تلوار کی پہیلی
The Riddle of the Sword
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)
آن سختکوش چیست که گیرد ز سنگ آب
محتاج خضر مثل سکندر نمیشود
وہ سخت کوش چیز کیا ہے جو پتھر سے پانی نکالتی ہے سکندر کی طرح خضر کی محتاج نہیں ۔
Name that very keen contender which draws luster just like water from a stone, but which, unlike Alexander, does not owe it to a Khizr as a boon.
مثل نگاه دیدهٔ نمناک پاک رو
در جوی آب و دامن او تر نمیشود
آنسو بھری آنکھ کی نگاہ کی طرح اجلی صورت والی پانی میں ہے مگر اس کا دامن تر نہیں ہوتا ۔
And which, like a tear-washed vision, purified by that ablution, is agleam, neat and clean and clear and limpid, with its raiment quite unwetted in midstream.
مضمون او به مصرع برجستهای تمام
منتپذیر مصرع دیگر نمیشود
اس کا مضمون ایک ہی چست مصرعے میں مکمل ہو جاتا ہے دوسرے مصرعے کا احسان ہی نہیں لیتا ۔
Its theme needs no longer statement than a single line, if trenchant.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور