صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »افکار
  4. »بخش 47 - غنی کشمیری

بخش 47 - غنی کشمیری

غنی کشمیری

Ghani Kashmiri

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعولن فعولن فعولن فعل (متقارب مثمن محذوف یا وزن شاهنامه)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

غنی آن سخنگوی بلبل صفیر

نواسنجِ کشمیرِ مینو نظیر

غنی وہ بلبل کی آواز والا شاعر جنت نظیر کا مغنی تھا ۔

That nightingale of poetry, Ghani, who sang in Kashmir’s paradisal land;

2

چو اندر سرا بود، در بسته داشت

چو رفت از سرا تخته را وا گذاشت

جب وہ گھر کے اندر ہوتا تو دروازہ بند رکھتا جب گھر سے باہر نکلتا تو دروازہ کھلا چھوڑ جاتا ۔

Used, while at home, to shut up all the doors, but leave them open while away from home.

3

یکی گفتش ای شاعرِ دل رسی

عجب دارد از کار تو هر کسی

کسی نے اس سے کہا اے دل کو چھو لینے والے شاعر ہر شخص تیرے اس کا م سے حیران ہے ۔

Somebody questioned him concerning this. ‘O charming bard’, he said, ‘Why do you do this strange thing, which nobody understands the meaning of?’

4

به پاسخ چه خوش گفت مرد فقیر

فقیر و به اقلیمِ معنی امیر

جواب میں اس مرد فقیر نے کیا خوب کہا وہ جو ظاہر میں فقیر لیکن حقائق کی سلطنت کا سردار تھا ۔

‘Ghani, who had no wealth except his gift of poetry, replied:

5

ز من آنچه دیدند یاران رواست

درین خانه جز من متاعی کجاست

یاروں نے میرے سلسلے میں جو کچھ دیکھا ٹھیک ہے اس گھر میں میرے علاوہ کوئی دولت کہاں ہے ۔

‘What people see me doing is quite right. There is nothing of any value in my house except myself.

6

غنی تا نشیند به کاشانه‌اش

متاعی گرانی است در خانه‌اش

غنی جب تک اپنی کٹیا میں بیٹھا ہوتا ہے ایک بھاری دولت اس کے گھر میں ہوتی ہے ۔

When I am in, the house is to be guarded like a treasure-house.

7

چو آن محفل‌افروز در خانه نیست

تهی‌تر ازین هیچ کاشانه نیست

جب وہ محفل گرم کرنے والا گھر میں نہیں ہوتا تو اس سے بڑھ کر خالی کوئی گھر نہیں ہے (مکان بالکل خالی رہ جاتا ہے) ۔

When I am out, it is an empty place, which nobody would care to walk into.’

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

زمانه باز برافروخت آتش نمرود

که آشکار شود جوهر مسلمانی

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 46 - به مبلغ اسلام در فرنگستان

اگلی نظم

امئی بود که ما از اثر حکمت او

واقف از سر نهانخانه تقدیر شدیم

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 48 - خطاب به مصطفی کمال پاشا ایده الله

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور