صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »افکار
  4. »بخش 48 - خطاب به مصطفی کمال پاشا ایده الله

بخش 48 - خطاب به مصطفی کمال پاشا ایده الله

مصطفی کمال پاشا سے خطاب (خدا اس کی تائید کرے)

Lines Addressed to Mustafa Kamal Pasha

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: یرشدیم

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
جولائی
Toggle stanza 1
1

امئی بود که ما از اثر حکمت او

واقف از سر نهانخانه تقدیر شدیم

ایک امی تھا کہ ہم نے اس کی حکمت و دانائی کے فیض سے ہم تقدیر کے نہاں خانے کے راز سے باخبر ہوئے ۔

There was once an unlettered man, thanks to whose wisdom we learned all about the mysteries of human destiny.

2

اصل ما یک شرر باخته رنگی بود است

نظری کرد که خورشید جهانگیر شدیم

ہماری اصل ایک بجھی ہوئی چنگاری تھی (ایسا شرر جس کا رنگ اڑ چکا ہو) آپ نے ایک ہی ہم پر نظر ڈالی تو ہم دنیا پر چھایا ہوا سورج بن گئے ۔

In origin we were nothing but a faint spark. He looked at us, and we became a world-illuminating sun.

3

نکتهٔ عشق فرو شست ز دل پیر حرم

در جهان خوار به اندازهٔ تقصیر شدیم

حرم کے بڑے نے دل سے عشق کا نقش دھو ڈالا ۔ ہم دنیا میں گناہ کے بقدر ذلیل و خوار ہوئے ۔

The old man of the Harem wiped the imprint of Love from his heart, and we were humbled in the world in keeping with our sin’s degree.

4

باد صحراست که با فطرت ما در سازد

از نفسهای صبا غنچهٔ دلگیر شدیم

صحرا کی ہوا ہے جو ہماری فطرت کو راس آتی ہے ۔ صبا کے جھونکوں سے ہم پژمردہ کلی بن گئے ۔

It is the desert wind that suits our natural make-up. The morning breeze’s breath turned us into buds with constricted hearts.

5

آه آن غلغله کز گنبد افلاک گذشت

ناله گردید چو پابند بم و زیر شدیم

وہ ہا و ہو جو آسمانوں سے بھی اوپر نکل جاتی تھی جب ہم اتار چڑھاوَ کے پابند ہوئے تو وہ فریاد بن کے رہ گئی ۔

O that tumultuous din of ours which once used to shoot up above the sky, reduced to treble and bass, became a mere lament.

6

ای بسا صید که بی دام به فتراک زدیم

در بغل تیر و کمان کشتهٔ نخچیر شدیم

کتنے ہی شکار تھے جنہیں ہم نے جال کے بغیر ہی شکار کیا تھا اور اب بغل میں تیر کمان ڈال کر ہم اپنے ہی شکار کے پھندے میں آ گئے ۔

How many quarries we once caught without nets and tied to our saddle straps! But now, with bows and arrows under armpits, we ourselves became our quarries’ prey.

7

«هر کجا راه دهد اسپ، بران تاز که ما

بارها مات درین عرصه بتدبیر شدیم»

جدھر راہ ملے گھوڑا اسی پر دوڑا کہ ہم تدبیر کے ہاتھوں اس میدان میں بار ہا بھٹکے ہیں ۔ وسائل کے نہ ہونے کی پروا نہ کر ۔ نظیری نیشاپوری ۔

‘Wherever you can find a way race your horse thither, for we have been outdone many times on this maneuvering-ground.’

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

غنی آن سخنگوی بلبل صفیر

نواسنجِ کشمیرِ مینو نظیر

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 47 - غنی کشمیری

اگلی نظم

سر شاخ گل طایری یک سحر

همی گفت با طایران دگر

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 49 - طیاره

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

به تمنای غلط بر همه کس میر شدیم

بدر از خانه نرفتیم و جهانگیر شدیم

نظیری نیشابوری»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 433

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور