اگر زندگی چاہتا ہے تو خطرات میں بسر کر
Live Dangerously
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
صنف: چند بندی
غزالی با غزالی درد دل گفت
ازین پس در حرم گیرم کنامی
ایک ہرن نے دوسرے سے اپنے دل کا درد کہا اس کے بعد میں حرم میں بسیرا کر لوں گا(کیونکہ وہاں کوئی کسی کو قتل نہیں کر سکتا ۔ )
Said one gazelle to another, ‘I will take shelter in the harem from now on:
بصحرا صید بندان در کمین اند
بکام آهو ان صبحی نه شامی
صحرا میں شکاریوں نے گھات لگا رکھی ہے ہرنوں کو نہ کوئی صبح سازگار ہے نہ کوئی شام ۔
For there are hunters at large in the wild, and there is no peace here for a gazelle.
امان از فتنهٔ صیاد خواهم
دلی ز اندیشه ها آزاد خواهم
میں صیاد (شکاری) کے فتنے سے پناہ چاہتا ہوں ۔ اندیشوں سے آزاد ایک دل چاہتا ہوں ۔
From fear of hunters I want to be free. O how I long for some security.’
رفیقش گفت ای یار خردمند
اگر خواهی حیات اندر خطر زی
اس کے ساتھی نے کہا اے دانا دوست اگر تجھے زندگی کی چاہ ہے تو خطرات میں جی (اگر زندگی چاہتا ہے تو خطرات میں بسر کر) ۔
His friend replied, ‘Live dangerously, my wise friend, if it is life you truly seek.
دمادم خویشتن را بر فسان زن
ز تیغ پاک گوهر تیز تر زی
خود کو پل پل سان پر رگڑ ۔ اصیل تلوار سے زیادہ تیز گو ہر زندہ رہ ۔
Like a sword of fine mettle hurl yourself upon the whetting-stone; stay sharp thereby.
خطر تاب و توان را امتحان است
عیار ممکنات جسم و جان است
خطر ہمیشہ اور سکت کا امتحان ہے جسم اور روح کے امکانات کی کسوٹی ہے(خطرات ہی سے انسان کی ذہنی اور بدنی قوتوں کا پتہ چلتا ہے) ۔
For danger brings out what is best in you: It is the touchstone of all that is true.’
فارسی متن کا ماخذ: گنجور