صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »افکار
  4. »بخش 28 - شبنم

بخش 28 - شبنم

شبنم

Dew

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن (هزج مثمن اخرب مکفوف محذوف)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
بند 1
Toggle stanza 1
1

گفتند فرود آی ز اوج مه و پرویز

بر خود زن و با بحر پر آشوب بیامیز

3

با موج در آویز

4

نقش دگر انگیز

5

تابنده گهر خیز

مجھے کہنے لگے مہ و پروین کی بلندیوں سے نیچے آ، اپنے آپ کو مٹا دے اور بحر آشوب سے مل جا۔ موج سے نبرد آزما ہو؛ نئی صورت اختیار کر؛ چمکدار موتی بن کے نکل۔

‘Come down’, the voices said to me, ‘from your remote celestial heights. Recoil upon yourself and get embroiled with stormy ocean-tides. Ride where the billow rides; and make new waves besides; arise as pearls whose sheen abides.’

بند 2
Toggle stanza 2
2

من عیش هم آغوشی دریا نخریدم

آن باده که از خویش رباید نچشیدم

8

از خود نرمیدم

9

ز آفاق بریدم

10

بر لاله چکیدم

میں نے سمندر سے ہم آغوشی کا لطف قبول نہ کیا، وہ شراب نہ چکھی ، جو اپنا آپ بھولا دے۔ میں نے اپنا آپ نہ چھوڑ؛ آسمان سے نیچے اتری تو گل لالہ پر ٹپکی۔

I did not buy the luxury of losing myself in the sea; I did not taste the wine which robs you of your self-identity.

Another I refused to be: Said goodby to the sky; and chose the tulip’s company.

بند 3
Toggle stanza 3
3

گل گفت که هنگامه مرغان سحر چیست؟

این انجمن آراسته بالای شجر چیست؟

13

این زیر و زبر چیست؟

14

پایان نظر چیست؟

15

خارگل ترچیست؟

پھول کہنے لگا: یہ صبح کے پرندوں کا شور کیا ہے ؟ یہ کون ہیں جو درختوں پر انجمن آراستہ کیے بیٹھے ہیں؟ یہ پست و بالا کیا ہے؟ نظر کی پہنچ کہاں تک ہے؟ گل تر کے ساتھ یہ خار کیوں ہے؟

The tulip said, ‘O what is all this tumult of birdsong? And why do all those morning songsters on the treetops throng?

Why all this flitting up and down daylong? And should the rose to thorns belong? O is not this quite wrong?

بند 4
Toggle stanza 4
4

تو کیستی و من کیم این صحبت ما چیست؟

بر شاخ من این طایرک نغمه سرا چیست؟

18

مقصود نوا چیست؟

19

مطلوب صبا چیست؟

20

این کهنه سرا چیست؟

تو کون ہے؟ میں کون ہوں؟ ہماری یہ صحبت کیا ہے؟ میری شاخ پہ یہ نغمہ سرا پرندہ کون ہے؟ نوا کا مقصود کیا ہے ؟ صبا کا مطلوب کون ہے؟ یہ پرانی دنیا کیا ہے؟

‘Who are you and who am I and why do we thus consort? And wherefore are my branches all these singing birds’ resort?

What is their singing’s long and short? And what is in the breezes heart? What is this garden in which they disport ?’

بند 5
Toggle stanza 5
5

گفتم که چمن رزم حیات همه جائی است

بزمی است که شیرازه ٔ او ذوق جدائی است

23

دم گرم نوائی است

24

جان چهره گشائی است

25

این راز خدائی است

میں نے کہا: یہ چمن ہر جگہ موجود حیات کی کشمکش (کا میدان) ہے؛ یہ ایسی بزم ہے ، جدائی جس کا بندھن ہے۔ سانس؟ گرم نوائی (سے) ہے، جان (روح) ؟ لذت دیدار پر مرتی ہے، یہ خدائی راز ہے۔

‘It is’, I said. ‘a battlefield of life’s war raging everywhere, a unity of many, each one separately self-aware.

To breathe is to sing songs of fire. The soul? The inner being’s self-exposure. This is the secret of God’s empire.

بند 6
Toggle stanza 6
6

من از فلک افتاده تو از خاک دمیدی

از ذوق نمود است دمیدی که چکیدی

28

در شاخ تپیدی

29

صد پرده دریدی

30

بر خویش رسیدی

میں آسمان سے ٹپکی ہوں ، تو زمین سے پیدا ہوا ہے؛ آسمان سے گرنا یا خاک سے پیدا ہونا (سب) ذوق نمود کے کرشمے ہیں (زندگی اپنا اظہار چاہتی ہے)۔ تو شاخ کے اندر تڑپ رہا تھا، (چنانچہ) تو نے سو پردے پھاڑ دئے، اپنے آپ میں آ گیا۔

‘I have descended from the skies and you have grown up out of dust. They both are forms of self-display, my fall and your upthrust.

You writhed within a tree-stem first until your hundred veils were burst – and then you reached your being’s crest.

بند 7
Toggle stanza 7
7

نم در رگ ایام ز اشک سحر ماست

این زیر و زبر چیست فریب نظر ماست

33

انجم به بر ماست

34

لخت جگر ماست

35

نور بصر ماست

رگ ایاّم کی نمی صبح کے آنسو ؤں سے ہے؛ یہ پست و بالا کیا ہے ؟ ہماری نظر کا فریب ہے ورنہ اس کی کوئی حقیقت نہیں)۔ ستارہ بھی ہم میں سے ہے ؛ ہمارا ہی لخت جگر ہے؛ وہ ہمارا نور بصر ہے۔

‘The sap that rises in the world’s veins is our morning tears; our own illusion are those upper and these lower spheres.

Part of our being are the stars, our kith and kin and our confreres: They are our eyes and we the seers.

بند 8
Toggle stanza 8
8

در پیرهن شاهد گل سوزن خار است

خار است ولیکن ز ندیمان نگار است

38

از عشق نزار است

39

در پهلوی یار است

40

اینهم ز بهار است

محبوبۂ گل کے لباس میں خار کی سوئی ہے؛ مگر محبوب کے پاس بیٹھنے والوں میں سے ہے۔ عشق سے (نحیف و) نزار ہے؛ مگر یار کے پہلو میں ہے ؛ یہ بھی بہار کا ایک رنگ ہے۔

‘Just like a needle in a damsel’s garment is the rose’s thorn: Close to the rose, its boon companion and with it twin.born.

All thin and wan like one lovelorn, though in the dear one’s bosom borne – another prank of the spring morn!

بند 9
Toggle stanza 9
9

بر خیز و دل از صحبت دیرینه بپرداز

با لالهٔ خورشید جهان تاب نظر باز

43

با اهل نظر ساز

44

چو من بفلک تاز

45

داری سر پرواز

آٹھ! اور ( چمن کی) صحبت دیرینہ سے دل ہٹا؛ دنیا کو روشن کرنے والے آفتاب کے لالہ سے نظر ملا۔ اہل نظر سے دوستی کر ؛ میری طرح فلک تک رسائی حاصل کر۔ ہے پرواز کا حوصلہ؟

Arise and re-engage your heart with friendships of the early days; and with the sun, the tulip of the sky, exchange a knowing gaze.

Consort with those with seeing eyes; like me take to celestial ways – have you the will to soar the skies ?’

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

به بحر رفتم و گفتم به موج بیتابی

همیشه در طلب استی چه مشکلی داری؟

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 27 - تنهائی

اگلی نظم

فکرم چو به جستجو قدم زد

در دیر شد و در حرم زد

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 29 - عشق

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور