صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »افکار
  4. »بخش 25 - شاهین و ماهی

بخش 25 - شاهین و ماهی

شاہین اور مچھلی

The Young Fish and the Eaglet

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن (هزج مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: است

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: مستنصر میر
Toggle stanza 1
1

ماهی بچه‌ای شوخ به شاهین بچه‌ای گفت

این سلسلهٔ موج که بینی همه دریاست

ایک شوخ ماہی بچہ شاہین کے بچے سے بولا لہروں کا یہ سلسلہ جو تو دیکھ رہا ہے سارا سمندر ہے ۔

A sprightly young fish said to an eaglet: ‘This succession of waves that you see is a single sea;

2

دارای نهنگان خروشنده‌تر از میغ

در سینهٔ او دیده و نادیده بلاهاست

کالی گھٹا سے بڑھ کر گرجتے ہوئے مگر مچھ رکھنے والا اس کے سینے میں کئی دیکھی اور کئی ان دیکھی بلائیں ہیں ۔

And it contains crocodiles that bellow more loudly than thunder clouds; its chest is a storehouse of hazards and dangers known and unknown.

3

با سیل گران‌سنگ زمین‌گیر و سبک‌خیز

با گوهر تابنده و با لولوی لالاست

اس کے اندر ایسے سیلاب اٹھتے ہیں جو بھاری بھر کم پتھر ساتھ لاتے ہیں ۔ تابندہ موتی اور روشن مروارید گوہر بھرا ہوا ہے ۔

Its huge flood travels swiftly and covers the land; It has sparkling diamonds and lustrous pearls.

4

بیرون نتوان رفت ز سیل همه گیرش

بالای سر ماست، ته پاست، همه جاست

اس کے ہمہ گیر محیط سے باہر نہیں نکلا جا سکتا؛ یہ ہمارے اوپر، نیچے ، ہر طرف پھیلا ہوا ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

One cannot escape its all-enveloping flood: Above our heads, under our feet; it is everywhere!

5

هر لحظه جوان است و روان است و دوان است

از گردش ایام نه افزون شد و نی کاست

یہ سدا جوان ہے اور ہر دم رواں دواں زمانے کی گردش سے نہ بڑا اور نہ گھٹا ۔

Young and for ever coursing along! Revolutions of time have not added to it or diminished it.’

6

ماهی بچه را سوز سخن چهره برافروخت

شاهین بچه خندید و ز ساحل به هوا خاست

مچھلی کے بچہ کا چہرہ سرخ ہو گیا ۔ شاہین بچہ مسکرایا اور ساحل سے ہوا میں اڑ گیا ۔

The young fish spoke with passion and zest, its face beamed as it spoke. The eaglet laughed. From the shore it rose into the air.

7

زد بانگ که شاهینم و کارم به زمین چیست

صحراست که دریاست ته بال و پر ماست

اور پکارا کہ میں شاہین ہوں مجھے زمین سے کیا لینا صحرا ہو کہ دریا ہو سب ہمارے پروں کے نیچے ہے ۔

Saying out loud: ‘I am an eagle, what have I to do with earth? Sea or desert – everything is under our wings!’

8

بگذر ز سر آب و به پهنای هوا ساز

این نکته نبیند مگر آن دیده که بیناست

پانی سے گزر جا اور فضا کی وسعت سے موافقت پیدا کر اسی بھید کو نہیں دیکھتی مگر نظر رکھنے والی آنکھ ۔ (اس نکتہ کو وہی آنکھ دیکھ سکتی ہے جو بینا ہو) دنیا میں پھنسے لوگ یہ بات نہیں سمجھ سکتے ۔

Leave the water, befriend the vastness of space! Only an observant eye will see the point of it.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

خوشا روزگاری خوشا نوبهاری

نجوم پرن رست از مرغزاری

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 24 - ساقی نامه در نشاط باغ کشمیر نوشته شد

اگلی نظم

شنیدم کرمک شبتاب می گفت

نه آن مورم که کس نالد ز نیشم

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 26 - کرمک شبتاب

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

لاله قدح باده و گل شاهد رعناست

گلبانگ زنان مرغ چمن مطرب گویاست

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 118

امروز به هر حالی بغداد بخاراست

کجا میر خراسانست، پیروزی آنجاست

رودکی»قصاید و قطعات»شمارهٔ 16

دیگر نشنیدیم چنین فتنه که برخاست

از خانه برون آمد و بازار بیاراست

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 46

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور