طیارہ
The Aeroplane
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعولن فعولن فعولن فعل (متقارب مثمن محذوف یا وزن شاهنامه)
صنف: چند بندی
سر شاخ گل طایری یک سحر
همی گفت با طایران دگر
ایک صبح گلاب کی ٹہنی پر کوئی پرندہ دوسرے پرندوں سے کہہ رہا تھا ۔
Perched on a rosebush branch one morning, a bird said to other birds:
«ندادند بال آدمی زاده را
زمین گیر کردند این ساده را»
آدمی کے بچے کو پنکھ نہیں دیے گئے اس سادہ منش کو زمین ہی سے چمٹا رکھا گیا ۔
‘The son of man has not been given wings, and so this poor fool is earthbound.’
بدو گفتم ای مرغک باد سنج
اگر حرف حق با تو گویم مرنج
میں نے اس سے کہا ، اے بڑبولے ننھے پنچھی اگر میں تجھ سے حق بات کہہ دوں تو ناراض مت ہونا ۔
I said to him: ‘O little bird, who talk so airily, do not mind if I speak the truth to you.
ز طیاره ما بال و پر ساختیم
سوی آسمان رهگذر ساختیم
ہم نے طیارے کو اپنے بال و پر بنا لیا ہے ۔ آسمان کی طرف اپنا راستہ نکالا ہے ۔
We have made of the aeroplane our wings, and so have found a way to heaven.
چه طیاره آن مرغ گردون سپر
پر او ز بال ملک تیز تر
کیسا طیارہ ! وہ آسمان کو آڑان کرنے والا پرندہ اس کے پر فرشتے کے پنکھ سے بھی زیادہ تیز ہیں ۔
What a sky-soaring bird? Is this our aeroplane, with speedier wings than angels’ wings.
به پرواز شاهین به نیرو عقاب
به چشمش ز لاهور تا فاریاب
وہ اڑان میں شاہین اور زور میں عقاب ہے ۔ لاہور سے فاریاب تک اس کی نظر میں (فاریاب تک کا فاصلہ اس کی نظروں میں رہتا ہے) ۔
In flight a royal falcon and an eagle in sheer strength, with far-flung regions in its range!
بگردون خروشنده و تند جوش
میان نشیمن چو ماهی خموش
آسمان سے جوش و خروش سے چلتا ہے ۔ اپنے ٹھکانے پر مچھلی کی طرح خاموش ہوتا ہے ۔
While in the sky, it thunders and it roars; but in its nest it is as quiet as a fish.
خرد ز آب و گل جبرئیل آفرید
زمین را بگردون دلیل آفرید
عقل نے مٹی اور پانی سے جبرئیل گھڑا (تخلیق کیا) زمین کے لیے آسمان کا راستہ دکھانے والا بنایا ۔
Our wisdom has created Gabriels from common clay, and has made of the earth a proof of heaven.’
چو آن مرغ زیرک کلامم شیند
مرا یک نظر آشنایانه دید
جب اس دانا پرندے نے میری بات سنی تومجھ پر ایک دوستانہ نظر ڈالی ۔
On hearing my speech that wise bird looked at me in a knowing way.
پرش را به منقار خارید و گفت
که من آنچه گوئی ندارم شگفت
اپنے پروں کو چونچ سے کھجایا اور کہا کہ تو جو کچھ کہتا ہے مجھے اس پر حیرت نہیں ہے (ناراض نہیں ) ۔
Then, scratching his wings with his beak, he said: ‘I do not marvel at your words.
مگر ای نگاه تو بر چون و چند
اسیر طلسم تو پست و بلند
مگر اے تو کہ کیسے اور کتنے پر تیری نگاہ ہے ۔ (ہر) پست و بلند تیرے طلسم میں اسیر ہیں ۔
But tell me, O you, who can see the how and why of things, whose magic holds sway over everything.
«تو کار زمین را نکو ساختی
که با آسمان نیز پرداختی»
کیا تو نے زمین کا کام سدھار لیا کہ آسمان کی طرف بھی اڑنا شروع کر دیا (پہلے انسان کی طرح زمین پر رہنا تو سیکھ) نوٹ: اقبال نے اہل یورپ پر طنز کیا ہے کہ یہ قو میں یوں تو دن رات ترقی کر رہی ہیں لیکن اپنی معاشرت کی اصلاح نہیں سکیں ۔
‘Be it high, be it low, have you done well your tasks on earth that you are meddling with the sky?’
فارسی متن کا ماخذ: گنجور