ساقی نامہ(نشاط باغ کشمیر میں لکھا گیا)
Sakinama
خوشا روزگاری خوشا نوبهاری
نجوم پرن رست از مرغزاری
کیا سماں ہے کیسی نئی بہار ہے ۔ سبزہ زار سے ستاروں کا گچھا اگا (پروین کے خوشے نکل آئے)
O what a happy season this! O what a joyous time! The meadows are star-spangled with fresh flowers in spring’s prime.
زمین از بهاران چو بال تذروی
ز فواره الماس بار آبشاری
بہار کی رت سے زمین چکور کے پنکھ کی طرح (رنگین) ہے ۔ آبشار فواروں کے ذریعے سے ہیرے برسا رہی ہے ۔
Like partridge-wings the ground is pied with variegated flowers. How bountiful the waterfall! What diamonds it showers!
نپیچد نگه جز که در لاله و گل
نغلطد هوا جز که بر سبزه زاری
نظر نہیں لپٹتی مگر لالہ گل کے بیچ (جدھر نگاہ اٹھتی ہے لالہ و گل نظر آتے ہیں ) ۔ ہوا نہیں لوٹتی مگر سبزہ زار پر (جس طرف جاتی ہے سامنے سبزہ زار پھیلا ہوا ہے) ۔
Of roses and of tulips what a riot meets the eye! The breezes frolicsomely roll on miles of greenery.
لب جو خود آرائی غنچه دیدی
چه زیبا نگاری چه آئینه داری
تو نے ندی کے کنارے کلی کو بناوَ سنگھار کرتے دیکھا کیا حسین محبوب کیسی شیشہ دکھانے والی (کیا خوبصورت محبوب ہے اور اس کے سامنے کیسا آئینہ ہے) ۔
Have you seen mirrored in the stream the self-admiring bud? What fascinating beauty and what unabashed self-pride!
چه شیرین نوائی چه دلکش صدائی
که می آید از خلوت شاخساری
کیسی مدہر لے ہے کیسی دل کھینچنے والی آواز ہے ۔ جو درخت کی شاخوں کی تنہائی میں سے آ رہی ہے(پرندوں کی آوازیں آ رہی ہیں ) ۔
O what a mellifluous song, in what a lovely tune, from some bird hidden in a tree, singing as if alone!
بتن جان بجان آرزو زنده گردد
ز آوای ساری ز بانگ هزاری
بدن میں روح، روح میں آرزو زندہ ہو جاتی ہے مینا کی آواز سے بلبل کی چہکار سے ۔
The starling and the nightingale with song resuscitate the spirit in the body and old longings in the spirit.
نوا های مرغ بلند آشیانی
در آمیخت با نغمه جویباری
بلندی پر بسیرا کرنے والے پرندوں کی آوازیں نہر کے نغمے سے گھل مل گئی ہیں
From high-perched nests up in the trees the songsters’ warblings seem to cascade down and mingle with the babblings of the stream.
تو گوئی که یزدان بهشت برین را
نهاد است در دامن کوهساری
تو کہے گا کہ خدا نے بہشت بریں کو پہاڑوں کے دامن میں لا اتارا ہے ۔
You would think God had graciously sent down His Paradise and placed it at a mountain’s foot for human ears and eyes.
که تا رحمتش آدمی زادگان را
رها سازد از محنت انتظاری
تاکہ اس کی رحمت آدم کی اولاد کو (جنت کے ) انتظار کے عذاب سے چھٹکارا عطا کر دے ۔
To hear and see, in order to spare man the long suspense and agony of waiting till he’s ready to go hence.
چه خواهم درین گلستان گر نخواهم
شرابی ، کتابی ، ربابی نگاری
اس گلستان میں ا گر میں نہ چاہوں تو اور کیا چاہوں ۔ شراب ہو، کتاب ہو، رباب ہو، حسین محبوب ہو ۔
What better things could I wish for in such a pleasure-garden than wine, a book, a lute and ah! A fair companion?
سرت گردم ای ساقی ماه سیما
بیار از نیاگان ما یادگاری
اے چاند ایسی پیشانی والے ساقی میں تیرے قربان جاؤں ، ہمارے بزرگوں کی کوئی نشانی لے آ ۔
My life, O moon-faced saki, for a single gracious boon: Awaken in me memories of forebears long since gone.
به ساغر فرو ریز آبی که جان را
فروزد چو نوری بسوزد چو ناری
پیالے میں وہ شراب انڈیل جو روح کو نور کی طرح روشن کر دے آگ کی طرح جلا ڈالے ۔
Come pour into my empty glass the stuff which has no name, which lights the soul up like a lamp and burns it like a flame.
شقایق برویان ز خاک نژندم
بهشتی فرو چین به مشت غباری
میری بانچھ مٹی سے لالے کے پھول اگا دے میری مشت خاک میں سے ایک جنت چن دے ۔
I pray to you make tulips grow from my exhausted clay and build a paradise from dust now mouldering away.
نبینی که از کاشغرتا به کاشان
همان یک نوا بالد از هر دیاری
کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ کاشغر سے کاشان تک ہر خطے سے وہی ایک آواز بلند ہو رہی ہے ۔
O don’t you know that east and west, from Kashghar to Kashan, there is going up one grand song replete with life’s elan?
ز چشم امم ریخت آن اشک نابی
که تأثیر او گل دماند ز خاری
قوموں کی آنکھ سے وہ اشک ناب گرا جس کی تاثیر کانٹے میں سے پھو ل اگاتی ہے ۔
The peoples’ eye has shed at last that purest of all tears whose magic can compel the rose to grow on prickly pears.
کشیری که با بندگی خو گرفته
بتی می تراشد ز سنگ مزاری
کشمیری جسے غلامی کی لت پڑ چکی ہے قبر کے پتھر سے بت تراش رہا ہے (اس نے ہر سنگ مزار کو اپنا معبود بنا رکھا ہے) ۔
But oh! This poor Kashmiri who, in slavery born and bred, is busy carving idols from the tombstones of the dead.
ضمیرش تهی از خیال بلندی
خودی ناشناسی ز خود شرمساری
اس کا ضمیر بلند خیال سے خالی ہے وہ خودی سے انجان ہے ۔
His mind is blank and quite devoid of any higher thought; so ignorant of his own self and by self-shame distraught!
بریشم قبا خواجه از محنت او
نصیب تنش جامهٔ تارتاری
اس کی محنت سے حاکم ریشمی قبا پہنتا ہے اس کے تن کا نصیب ایک تار تار لباس ہے ۔
His master goes clad in fine silk, all woven with his sweat; but tatters, patches, rags and shreds are all his body’s lot.
نه در دیدهٔ او فروغ نگاهی
نه در سینهٔ او دل بیقراری
نہ اس کی آنکھ میں نگاہ کی روشنی ہے نہ اس کے سینے میں ایک بے قرار دل ہے ۔
There is not in his eye the light of vision that reveals, nor does there in his bosom beat the living heart that feels.
از آن می فشان قطره ئی برکشیری
که خاکسترش آفریند شراری
(ا ے ساقی) کشمیری پر اس شراب کی ایک بوند چھڑک کہ اس کی راکھ کوئی چنگاری پیدا کرے(اے خدا باشندگان کشمیر کے دلوں میں آزادی کا جذبہ پیدا کر دے تا کہ وہ بھی اس دنیا میں عزت کی زندگی بسر کر سکیں ) ۔
Come pour a drop upon him of your soul-enkindling wine, and from his smouldering ashes make a spark leap up and shine.
زمین
مرا بر دل است از تو چون کوه باری
وز آن کوه چشمم بود چشمه ساری
جامیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 935
چه نیکو سخن گفت یاری به یاری
که تا کی کشم از خُسُر ذل و خواری
رودکیابیات پراکندهشمارهٔ 162
چو عشقش برآرد سر از بیقراری
تو را کی گذارد که سر را بخاری
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 3124
گهی پردهسوزی، گهی پردهداری
تو سر خزانی، تو جان بهاری
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 3198
نمی آید از من دگر بردباری
دو دست من و دامن بی قراری
صائبدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 6981
فارسی متن کا ماخذ: گنجور