صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »نقشِ فرنگ
  4. »بخش 2 - جمعیت الاقوام

بخش 2 - جمعیت الاقوام

The League of Nations

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: اختهاند

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: نکلسن
Toggle stanza 1
1

بَرفِتَد تا روشِ رزم درین بزم کهن

دردمندان جهان طرح نو انداخته‌اند

جہان کا دکھ درد رکھنے والوں نے نئی بنیاد ڈالی ہے تاکہ اس دنیا سے جنگ کی ریت اٹھ جائے

To the end that wars may cease on this old planet, the suffering peoples of the world have founded a new institution.

2

من ازین بیش ندانم که کفن دزدی چند

بهرِ تقسیم قبور انجمنی ساخته‌اند!

میں اس سے زیادہ نہیں جانتا کہ کچھ کفن چوروں نے قبروں کو آپس میں بانٹنے کے لیے ایک انجمن بنا لی ہے ۔

So far as I see it amounts to this: A number of undertakers have formed a company to allot the graves.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

از من ای باد صبا گوی به دانای فرنگ

عقل تا بال گشود است گرفتارتر است

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 1 - پیام

اگلی نظم

مرغی ز آشیانه به سیر چمن پرید

خاری ز شاخ گل بتن نازکش خلید

علامہ اقبال»پیام مشرق»نقشِ فرنگ»بخش 3 - شوپنهاور و نیچه

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

پی تحقیق کسانی که گرو تاخته‌اند

همه چون صبح به خمیازه نفس باخته‌اند

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 1310

در بساطی که دم تیغ ادب آخته‌اند

بی‌نیازان سر و گردن به خم افراخته‌اند

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 1311

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور