جمہوریت
Democracy
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)
قافیہ: انینمیآید
صنف: غزل/قصیده/قطعه
متاع معنی بیگانه از دون فطرتان جوئی
ز موران شوخی طبع سلیمانی نمی آید
تو ان سلجھے معنی کی دولت نیچ فطرتوں (اہل مغرب) میں ڈھونڈتا ہے ۔ (یاد رکھ) چیونٹیوں میں سلیمان کی طبیعت کی شوخی پیدا نہیں ہو سکتی ۔
You seek the treasures of an alien philosophy from common, low-grade people, themselves poor of mind. Ants crawling on the ground cannot attain the heights of wisdom of a Solomon.
گریز از طرز جمهوری غلام پخته کاری شو
که از مغز دو صد خر فکر انسانی نمی آید
جمہوریت سے بھاگ، کسی پختہ کار مرد کا غلام ہو جا (دامن پکڑ) کہ دو سو گدھوں کے مغز سے ایک انسان کی فکر نہیں پیدا ہوتی ۔ نوٹ: اقبال مغربی جمہوریت کے قائل نہیں ۔ انھوں نے بانگ درا سے لیکر ارمغان حجاز تک ہر کتاب میں اس طرز حکومت کی مذمت کی ہے ۔
Avoid the method of democracy; become the bondman of someone of ripe intelligence; for a few hundred donkeys cannot have, combined, the brains of one man, of one homosapiens.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور