نقشِ فرنگ ۔ پیام
A Message to the West
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)
صنف: چند بندی
از من ای باد صبا گوی به دانای فرنگ
عقل تا بال گشود است گرفتارتر است
اے صبا میری طرف سے مغرب کے دانا سے کہنا تمہاری عقل جتنا پر کھولتی ہے پھنستی چلی جاتی ہے۔
O morning breeze, convey this to the Western sage from me: With wings unfolded, Wisdom is a captive all the more.
برق را این به جگر میزند آن رام کند
عشق از عقل فسون پیشه جگردارتر است
یہ برق کو جگر پر لیتی ہے وہ اسے رام کرتی ہے۔ عشق منتر پھونکنے والی عقل سے زیادہ جگر دار (حوصلہ مند) ہے۔
It tames the lightning, but Love lets it strike its very heart: In courage Love excels that clever sorcerer by far.
چشم جز رنگ گل و لاله نبیند ورنه
آنچه در پردهٔ رنگ است پدیدارتر است
آنکھ لالہ و گل کے رنگ کے علاوہ اور کچھ نہیں دیکھتی ورنہ جو کچھ رنگ کی اوٹ میں ہے وہ زیادہ ظاہر ہے۔
The eye sees just the colour of the tulip and the rose; but far more obvious, could we see it, is the flower’s core.
عجب آن نیست که اعجاز مسیحا داری
عجب این است که بیمار تو بیمارتر است
تعجب اس پر نہیں کہ تو مسیحائی کو معجزہ رکھتا ہے ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ تیرا بیمار اور بھی بیمار ہو چلا ہے(تیرے علاج سے مریض کا مرض اور بڑھ گیا ہے)۔
It is not strange that you have the Messiah’s healing touch: What is strange is your patient is the more sick for your cure.
دانش اندوختهای دل ز کف انداختهای
آه زان نقد گرانمایه که درباختهای
تو نے علم ذخیرہ کر لیا مگر دل ہاتھ سے دے دیا۔ آہ وہ انمول دولت جو تو گنوا بیٹھا۔
Though you have gathered knowledge, you have thrown away the heart; with what a precious treasure you have thought it fit to part!
حکمت و فلسفه کاریست که پایانش نیست
سیلی عشق و محبت به دبستانش نیست
سائنس اور فلسفہ وہ کام ہے جس کا کوئی انجام نہیں ہے۔ اس کے مدرسے میں عشق و محبت کے تھپیڑے نہیں۔
The courting of philosophy is a vain quest, indeed; for in its school Love’s lofty regimen is not decreed.
بیشتر راه دل مردم بیدار زند
فتنهای نیست که در چشم سخندانش نیست
اکثر جاگے ہوؤں ہی کا دل لوٹتی ہے۔ کوئی فتنہ نہیں جو اسکی ہوشیار آنکھوں میں نہیں۔
Such are its blandishments; it leads astray the pupil’s heart: There is no mischief its coquettish glances do not breed.
دل ز ناز خنک او به تپیدن نرسد
لذتی در خلش غمزهٔ پنهانش نیست
دل اس کی ٹھنڈی ادا سے تڑپنے نہیں پاتا اس کے چھپے چھپے اشاروں کی کھٹک میں کوئی لذت نہیں۔
But its cold fire can never set the seeker’s heart aflame: It cannot give the heart Love’s sweet pain, though it makes it bleed.
دشت و کهسار نوردید و غزالی نگرفت
طوف گلشن زد و یک گل به گریبانش نیست
اس نے بن اور پہاڑ ایک کر دیے (در در کی خاک چھانی) مگر کوئی غزال ہاتھ نہ آیا (حقیقت کو نہ پا سکا) ۔ گلشن کے پھیرے لگائے لیکن اس کے گریبان میں ایک پھول بھی نہیں(فلسفی ساری عمر حقیقت کی تلاش میں بسر کر دیتا ہے لیکن حقیقت تک اس کی رسائی نہیں ہو سکتی)۔
Though it has roamed the deserts, it has captured no gazelle; though it has searched the garden, it has not a rose for meed.
چاره این است که از عشق گشادی طلبیم
پیش او سجده گذاریم و مرادی طلبیم
چارہ یہ ہے کہ ہم عشق سے دستگیری چاہیں اس کے آگے سجدہ کریں اور اس سے مراد مانگیں (اس کا ازالہ یہ ہے کہ عقل کے بجائے عشق کو رہنما بنائیں)۔
The wisest thing that we can do is to appeal to Love; for our desires’ fulfillment we should always kneel to Love.
عقل چون پای درین راه خم اندر خم زد
شعله در آب دوانید و جهان بر هم زد
عقل نے جب اس پیچ در پیچ راہ میں قدم رکھا تو پانی میں شعلہ دوڑایا اور دنیا الٹ پلٹ کر رکھ دی (دنیا کو درہم برہم کر دیا)۔
Wisdom, since it set foot on life’s labyrinthine way, has set the sea on fire and made the whole world go awry.
کیمیاسازیِ او ریگ روان را زر کرد
بر دل سوخته اکسیر محبت کم زد
اس کی کیمیا گری نے اڑتی ہوئی ریت کو سونا بنا دیا مگر کسی جلے ہوئے دل پر محبت کی اکسیر نہیں رکھی( کہ وہ کندن بن جاتا ۔ ان کے دل میں خوف خدا یا ہمدردی کا مادہ پیدا نہیں کیا)۔
Its alchemy converted worthless grains of sand to gold; but oh! It gave the wounded heart no love-balm to apply.
وای بر سادگی ما که فسونش خوردیم
رهزنی بود کمین کرد و ره آدم زد
ہماری سادگی پر افسوس کہ اس کے فریب میں آ گئے وہ ایک رہزن تھا جس نے گھات لگائی اور آدمی کی راہ ماری۔
Alas! We were so foolish as to let it steal our wits: It waylaid us, subjecting us to highway robbery.
هنرش خاک برآورد ز تهذیب فرنگ
باز آن خاک به چشم پسر مریم زد
اس کے ہنر نے فرنگی تہذیب کی خاک اڑائی پھر وہی خاک خاک مریم کے بیٹے کی آنکھوں میں ڈال دی (جناب عیسیٰ مسیح کی قابل قدر اخلاقی تعلیمات کو شدید نقصان پہنچایا)۔
It raised up much dust from the civilization of the West to cast into that civilization’s Holy Saviour’s eye.
شرری کاشتن و شعله درودن تا کی؟
عقده بر دل زدن و باز گشودن تا کی؟
کب تک چنگاری بونا اور شعلے کاٹنا؟ دل پر گرہ ڈالنا اور پھر کھولنا کب تک؟ (تم کب تک عقل پرستی کے گرداب میں مبتلا رہو گے)۔
O how long can you go on sowing sparks and reaping flames, and tying up your heart in knots which bear new-fangled names?
عقل خودبین دگر و عقل جهانبین دگر است
بال بلبل دگر و بازوی شاهین دگر است
مطل:اپنے آپ میں گم عقل اور ہے دنیا دیکھنے والی عقل اور بلبل کا پر اور ہے شاہیں کا شہپر اور ہے ۔
The self-absorbed and world-regarding wisdom are two things. The nightingale and falcon have two different kinds of wings.
دگر است آنکه برد دانهٔ افتاده ز خاک
آنکه گیرد خورش از دانهٔ پروین دگر است
اور ہے وہ پرندہ جو مٹی پر پڑا ہوا دانا چگتا ہے ۔ جو ثریا کے خوشے سے خوراک جھپٹتا ہے وہ پرندہ اور ہے۔
It is one thing to pick up stray grain lying on the ground; another to peck at gems in the Pleiades’ earrings.
دگر است آنکه زند سیر چمن مثل نسیم
آنکه در شد به ضمیر گل و نسرین دگر است
وہ جو باغ میں نسیم کی طرح چکراتا پھرتا ہے اور وہ جو گلاب اور نسرین کے پھولوں کے اندر اتر گیا وہ اور ہے۔
It is one thing to roam the garden like the morning breeze; another to delve in the rose’s inmost ponderings.
دگر است آن سوی نه پرده گشادن نظری
این سوی پرده گمان و ظن و تخمین دگر است
اور ہے ان نو پردوں کے اس طرح دیکھنا پردے کے ادھر اُدھر اٹکل پچو لڑانا اور ہے۔
It is one thing to let doubt and conjecture bog you down; another to look up and see celestial happenings.
ای خوش آن عقل که پهنای دو عالم با اوست
نور اِفرِشته و سوز دل آدم با اوست
مبارک ہے وہ عقل کہ دونوں جہان کا پھیلاؤ اس کے جلوے میں ہے فرشتے کا نور اور آدم کے دل کا سوز اس میں سمایا ہوا ہے۔
Blest is the Wisdom which has both the worlds in its domain, which calls man’s heart’s fire as well as the angels’ light its own.
ما ز خلوتکدهٔ عشق برون تاختهایم
خاک پا را صفت آینه پرداختهایم
ہم عشق کے خلوت کدے سے باہر نکلے ہیں (یلغار کی ہے) ہم نے پاؤں کی مٹی کو آئینے کی طرح چمکایا ہے۔
We, since we issued forth out of the sacred shrine of Love, have burnished mirror-bright the very dust beneath our feet.
در نگر همت ما را که به داوی فکنیم
دو جهان را که نهان برده عیان باختهایم
ہماری ہمت دیکھ کہ ہم نے ایک ہی داؤ پر لگا دیا ہے دونوں جہاں کو جنھیں ہم چھپا کر لائے اور دکھا کر ہار گئے ۔
O look at our adventurousness in the game of life; for we have robbed the wealth of both the worlds and boldly staked it.
پیش ما میگذرد سلسلهٔ شام و سحر
بر لب جوی روان خیمه برافراختهایم
ہمارے آگے صبح اور شام کی لین ڈوری لگی رہتی ہے ۔ ہم نے بہتی ہوئی ندی کے کنارے پر خیمہ لگا رکھا ہے۔
We watch the day-and-night procession move before our eyes, with our tents pitched right on the margin of a running streamlet.
در دل ما که برین دیر کهن شب خون ریخت
آتشی بود که در خشک و تر انداختهایم
ہمارے دل نے اس دیر کہن (دنیا) پر شبخون مارا، ایک آگ تھی جو ہم نے خشک و تر میں لگا دی۔
ترجمہ: میاں عبدالرشید
Once in our heart, which launched a night-raid on this ancient fane, there was a fire which we breathed into all things, dry or wet.
شعله بودیم، شکستیم و شرر گردیدیم
صاحب ذوق و تمنا و نظر گردیدیم
ہم شعلہ تھے ٹوٹ گئے اور چنگاری بن گئے ۔ ہو گئے مستی اور چاہ اور آنکھ والے۔
We were a flame; we flickered, broke down and became a spark: And since then we burn fitfully, with yearnings vague and dark.
عشق گردید هوسپیشه و هر بند گسست
آدم از فتنه او صورت ماهی در شست
عشق نے ہوس کا چلن اختیار کر لیا اور ہر روک گرا دی ۔ آدمی جیسے کانٹے میں پھنسی ہوئی مچھلی کے فتنے سے۔
Love learned the greedy ways of earthly lust and burst all bounds: It caught men in its toils as fish are caught by fishermen.
رزم بر بزم پسندید و سپاهی آراست
تیغ او جز به سر و سینهٔ یاران ننشست
اس نے رزم کو بزم پر ترجیح دی اور لشکر ترتیب دیا اس کی تلوار نہ گری مگر دوستوں کے سر اور چھاتی پر۔
Preferring war to peace, it reared up armies everywhere, which plunged their swords into the hearts of their own kith and kin.
رهزنی را که بنا کرد جهانبانی گفت
ستم خواجگی او کمر بنده شکست
اس نے رہزنی کی بنا ڈالی اور اسے جہانبانی بتایا اور اس کی ملوکیت کے ستم نے مجبوروں کی کمر توڑ کے رکھ دی۔
It gave the name of empire to its acts of banditry; and heavy sat its yoke on those who lived in its domain.
بیحجابانه به بانگ دف و نی میرقصد
جامی از خون عزیزان تُنُکمایه به دست
دف ونی کی آواز پر دیدہ دلیری سے رقص کر رہا ہے۔ گرے پڑے عزیزوں کے خون سے بھرا پیالہ ہاتھ میں لیے ۔
Now, holding in its hand a goblet full of human blood, it dances madly to the tune of flute and tambourine.
وقت آن است که آیین دگر تازه کنیم
لوح دل پاک بشوییم و ز سر تازه کنیم
وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک اور نظام بروئے کار لائیں دل کی تختی دھو ڈالیں اور نئے سرے سے شروع کریں۔ (وقت آ گیا ہے کہ ہم اس فرسودہ نظا م ملوکیت کو ختم کر دیں)۔
It is high time that we washed clean the tablet of our heart: It is high time that with a clean slate we made a fresh start.
افسر پادشهی رفت و به یغمایی رفت
نی اسکندری و نغمهٔ دارایی رفت
بادشاہت کا تاج گیا اور لوٹ کھسوٹ کا شکار ہوا۔ سکندر کا ساز اور دارا کا ترانہ فنا ہو گیا(سکندر اور دارا مطلق العنان بادشاہوں کا دور ختم ہو رہا ہے )۔
The royal crown has passed into the hands of highwaymen. Hushed is the song of Darius; mute is Alexander’s flute.
کوهکن تیشه به دست آمد و پرویزی خواست
عشرت خواجگی و محنت لالایی رفت
کوہکن ہاتھ میں تیشہ لیے ہوئے آیا اور پرویزی طلب کی بادشاہی کا عیش اور غلامی کی سختی رخصت ہو گئی (مزدوروں کی غلامی کا زمانہ ختم ہو رہا ہے )۔
Farhad has changed his pickaxe for the sceptre of Parvez. Gone are the joy of mastership, the toil of servitude.
یوسفی را ز اسیری به عزیزی بردند
همه افسانه و افسون زلیخایی رفت
یوسفی قید سے چھوٹ کر بادشاہت تک پہنچ گئی۔ زلیخا کی ساری کہانی اور جادوگری بیچ میں سے نکل گئی۔
Freed from his bondage, Joseph sits on Pharaoh’s high throne: The tales and wiles of Potiphar’s wife cannot win her suit.
رازهایی که نهان بود به بازار افتاد
آن سخنسازی و آن انجمنآرایی رفت
وہ راز جو چھپے ہوئے تھے بازار میں آ گئے سخن سازی اور انجمن آرائی کا دور ختم ہو گیا۔
Old secrets that were veiled stand unveiled in the market-place: No longer are they subjects of debate for the elite.
چشم بگشای اگر چشم تو صاحبنظر است
زندگی در پی تعمیر جهان دگر است
آنکھ کھول اگر تیری نظر نظر رکھتی ہے اور دیکھ۔ زندگی ایک اور ہی دنیا تعمیر کرنے کی دھن میں ہے۔
Unveil your eyes and you will see that in full view of you life is creating for itself a world completely new.
من درین خاک کهن گوهر جان میبینم
چشم هر ذره چو اَنجُم نگران میبینم
میں اس فرسودہ مٹی میں زندگی کا جوہر دیکھ رہا ہوں (نئی زندگی کے آثار دیکھ رہا ہوں) میں ہر ذرے کی آنکھ ستاروں کی طرح بیدار دیکھ رہا ہوں۔
In this our ancient dust I find the pure gold of the soul: Each atom of it is a star’s eye with the power to see.
دانهای را که به آغوش زمین است هنوز
شاخ در شاخ و برومند و جوان میبینم
وہ بیج جو ابھی زمین کی آغوش میں اندر ہے میں اسےگھنیرا، پھلدار اور ہر ابھرا دیکھ رہا ہوں۔
In every grain of sand lodged in the womb of mother earth I see the promise of a many-branched fruit-laden tree.
کوه را مثل پر کاه سبک مییابم
پر کاهی صفت کوه گران میبینم
مغربی تہذیب کے پہاڑ کو گھاس کی پتی کی طرح ہلکا پاتا ہوں۔ تنکے کو وزنی پہاڑ دیکھ رہا ہوں۔
I find the mountain as light as a tiny blade of grass, and heavy as a mountain seems a blade of grass to me.
انقلابی که نگنجد به ضمیر افلاک
بینم و هیچ ندانم که چه سان میبینم
وہ انقلاب جو آسمانوں کے ضمیر میں نہیں سماتا میں اسے دیکھ رہا ہوں۔ مگر کچھ نہیں جانتا کہ کیونکہ (کیسے دیکھ رہا ہوں)۔
A revolution too big for the universe’s mind I see, I know not how: I see it just about to be.
خرم آن کس که درین گرد سواری بیند
جوهر نغمه ز لرزیدن تاری بیند
مبارک ہے وہ شخص جو اس گرد میں سوار کو دیکھ لے ۔ تار ہلنے سے نغمے کی روح بوجھ لے۔
O happy he who sees the horseman, not the dust alone, who in the throbbing of the strings sees music’s essence drawn.
زندگی جوی روان است و روان خواهد بود
این می کهنه جوان است و جوان خواهد بود
زندگی بہتی ہوئی ندی ہے اور یہ ہمیشہ بہتی ہی رہے گی۔ یہ پرانی شراب نشے سے بھری ہوئی ہے اور بھری ہی رہے گی۔
Life is, and as long as it lasts, will be a running stream: This old wine’s youthful effervescense will always be new.
آنچه بود است و نباید ز میان خواهد رفت
آنچه بایست و نبود است همان خواهد بود
جو کچھ ہے مگر نہیں ہو نا چاہیے وہ مٹ جائے گا جو ہونا چاہئے تھا لیکن نہیں ہے وہ ہو جائے گا۔
What has been but should not have been will not be any more: What should have been but has not been will be – it must be so.
عشق از لذت دیدار سراپا نظر است
حسن مشتاق نمود است و عیان خواهد بود
عشق دیدار کی لذت سے سراپا نظر بن گیا (انتظار میں ہے) حسن رونمائی چاہتا ہے اور بے نقاب ہو کر رہے گا۔
Love is all eyes for Beauty’s revelations yet to be: And Beauty, fond of self-display, must always be on view:
آن زمینی که بر او گریهٔ خونین زدهام
اشک من در جگرش لعل گران خواهد بود
وہ زمین جس پر میں نے خون کے آنسو گرائے ہیں میرا اشک اس کے جگر میں یاقوت بن جائے گا۔
Deep in the earth that I have watered with my blood-stained tears my teardrops will remain embedded, gems of a rich hue.
مژدهٔ صبح درین تیره شبانم دادند
شمع کشتند و ز خورشید نشانم دادند
مجھے اس اندھیری رات میں صبح کی خوشخبری دی گئی ہے۔ شمع بجھا دی گئی مگر سورج کی جھلک مجھے دکھا دی گئی ہے۔
‘I see in the dark night a portent of the coming dawn. My candle has been put out, but to greet the rising sun.’
فارسی متن کا ماخذ: گنجور