عمل کی دنیا
The World of Action
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)
هست این میکده و دعوت عام است اینجا
قسمت باده به اندازهٔ جام است اینجا
یہ شراب خانہ ہے اور یہاں سب کو کھلی دعوت ہے یہاں پیالے کی استعداد دیکھ کر شراب بانٹی جاتی ہے ۔
This world is a free tavern, and to all who come to it wine is served in accordance with their bowl’s capacity.
حرف آن راز که بیگانهٔ صوت است هنوز
از لب جام چکید است و کلام است اینجا
اس راز کی بات جو ابھی آواز سے انجان ہے یہاں لب جام سے ٹپکی ہے اور کلام بن گئی ہے ۔ نوٹ: یہ دنیا عمل کی دنیا ہے یہاں اسی کو سروری حاصل ہو سکتی ہے جو اس کے لیے کوشش کرے ۔
The secret that has not yet been expressed in words has been expressed here in wine’s over-brimming character.
نشه از حال بگیرند و گذشتند ز قال
نکتهٔ فلسفه درد ته جام است اینجا
(یہاں ) لوگ حال سے مستی حاصل کرتے ہیں اور زبانی جمع خرچ چھوڑ دیتے ہیں ۔ فلسفے کی باریک باتیں یہاں تاچھٹ کی طرح ہیں ۔
Those who come here get drunk with action and not with mere words. Dregs at the bottom of life’s cup is mere philosophy.
ما درین ره نفس دهر برانداخته ایم
آفتاب سحر او لب بام است اینجا
ہم نے اس راہ میں زمانے کی ہوا اکھاڑ دی ہے (زما نے کو تھکا دیا ہے) اس کی صبح کا سورج یہاں ڈوبنے کو ہے ۔
We have endeavoured hard to make life take to action’s path, and now its morning’s sun is near the margin of the sky.
ای که تو پاس غلط کردهٔ خود میداری
آنچه پیش تو سکون است خرام است اینجا
اے کہ تو اپنی خطا پر اڑا ہوا ہے جسے تو سکون سمجھتا ہے وہی یہاں حرکت ہے
O you who try to be consistent with your past mistakes, whatever you regard as rest is here mobility.
ما که اندر طلب از خانه برون تاخته ایم
علم را جان بدمیدیم و عمل ساخته ایم
ہم کہ حقیقت کی کھوج میں اپنا گھر چھوڑ آئے ۔ ہم نے علم میں روح پھونک کر اسے عمل بنا دیا ہے ۔ (انسان دنیا میں آنے سے پہلے جنت میں سکون کی زندگی بسر کر رہا تھا لیکن جدوجہد کا جذبہ اسے باہر نکال لایا ۔ )
We who have come out to pursue the path of seeking have converted knowledge into action and thus made it live.
زمین
فارسی متن کا ماخذ: گنجور