غزل نمبر15
Ghazal No. 15
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)
قافیہ: یرمارزوست
صنف: غزل/قصیده/قطعه
تیر و سنان و خنجر و شمشیرم آرزوست
با من میا که مسلک شبیرم آرزوست
تیر اور برچھی اور خنجر اور تلوار میری آرزو ہے (خدا کی راہ میں جہاد کروں ) ۔ میرے ساتھ نہ آ کہ میں شبیر کی راہ پر چلنا چاہتا ہوں ( خدا کی راہ میں سر کٹانا چاہتا ہوں ) ۔
I long for manly weapons – bow, dagger, spear and sword. O, do not come with me, for mine is Shabbir’s way.
از بهر آشیانه خس اندوزیم نگر
باز این نگر که شعلهٔ در گیرم آرزوست
آشیانہ بنانے کے واسطے میرا تنکے جمع کرنا دیکھ ۔ پھر یہ بھی دیکھ کہ میں بھڑکتے ہوئے شعلے کا آرزو مند ہوں ۔ میں جائز طریقے سے دولت بھی جمع کرتا ہوں لیکن اپنی جان اور مال دونوں خدا کی راہ میں قربان کرنے کو تیار ہوں ۔
Look at me gathering straw for a nest, and look at me again, wishing for fire to burn it off.
گفتند لب ببند و ز اسرار ما مگو
گفتم که خیر نعرهٔ تکبیرم آرزوست
انھوں نے کہا کہ ہونٹ سی لے اور ہمارے اسرار مت بیان کر ۔ میں نے کہا کہ بہتر مگر مجھے نعرہ تکبیر بلند کرنے کی آرزو ہے (ایک مسلمان جب اللہ اکبر کہتا ہے تو بالفاظ دیگر وہ تمام اسرار کو فاش کر دیتا ہے) ۔
He said: ‘Keep your lips sealed. Let not My secret be betrayed.’ I said: ‘O no, I must proclaim that You are great.’
گفتند هر چه در دلت آید ز ما بخواه
گفتم که بی حجابی تقدیرم آرزوست
انھوں نے کہا تیرے جی میں جو کچھ آتا ہے ہم سے مانگ لے ۔ میں نے عرض کی کہ مجھے تقدیر کو بے حجاب دیکھنے کی آرزو ہے (عبدیت سے بلند تر اور کوئی مقام نہیں ہے) ۔
He said: ‘Ask for whatever is your wish.’ I said: ‘I wish to know the mystery of fate.’
از روزگار خویش ندانم جز این قدر
خوابم ز یاد رفته و تعبیرم آرزوست
مجھے اپنے دن رات کی بس اتنی سدھ خبر ہے میرا خواب جی سے بسر گیا اور مجھے تعبیر کا ارمان ہے ۔میں جب اپنی زندگی پر غور کرتا ہوں تو یہ ایک ایسا خواب محسوس ہوتا ہے جس کا نقش تو ذہن سے محو ہو چکا ہے یعنی میں بھول گیا کہ کیا خواب دیکھا تھا لیکن اب اس کی تعبیر کی آرزو ہے۔
All that I know about my life is this: A dream forgotten, which I wish to have interpreted for me.
کو آن نگاه ناز که اول دلم ربود
عمرت دراز باد همان تیرم آرزوست
کدھر ہے وہ چت چور نظر جو پہلی بار میرا دل لے گی تھی تیری عمر دراز ہو مجھے پھر اسی تیر کی تمنا ہے ۔
O where is that alluring glance that captivated my heart first? God bless you, I desire that arrow once again.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور