شاہین اور مچھلی
The Young Fish and the Eaglet
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن (هزج مثمن اخرب مکفوف محذوف)
ماهی بچهای شوخ به شاهین بچهای گفت
این سلسلهٔ موج که بینی همه دریاست
ایک شوخ ماہی بچہ شاہین کے بچے سے بولا لہروں کا یہ سلسلہ جو تو دیکھ رہا ہے سارا سمندر ہے ۔
A sprightly young fish said to an eaglet: ‘This succession of waves that you see is a single sea;
دارای نهنگان خروشندهتر از میغ
در سینهٔ او دیده و نادیده بلاهاست
کالی گھٹا سے بڑھ کر گرجتے ہوئے مگر مچھ رکھنے والا اس کے سینے میں کئی دیکھی اور کئی ان دیکھی بلائیں ہیں ۔
And it contains crocodiles that bellow more loudly than thunder clouds; its chest is a storehouse of hazards and dangers known and unknown.
با سیل گرانسنگ زمینگیر و سبکخیز
با گوهر تابنده و با لولوی لالاست
اس کے اندر ایسے سیلاب اٹھتے ہیں جو بھاری بھر کم پتھر ساتھ لاتے ہیں ۔ تابندہ موتی اور روشن مروارید گوہر بھرا ہوا ہے ۔
Its huge flood travels swiftly and covers the land; It has sparkling diamonds and lustrous pearls.
بیرون نتوان رفت ز سیل همه گیرش
بالای سر ماست، ته پاست، همه جاست
اس کے ہمہ گیر محیط سے باہر نہیں نکلا جا سکتا؛ یہ ہمارے اوپر، نیچے ، ہر طرف پھیلا ہوا ہے۔
ترجمہ: میاں عبدالرشید
One cannot escape its all-enveloping flood: Above our heads, under our feet; it is everywhere!
هر لحظه جوان است و روان است و دوان است
از گردش ایام نه افزون شد و نی کاست
یہ سدا جوان ہے اور ہر دم رواں دواں زمانے کی گردش سے نہ بڑا اور نہ گھٹا ۔
Young and for ever coursing along! Revolutions of time have not added to it or diminished it.’
ماهی بچه را سوز سخن چهره برافروخت
شاهین بچه خندید و ز ساحل به هوا خاست
مچھلی کے بچہ کا چہرہ سرخ ہو گیا ۔ شاہین بچہ مسکرایا اور ساحل سے ہوا میں اڑ گیا ۔
The young fish spoke with passion and zest, its face beamed as it spoke. The eaglet laughed. From the shore it rose into the air.
زد بانگ که شاهینم و کارم به زمین چیست
صحراست که دریاست ته بال و پر ماست
اور پکارا کہ میں شاہین ہوں مجھے زمین سے کیا لینا صحرا ہو کہ دریا ہو سب ہمارے پروں کے نیچے ہے ۔
Saying out loud: ‘I am an eagle, what have I to do with earth? Sea or desert – everything is under our wings!’
بگذر ز سر آب و به پهنای هوا ساز
این نکته نبیند مگر آن دیده که بیناست
پانی سے گزر جا اور فضا کی وسعت سے موافقت پیدا کر اسی بھید کو نہیں دیکھتی مگر نظر رکھنے والی آنکھ ۔ (اس نکتہ کو وہی آنکھ دیکھ سکتی ہے جو بینا ہو) دنیا میں پھنسے لوگ یہ بات نہیں سمجھ سکتے ۔
Leave the water, befriend the vastness of space! Only an observant eye will see the point of it.
زمین
فارسی متن کا ماخذ: گنجور