشیانه به سیر چمن پرید
خاری ز شاخ گل بتن نازکش خلید
ایک پرندہ آشیانے سے چمن کی سیر کو اڑا گلاب کی ٹہنی سے ایک کانٹا اس کے نازک بدن میں چبھ گیا ۔
A bird flew from its nest and ranged about the garden; its soft breast was pierced by a rose-thorn.
بد گفت فطرتِ چمنِ روزگار را
از درد خویش و هم ز غم دیگران تپید
اس نے زمانے کے چمن کی فطرت کو برا کہا ۔ اپنے اور دوسرے کے درد سے تڑپ اٹھا ۔ اقبال نے ایک مصرع میں نٹشے کی ساری زندگی بیان کر دی ۔
It reviled the nature of Time’s garden; it throbbed with its own pain and pain of others.
داغی ز خون بیگنهی لاله را شمرد
اندر طلسمِ غنچه فریبِ بهار دید
اس نے گل لالہ کو کسی بے گناہ کے خون کا داغ شمار کیا ۔ غنچے کی طلسم میں اسے بہار کا دھوکا دکھائی دیا ۔
It thought the tulip was branded with the blood of innocents; in the closed bud it saw the guile of spring.
گفت اندرین سرا که بنایش فتاده کج
صبحی کجا که چرخ درو شامها نچید
وہ بولا اس مکان میں جس کی بنیاد ہی ٹیڑھی پڑی ہے وہ صبح کہاں جس میں آسمان نے شا میں نہیں چن دیں ۔
It asked if in this world, with its foundation wrongly laid, there was a single morning into which Time had not built an evening;
نالید تا به حوصلهٔ آن نوا طراز
خون گشت نغمه و ز دو چشمش فرو چکید
یہاں تک رویا کہ اس نوا طراز کے گلے میں نغمہ خون ہو گیا اور اس کی آنکھوں سے ٹپک پڑا ۔
And it wept so much that song turned to blood in its throat and dripped as tears from its eyes.
سوز فغان او بدل هدهدی گرفت
با نوک خویش خار ز اندام او کشید
اس کی فریاد کی لپک نے ایک ہد ہد کے دل کو متاثر کیا ہد ہد نے اپنی چونچ سے اس کے بدن میں سے کانٹاکھینچ لیا ۔
From the cries of burning woe a hoopoe’s heart caught fire. The hoopoe with his beak drew forth the thorn from its body.
گفتش که سود خویش ز جیب زیان برآر
گل از شکاف سینه زرِ ناب آفرید
وہ اس سے بولا کہ نقصان کے اندر سے فائدہ کی صورت پیدا کر ۔ پھول نے سینے کے شگاف سے کھرا سونا پیدا کیا ۔
Saying, ‘Get the profit out of loss: The rose has created pure gold by rending her breast.
درمان ز درد ساز اگر خسته تن شوی
خوگر به خار شو که سراپا چمن شوی
اگر ترا بدن زخمی ہو جائے تو درد ہی کو اپنا علاج بنا کانٹے سے میل کر لے تاکہ تو سراپا چمن ہو جائے ۔
If thou art wounded, make the pain thy remedy. Accustom thyself to thorns that thou mayst become entirely one with the garden.
زمین
ساقی به شکل جام زر آمد هلال عید
می ده به فر دولت سلطان ابوسعید
جامیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 271
آن کیست تا به حضرت سلطان ادا کند
کز جور چرخ گشت شتر گربهها پدید
حافظاشعار منتسبشمارهٔ 58
صبح آمد و صحیفه مصقول برکشید
وز آسمان سپیدهٔ کافور بردمید
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 879
صورت گری که پیکر روز و شب آفرید
از نقش این و آن بتماشای خود رسید
علامہ اقبالزبور عجمغزلیاتغزل شمارهٔ 68
آن شعله ام که صبح ازل در کنار عشق
پیش از نمود بلبل و پروانه می تپید
علامہ اقبالپیام مشرقافکاربخش 17 - لاله
از سستی عناصر انسان دلش تپید
فکر حکیم پیکر محکمتر آفرید
علامہ اقبالپیام مشرقنقشِ فرنگبخش 6 - نیچه
فارسی متن کا ماخذ: گنجور