غلامی
Slavery
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)
آدمی نے اندھے پن سے آدمی کی غلامی کی، ایک موتی رکھتا تھا مگر وہ بھی بادشاہوں کی نذر کر دیا ۔
Man out of his shortsightedness consents to be a slave. He had something in him, but gave it all away to kings.
یعنی غلامی کی لت سے کتوں سے بھی بڑھ کر خوار ہے میں نے نہیں دیکھا کہ کسی کتے نے کسی کتے کے آگے سر جھکایا ہو ۔
Because of this servility he is worse than a dog. No dog will ever call adoringly another dog his lord.
زمین