صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »افکار
  4. »بخش 31 - جهان عمل

بخش 31 - جهان عمل

عمل کی دنیا

The World of Action

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: اماستاینجا

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

هست این میکده و دعوت عام است اینجا

قسمت باده به اندازهٔ جام است اینجا

یہ شراب خانہ ہے اور یہاں سب کو کھلی دعوت ہے یہاں پیالے کی استعداد دیکھ کر شراب بانٹی جاتی ہے ۔

This world is a free tavern, and to all who come to it wine is served in accordance with their bowl’s capacity.

2

حرف آن راز که بیگانهٔ صوت است هنوز

از لب جام چکید است و کلام است اینجا

اس راز کی بات جو ابھی آواز سے انجان ہے یہاں لب جام سے ٹپکی ہے اور کلام بن گئی ہے ۔ نوٹ: یہ دنیا عمل کی دنیا ہے یہاں اسی کو سروری حاصل ہو سکتی ہے جو اس کے لیے کوشش کرے ۔

The secret that has not yet been expressed in words has been expressed here in wine’s over-brimming character.

3

نشه از حال بگیرند و گذشتند ز قال

نکتهٔ فلسفه درد ته جام است اینجا

(یہاں ) لوگ حال سے مستی حاصل کرتے ہیں اور زبانی جمع خرچ چھوڑ دیتے ہیں ۔ فلسفے کی باریک باتیں یہاں تاچھٹ کی طرح ہیں ۔

Those who come here get drunk with action and not with mere words. Dregs at the bottom of life’s cup is mere philosophy.

4

ما درین ره نفس دهر برانداخته ایم

آفتاب سحر او لب بام است اینجا

ہم نے اس راہ میں زمانے کی ہوا اکھاڑ دی ہے (زما نے کو تھکا دیا ہے) اس کی صبح کا سورج یہاں ڈوبنے کو ہے ۔

We have endeavoured hard to make life take to action’s path, and now its morning’s sun is near the margin of the sky.

5

ای که تو پاس غلط کردهٔ خود میداری

آنچه پیش تو سکون است خرام است اینجا

اے کہ تو اپنی خطا پر اڑا ہوا ہے جسے تو سکون سمجھتا ہے وہی یہاں حرکت ہے

O you who try to be consistent with your past mistakes, whatever you regard as rest is here mobility.

6

ما که اندر طلب از خانه برون تاخته ایم

علم را جان بدمیدیم و عمل ساخته ایم

ہم کہ حقیقت کی کھوج میں اپنا گھر چھوڑ آئے ۔ ہم نے علم میں روح پھونک کر اسے عمل بنا دیا ہے ۔ (انسان دنیا میں آنے سے پہلے جنت میں سکون کی زندگی بسر کر رہا تھا لیکن جدوجہد کا جذبہ اسے باہر نکال لایا ۔ )

We who have come out to pursue the path of seeking have converted knowledge into action and thus made it live.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

غزالی با غزالی درد دل گفت

ازین پس در حرم گیرم کنامی

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 30 - اگر خواهی حیات اندر خطر زی

اگلی نظم

پرسیدم از بلند نگاهی حیات چیست

گفتا مئی که تلخ تر او نکوتر است

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 32 - زندگی

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

طرف باغ و لب جوی و لب جام است اینجا

ساقیا خیز که پرهیز حرام است اینجا

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 73

مستی و بی خبری رتبه عام است اینجا

ابجد تازه سوادان خط جام است اینجا

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 480

کوی عشق است و همه دانه و دام است اینجا

جلوهٔ مردم آزاده حرام است اینجا

عرفی»غزلیات»غزل شمارهٔ 2

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور