صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »افکار
  4. »بخش 29 - عشق

بخش 29 - عشق

عشق

Love

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول مفاعلن فعولن (هزج مسدس اخرب مقبوض محذوف)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

فکرم چو به جستجو قدم زد

در دیر شد و در حرم زد

میرا فکر جب (حقیقت کی) تلاش میں نکلا مندر (بت خانہ) میں پہنچا اور کعبے کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔

My thought, engaged in finding out the final truth, went to the Ka‘bah and the idol-temple both.

2

در دشت طلب بسی دویدم

دامن چون گرد باد چیدم

میں اسی دھن میں جنگل جنگل دوڑا بگولے کی طرح اپنے دامن کو سمیٹا (کچھ حاصل نہ کیا) ۔

I wandered widely in inquiry’s wilderness, collecting my skirts like the whirlwind’s flowing dress.

3

پویان بی خضر سوی منزل

بر دوش خیال بسته محمل

کسی خضر کے بغیر میں منزل کی طرف دوڑا ۔ خیال کے دوش پر کجاوہ کسے ہوئے ۔

Bound for an unknown destination with no guide, on my imagination’s shoulders borne astride;

4

جویای می و شکسته جامی

چون صبح به باد چیده دامی

میں شراب کا متلاشی تھا مگر میرے ہاتھ میں ٹوٹا ہوا جام تھا ۔ صبح کی طرح میں نے ہوا کے لیے جال بچھایا ۔

Demanding wine with just a broken cup in hand, broadcasting like the dawn a net to catch the wind.

5

پیچیده بخود چو موج دریا

آواره چو گرد باد صحرا

موج دریا کی مانند میں اپنے اندر پیچ و تاب کھاتا رہا ۔ صحرا کے بگولے کی طرح آوارہ پھرتا رہا ۔

Recoiling upon myself like waves in the sea, roaming the desert in a whirlwind’s agony;

6

عشق تو دلم ربود ناگاه

از کار گره گشود ناگاه

اچانک تیرے عشق نے میرا دل لوٹ لیا اور میری مشکل کا عقدہ ایک دم حل ہو گیا ۔

But suddenly Your love came and assailed my heart and with a mighty blow it cut the Gordian Knot.

7

آگاه ز هستی و عدم ساخت

بتخانهٔ عقل را حرم ساخت

اس (عشق) نے وجود اور عدم سے مجھے آگاہ کر دیا ۔ اس نے عقل کے بتخانے کو کعبہ بنا دیا ۔

It taught me all that being and non-being mean; it changed my idol-temple to a holy shrine;

8

چون برق به خرمنم گذر کرد

از لذت سوختن خبر کرد

وہ بجلی کی طرح میرے کھلیان میں گزر گیا ۔ اس نے مجھے جلنے کی لذت سے آشنا کر دیا ۔

And striking lightning fashion my self’s granary, it taught my heart the joy of burning silently.

9

سر مست شدم ز پا فتادم

چون عکس ز خود جدا فتادم

میں تو بے خود ہو کر گر پڑا ۔ سائے کی طرح اپنے آپ سے جدا ہو گیا ۔

All in a rapture I was carried off my feet; and I became a shadow, from myself discrete.

10

خاکم به فراز عرش بردی

زان راز که با دلم سپردی

تو میری خاک کو عرش کی بلندی پر لے گیا اور اس راز کی وجہ سے جو تو نے میرے دل کے سپرد کیا ۔

The sublimating force of what You taught my heart sent my dust soaring right up to Heaven’s starry height.

11

واصل به کنار کشتیم شد

طوفان جمال زشتیم شد

تب میری ناوَ کنارے سے آ لگی ( میں نے منزل مقصود کو پا لیا) ۔ اور میری بدصورتی طوفان جمال بن گئی ۔

My being’s storm-tossed ship at long last came to port, and into beauty’s channel all my ugliness was poured.

12

جز عشق حکایتی ندارم

پروای ملامتی ندارم

میں عشق کے سوا کوئی حکایت نہیں رکھتا ۔ مجھے کسی کی ملامت کی پروا نہیں ہے ۔

I have no tale to tell except the tale of love; I do not care if men approve or disapprove.

13

از جلوهٔ علم بی نیازم

سوزم ، گریم ، تپم ، گدازم

میں علم کی چمک دمک سے بے نیاز ہوں بس مجھے ہر دم جلنا رونا تڑپنا اور پگھلنا ہے (یہ جلنا ہی میری ابدی زندگی کا ذریعہ ہے) ۔

Of learning’s light I do not have the slightest need; and all I have to do is burn and melt and bleed.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گفتند فرود آی ز اوج مه و پرویز

بر خود زن و با بحر پر آشوب بیامیز

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 28 - شبنم

اگلی نظم

غزالی با غزالی درد دل گفت

ازین پس در حرم گیرم کنامی

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 30 - اگر خواهی حیات اندر خطر زی

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور