صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »افکار
  4. »بخش 30 - اگر خواهی حیات اندر خطر زی

بخش 30 - اگر خواهی حیات اندر خطر زی

اگر زندگی چاہتا ہے تو خطرات میں بسر کر

Live Dangerously

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
بند 1
Toggle stanza 1
1

غزالی با غزالی درد دل گفت

ازین پس در حرم گیرم کنامی

ایک ہرن نے دوسرے سے اپنے دل کا درد کہا اس کے بعد میں حرم میں بسیرا کر لوں گا(کیونکہ وہاں کوئی کسی کو قتل نہیں کر سکتا ۔ )

Said one gazelle to another, ‘I will take shelter in the harem from now on:

2

بصحرا صید بندان در کمین اند

بکام آهو ان صبحی نه شامی

صحرا میں شکاریوں نے گھات لگا رکھی ہے ہرنوں کو نہ کوئی صبح سازگار ہے نہ کوئی شام ۔

For there are hunters at large in the wild, and there is no peace here for a gazelle.

3

امان از فتنهٔ صیاد خواهم

دلی ز اندیشه ها آزاد خواهم

میں صیاد (شکاری) کے فتنے سے پناہ چاہتا ہوں ۔ اندیشوں سے آزاد ایک دل چاہتا ہوں ۔

From fear of hunters I want to be free. O how I long for some security.’

بند 2
Toggle stanza 2
4

رفیقش گفت ای یار خردمند

اگر خواهی حیات اندر خطر زی

اس کے ساتھی نے کہا اے دانا دوست اگر تجھے زندگی کی چاہ ہے تو خطرات میں جی (اگر زندگی چاہتا ہے تو خطرات میں بسر کر) ۔

His friend replied, ‘Live dangerously, my wise friend, if it is life you truly seek.

5

دمادم خویشتن را بر فسان زن

ز تیغ پاک گوهر تیز تر زی

خود کو پل پل سان پر رگڑ ۔ اصیل تلوار سے زیادہ تیز گو ہر زندہ رہ ۔

Like a sword of fine mettle hurl yourself upon the whetting-stone; stay sharp thereby.

6

خطر تاب و توان را امتحان است

عیار ممکنات جسم و جان است

خطر ہمیشہ اور سکت کا امتحان ہے جسم اور روح کے امکانات کی کسوٹی ہے(خطرات ہی سے انسان کی ذہنی اور بدنی قوتوں کا پتہ چلتا ہے) ۔

For danger brings out what is best in you: It is the touchstone of all that is true.’

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

فکرم چو به جستجو قدم زد

در دیر شد و در حرم زد

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 29 - عشق

اگلی نظم

هست این میکده و دعوت عام است اینجا

قسمت باده به اندازهٔ جام است اینجا

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 31 - جهان عمل

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور