صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »می باقی
  4. »غزل شمارهٔ 29

غزل شمارهٔ 29

غزل نمبر29

Ghazal No. 29

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: رپیدانیست

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

در جهان دل ما دور قمر پیدا نیست

انقلابیست ولی شام و سحر پیدا نیست

ہمارے دل کی دنیا میں چاند کی گردش نہیں پائی جاتی ایسا چاند نہیں جو گھٹتا بڑھتا ہو ۔ ایک الٹ پلٹ تو مچی رہتی ہے لیکن رات اور دن کا چکر دکھائی نہیں دیتا ۔دل کی دنیا زمان و مکان کی قیود سے بالاتر ہے۔

In the world of our heart there are no phases of the moon. There is a revolution, but no morning and no evening.

2

وای آن قافله کز دونی همت میخواست

رهگذاری که درو هیچ خطر پیدا نیست

افسوس ہے اس قافلے پر جس نے ہمت کی پستی کے باعث ایسی راہ چاہی کہ جس میں کسی خطرہ کا سامنا نہ ہو ۔

Woe to the caravan which, lacking enterprise, looks for a road that is not dangerous.

3

بگذر از عقل و در آویز بموج یم عشق

که در آن جوی تنک مایه گهر پیدا نیست

عقل سے گزر جا اور عشق کے سمندر کی لہروں میں ہاتھ پاؤں مار ۔ عقل کی مدد سے محبوب حقیقی کا دیدار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کی کم گہری ندی میں موتی نہیں پایا جاتا ۔

Abandon reason and become embroiled in the waves of the sea of Love, in reason’s little stream there are no pearls.

4

آنچه مقصود تگ و تاز خیال من و تست

هست در دیده و مانند نظر پیدا نیست

جس کے لیے میرے اور تیرے خیال کی یہ ساری بھاگ دوڑ لگی ہوئی ہے وہ آنکھ میں ہے مگر نظر کی طرح دکھائی نہیں دیتا ۔ (انسان خدا کی ہستی کو دل میں محسوس کرتا ہے لیکن آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا) ۔

Whatever is the object of the strivings of our thought is in our eyes, but like our sight invisible.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

دلیل منزل شوقم به دامنم آویز

شرر ز آتش نابم به خاک خویش آمیز

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 28

اگلی نظم

گریهٔ ما بی اثر ناله ما نارساست

حاصل این سوز و ساز یک دل خونین نواست

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 30

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور