صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »افکار
  4. »بخش 43 - غلامی

بخش 43 - غلامی

غلامی

Slavery

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: مکرد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
صداکار: فاطمه زندی
Toggle stanza 1
1

آدمی نے اندھے پن سے آدمی کی غلامی کی، ایک موتی رکھتا تھا مگر وہ بھی بادشاہوں کی نذر کر دیا ۔

Man out of his shortsightedness consents to be a slave. He had something in him, but gave it all away to kings.

2

یعنی غلامی کی لت سے کتوں سے بھی بڑھ کر خوار ہے میں نے نہیں دیکھا کہ کسی کتے نے کسی کتے کے آگے سر جھکایا ہو ۔

Because of this servility he is worse than a dog. No dog will ever call adoringly another dog his lord.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

دوش در میکده ترسا بچه باده فروش

گفت از من سخنی دار چو آویزه به گوش

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 42 - بندگی

اگلی نظم

آن سخت‌کوش چیست که گیرد ز سنگ آب

محتاج خضر مثل سکندر نمی‌شود

علامہ اقبال»پیام مشرق»افکار»بخش 44 - چیستان شمشیر

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

خبر آمدن یار دلم خرم کرد

لیک نا آمدنش حال مرا درهم کرد

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 240

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00