صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »می باقی
  4. »غزل شمارهٔ 14

غزل شمارهٔ 14

غزل نمبر14

Ghazal No. 14

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: ید

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 12

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1
1

بیار باده که گردون بکام ما گردید

مثال غنچه نواها ز شاخسار دمید

شراب لے آ کہ آسمان ہماری مرضی کے مطابق گردش کر رہا ہے ۔ نغمے ٹہنیوں سے کلی بن کر پھوٹ رہے ہیں ۔

Fetch wine, for the heavens have turned in our favour. Songs are germinating like buds from the branches.

2

خورم بیاد تنک نوشی امام حرم

که جز به صحبت یاران رازدان نچشید

میں بڑے شیخ جی کے چھپ چھپ کے ذرا ذرا سی پینے کی یاد میں شراب پیتا ہوں جنھوں نے ہمراز یاروں کی صحبت کے علاوہ اور کہیں نہیں چکھی ۔ (اس شعر میں فقیہہ یا امام پر طنز کیا ہے ۔ یہ لوگ اگر پیتے بھی ہیں تو چوری چھپے اور وہ بھی چند راز داروں کے ساتھ جبکہ مے نوشی کا مزہ تو اس میں ہے کہ اعلانیہ پی جائے اور سینکڑوں کے مجمع میں پی جائے) ۔

I drink in remembrance of that holy person who would not drink wine but with his boon companions.

3

فزون قبیلهٔ آن پخته کار باد که گفت

چراغ راه حیات است جلوهٔ امید

خدا کرے اس پختہ کار کا قبیلہ پھلتا پھولتا رہے (قبیلے میں اضافہ ہو) ۔ جس نے کہا کہ امید کی جھلک زندگی کے راستے کا چراغ ہے ۔ (سالک راہ کو کتنی ہی مشکلات کیوں نہ پیش ہوں ہمیشہ رحمت باری تعالیٰ کے نزول کا امیدوار رہنا چاہئے چنانچہ قرآن مجید میں ا رشاد ہوتا ہے ، لا تقنطو من رحمتہ اللہ یعنی اللہ کی رحمت سے کبھی نا امید نہ ہونا ۔

May the tribe increase of that sagacious man who said that the light of hope is a torch on life’s path.

4

نوا ز حوصلهٔ دوستان بلند تر است

غزل سرا شدم آنجا که هیچکس نشنید

چونکہ تیرا نغمہ یاروں کے حوصلے سے زیادہ بلند ہے اس لیے میں وہاں غزل سرا ہوا جہاں کوئی سننے والا نہ تھا ۔ (طنزیہ انداز میں اظہار کیا ہے کہ مسلمان میرے کلام کو نہیں پڑھتے) ۔

What I sing is too high for my likely listeners. So I sing where no one listens to my singing.

5

عیار معرفت مشتری است جنس سخن

خوشم از آنکه متاع مرا کسی نخرید

شعر خریدار کی پہچان کی کسوٹی ہے ۔ اس میں اس بات سے خوش ہوں کہ میری پونجی کسی نے نہیں خریدی (اس شعر میں بھی لطیف قسم کا طنز پوشیدہ ہے ۔ یعنی اقبال کا کلام صرف ایک علم دوست انسان پسند کرتا ہے ، مسلمان ان صفات سے محروم ہے) ۔

Verse is such a thing as tests the buyer’s judgment. I am glad that no one buys my poetry.

6

ز شعر دلکش اقبال میتوان در یافت

که درس فلسفه میداد و عاشقی ورزید

اقبال کے دل کھینچ لینے والی شاعری سے بوجھا جا سکتا ہے کہ اس نے فلسفے کا درس دیا اور ساتھ عاشقی بھی اختیار کی ۔ (اس نے فلسفی ہونے کے باوجود مسلک عشق اختیار کیا) نوٹ: اس شعر سے اقبال کے دو شاخیں واضح ہو گئیں یعنی وہ فلسفی بھی ہیں اور شاعر بھی ۔

From his pleasing verses it is clear that Iqbal, teacher of philosophy, turned to Love’s vocation.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

خوش آنکه رخت خرد را به شعله‌ای می سوخت

مثال لاله متاعی ز آتشی اندوخت

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 13

اگلی نظم

تیر و سنان و خنجر و شمشیرم آرزوست

با من میا که مسلک شبیرم آرزوست

علامہ اقبال»پیام مشرق»می باقی»غزل شمارهٔ 15

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

گذشت عمر به لرزیدنم ز بیم و امید

قضا نوشت‌ مگر سرخطم‌ به‌ سایهٔ بید

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 1582

به گرد عارض تو گر دمیده یک دو سه موی

مکن ز عشق من و حسن خویش قطع امید

جامی»دیوان اشعار»قطعات»شمارهٔ 9

به طرف باغ عجب دلکش است سایه بید

که لمعه لمعه درخشد ازان میان خورشید

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 154

ز سبزه گرد لب جوی خط تازه دمید

به تازگی خط آیندگان باغ رسید

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 273

جهان بر ابرویِ عید از هِلال وَسمه کشید

هِلال عید در ابرویِ یار باید دید

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 238

رسید مژده که آمد بهار و سبزه دمید

وظیفه گر برسد، مصرفش گُل است و نَبید

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 239

دریغ! مدحت چون زر و آبدار غزل

که چابکیش نیاید همی به لفظ پدیذ

رودکی»قصاید و قطعات»شمارهٔ 47

سلام بر تو که سین سلام بر تو رسید

سلام گرد جهان گشت جز تو نپسندید

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 955

قلم به یاد تو در مشت من نمی‌گنجد

که دیر شد که نرفته‌ست در دوات امید

سعدی»خبیثات و مجالس الهزل»خبیثات»شمارهٔ 28

به سمع خواجه رسانید اگر مجال بود

که ای خزانهٔ ارزاق را کف تو کلید

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 117 - ظاهرا در مدح صاحب دیوان است

مزید تلاش کریں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور