صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »می باقی
  4. »غزل شمارهٔ 28

غزل شمارهٔ 28

غزل نمبر28

Ghazal No. 28

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: یز

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 6

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

دلیل منزل شوقم به دامنم آویز

شرر ز آتش نابم به خاک خویش آمیز

میں منزل شوق کا راستہ دکھانے والا ہوں میرے دامن سے لگ جا ۔ میری خالص آگ کی کوئی چنگاری اپنی مٹی میں گوندھ لے ۔ یعنی میرے کلام کا مطالعہ کر تا کہ عشق رسول اللہ کا جذبہ پیدا ہو جائے ۔

I am a guidepost to the goal of heart’s desire. Adhere to me. Mix with your dust a spark of my pure fire.

2

عروس لاله برون آمد از سراچه ناز

بیا که جان تو سوزم ز حرف شوق‌انگیز

عروس لالہ ناز حجرے سے باہر آئی ۔ ( میں نے اپنے کلام میں اسرار و رموز فاش کر دیئے ) آکہ میں تیرے جی میں شوق بھڑکانے والے کلام سے آگ لگا دوں (میرے کلام کا مطالعہ کر تو تیرے اندر عشق رسول کی آگ بھڑکنے لگے گی) ۔

The tulip-bride has come out of its boudoir. Come, let me fire your soul with passion-stimulating talk.

3

به هر زمانه به اسلوب تازه می‌گویند

حکایت غم فرهاد و عشرت پرویز

ہر زمانے میں ایک نئے ڈھنگ سے کہی جاتی ہے فرہاد کے غم اور پرویز کی رنگ رلیوں کی کہانی(فرہاد عشق صادق کا نمائندہ ہے اور پرویز عشق کاذب (ہوس) کا نمائندہ ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ سچے اور جھوٹے عاشق ہر زمانہ میں پائے جاتے ہیں )

The tale of Farhad’s grief and of Parvez’s happiness is told in every age in different ways.

4

اگرچه زادهٔ هندم فروغ چشم من است۔

ز خاک پاک بخارا و کابل و تبریز

اگرچہ میں ہندوستان کی خاک سے ہوں مگر میری آنکھوں کا نور بخارا اور کابل اور تبریز کی پاک مٹی سے ہے یعنی میرے افکار کا سرچشمہ ہندی نہیں بلکہ اسلامی ہے ۔

Though born in India, I draw my inspiration from the hallowed dust of Kabul and Bokhara and Tabriz.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

هوس منزل لیلی نه تو داری و نه من

جگر گرمی صحرا نه تو داری و نه من

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 27

اگلی نظم

در جهان دل ما دور قمر پیدا نیست

انقلابیست ولی شام و سحر پیدا نیست

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 29

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

دمید صبح مبارک طلوع، ساقی، خیز

به دلخوشی می صافی به جام روشن ریز

امیرخسرو دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1129

دلم رمیدهٔ لولی‌وَشیست شورانگیز

دروغ‌وَعده و قَتّال‌وَضع و رنگ‌آمیز

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 266

همی برآیم با آن که برنیاید خلق

و برنیایم با روزگار خورده گریز

رودکی»قصاید و قطعات»شمارهٔ 71 - در مدح نصر بن احمد سامانی

نکرد در دل من کار، عشق شورانگیز

زهیزم تر من شد فسرده آتش تیز

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 4802

ببند دست و می از شیشه در گلویم ریز

که من به قول دف و چنگ نشکنم پرهیز

نظیری نیشابوری»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 289

غمم به عیش درآمیخت عشق رنگ آمیز

کنون نه هست غمم کند و نی نشاطم تیز

نظیری نیشابوری»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 291

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور