صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »افکار
  4. »بخش 44 - چیستان شمشیر

بخش 44 - چیستان شمشیر

تلوار کی پہیلی

The Riddle of the Sword

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: رنمیشود

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

آن سخت‌کوش چیست که گیرد ز سنگ آب

محتاج خضر مثل سکندر نمی‌شود

وہ سخت کوش چیز کیا ہے جو پتھر سے پانی نکالتی ہے سکندر کی طرح خضر کی محتاج نہیں ۔

Name that very keen contender which draws luster just like water from a stone, but which, unlike Alexander, does not owe it to a Khizr as a boon.

2

مثل نگاه دیدهٔ نمناک پاک رو

در جوی آب و دامن او تر نمی‌شود

آنسو بھری آنکھ کی نگاہ کی طرح اجلی صورت والی پانی میں ہے مگر اس کا دامن تر نہیں ہوتا ۔

And which, like a tear-washed vision, purified by that ablution, is agleam, neat and clean and clear and limpid, with its raiment quite unwetted in midstream.

3

مضمون او به مصرع برجسته‌ای تمام

منت‌پذیر مصرع دیگر نمی‌شود

اس کا مضمون ایک ہی چست مصرعے میں مکمل ہو جاتا ہے دوسرے مصرعے کا احسان ہی نہیں لیتا ۔

Its theme needs no longer statement than a single line, if trenchant.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

آدم از بی بصری بندگی آدم کرد

گوهری داشت ولی نذر قباد و جم کرد

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 43 - غلامی

اگلی نظم

متاع معنی بیگانه از دون فطرتان جوئی

ز موران شوخی طبع سلیمانی نمی آید

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 45 - جمهوریت

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

پایندگی به زور میسر نمی‌شود

آب خضر نصیب سکندر نمی‌شود

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 4293

بی‌صحبت تو عیش میسر نمی‌شود

رغبت به بوسه لب ساغر نمی‌شود

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 4294

یک حاجتم ز وصل میسر نمی‌شود

یک حجتم ز عشق مقرر نمی‌شود

عطار»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 342

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور