غنی کشمیری
Ghani Kashmiri
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعولن فعولن فعولن فعل (متقارب مثمن محذوف یا وزن شاهنامه)
صنف: مثنوی
غنی آن سخنگوی بلبل صفیر
نواسنجِ کشمیرِ مینو نظیر
غنی وہ بلبل کی آواز والا شاعر جنت نظیر کا مغنی تھا ۔
That nightingale of poetry, Ghani, who sang in Kashmir’s paradisal land;
چو اندر سرا بود، در بسته داشت
چو رفت از سرا تخته را وا گذاشت
جب وہ گھر کے اندر ہوتا تو دروازہ بند رکھتا جب گھر سے باہر نکلتا تو دروازہ کھلا چھوڑ جاتا ۔
Used, while at home, to shut up all the doors, but leave them open while away from home.
یکی گفتش ای شاعرِ دل رسی
عجب دارد از کار تو هر کسی
کسی نے اس سے کہا اے دل کو چھو لینے والے شاعر ہر شخص تیرے اس کا م سے حیران ہے ۔
Somebody questioned him concerning this. ‘O charming bard’, he said, ‘Why do you do this strange thing, which nobody understands the meaning of?’
به پاسخ چه خوش گفت مرد فقیر
فقیر و به اقلیمِ معنی امیر
جواب میں اس مرد فقیر نے کیا خوب کہا وہ جو ظاہر میں فقیر لیکن حقائق کی سلطنت کا سردار تھا ۔
‘Ghani, who had no wealth except his gift of poetry, replied:
ز من آنچه دیدند یاران رواست
درین خانه جز من متاعی کجاست
یاروں نے میرے سلسلے میں جو کچھ دیکھا ٹھیک ہے اس گھر میں میرے علاوہ کوئی دولت کہاں ہے ۔
‘What people see me doing is quite right. There is nothing of any value in my house except myself.
غنی تا نشیند به کاشانهاش
متاعی گرانی است در خانهاش
غنی جب تک اپنی کٹیا میں بیٹھا ہوتا ہے ایک بھاری دولت اس کے گھر میں ہوتی ہے ۔
When I am in, the house is to be guarded like a treasure-house.
چو آن محفلافروز در خانه نیست
تهیتر ازین هیچ کاشانه نیست
جب وہ محفل گرم کرنے والا گھر میں نہیں ہوتا تو اس سے بڑھ کر خالی کوئی گھر نہیں ہے (مکان بالکل خالی رہ جاتا ہے) ۔
When I am out, it is an empty place, which nobody would care to walk into.’
فارسی متن کا ماخذ: گنجور