صوفیوں میں سے ایک شخص کی طرف لکھی گئی
Ghazal No. 27
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)
قافیہ: انهتوداریونهمن
صنف: غزل/قصیده/قطعه
هوس منزل لیلی نه تو داری و نه من
جگر گرمی صحرا نه تو داری و نه من
لیلیٰ کی منزل تک پہنچنے کی دھن نہ تجھے ہے نہ مجھے ۔ صحرا کی گرمی کی برداشت کرنے کی ہمت نہ تو رکھتا ہے نہ میں ۔
Lines Addressed To a Sufi: Neither have I nor you the wish to go to Layla’s house. Neither have I nor you the heart to bear the desert heat.
من جوان ساقی و تو پیر کهن میکده ئی
بزم ما تشنه و صهبا نه تو داری و نه من
میں نیا ساقی ہوں اور تو ایک پرانے میخانے کا مسند نشین ہماری محفل پیاسی ہے اور شراب نہ تو رکھتا ہے نہ میں ۔
I am a young wine-server and you keeper of an old wine-shop. The company is thirsty, yet wine neither you have, nor have I.
دل و دین در گرو زهره وشان عجمی
آتش شوق سلیمی نه تو داری و نه من
دل اور دین عجمی حسینوں کے پاس رہن رکھا ہوا ہے (سب عجمی افکار کے دلدادہ بن چکے ہیں ) سلیمی کی چاہت کی آگ نہ تو رکھتا ہے اور نہ میں ۔
We have pledged our hearts and our faith to ‘Ajam’s lovely ones. The flame of love for Sulayma burns neither you nor me.
خزفی بود که از ساحل دریا چیدیم
دانهٔ گوهر یکتا نه تو داری و نه من
وہ تو ایک ٹھیکری تھی جو ہم ساحل سے چن لائے کوئی سچا موتی نہ تیرے پاس ہے اور نہ میرے پاس ۔
There was an empty shell that we picked up on the seashore. The precious pearl have neither you nor I.
دگر از یوسف گمگشته سخن نتوان گفت
تپش خون زلیخا نه تو داری و نه من
کھوئے گئے یوسف کی کوئی بات نہیں کی جا سکتی ۔ زلیخا کے خون کی تپش نہ تو رکھتا ہے اور نہ میں ۔
Do not talk any more about the Joseph we have lost. The warmth of a Zulaikha’s heart have neither you nor I.
به که با نور چراغ ته دامان سازیم
طاقت جلوهٔ سینا نه تو داری و نه من
اچھا ہے کہ دامن تلے کے دیے کی روشنی پر اکتفا کر لیں ۔ طور کی جھلک کی تاب نہ تو رکھتا ہے اور نہ میں ۔
It is best that we make do with a lamp that has our garment’s skirt for shade. The power to face Sinai’s lamp have neither you nor I.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور