غزل نمبر14
Ghazal No. 14
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)
بیار باده که گردون بکام ما گردید
مثال غنچه نواها ز شاخسار دمید
شراب لے آ کہ آسمان ہماری مرضی کے مطابق گردش کر رہا ہے ۔ نغمے ٹہنیوں سے کلی بن کر پھوٹ رہے ہیں ۔
Fetch wine, for the heavens have turned in our favour. Songs are germinating like buds from the branches.
خورم بیاد تنک نوشی امام حرم
که جز به صحبت یاران رازدان نچشید
میں بڑے شیخ جی کے چھپ چھپ کے ذرا ذرا سی پینے کی یاد میں شراب پیتا ہوں جنھوں نے ہمراز یاروں کی صحبت کے علاوہ اور کہیں نہیں چکھی ۔ (اس شعر میں فقیہہ یا امام پر طنز کیا ہے ۔ یہ لوگ اگر پیتے بھی ہیں تو چوری چھپے اور وہ بھی چند راز داروں کے ساتھ جبکہ مے نوشی کا مزہ تو اس میں ہے کہ اعلانیہ پی جائے اور سینکڑوں کے مجمع میں پی جائے) ۔
I drink in remembrance of that holy person who would not drink wine but with his boon companions.
فزون قبیلهٔ آن پخته کار باد که گفت
چراغ راه حیات است جلوهٔ امید
خدا کرے اس پختہ کار کا قبیلہ پھلتا پھولتا رہے (قبیلے میں اضافہ ہو) ۔ جس نے کہا کہ امید کی جھلک زندگی کے راستے کا چراغ ہے ۔ (سالک راہ کو کتنی ہی مشکلات کیوں نہ پیش ہوں ہمیشہ رحمت باری تعالیٰ کے نزول کا امیدوار رہنا چاہئے چنانچہ قرآن مجید میں ا رشاد ہوتا ہے ، لا تقنطو من رحمتہ اللہ یعنی اللہ کی رحمت سے کبھی نا امید نہ ہونا ۔
May the tribe increase of that sagacious man who said that the light of hope is a torch on life’s path.
نوا ز حوصلهٔ دوستان بلند تر است
غزل سرا شدم آنجا که هیچکس نشنید
چونکہ تیرا نغمہ یاروں کے حوصلے سے زیادہ بلند ہے اس لیے میں وہاں غزل سرا ہوا جہاں کوئی سننے والا نہ تھا ۔ (طنزیہ انداز میں اظہار کیا ہے کہ مسلمان میرے کلام کو نہیں پڑھتے) ۔
What I sing is too high for my likely listeners. So I sing where no one listens to my singing.
عیار معرفت مشتری است جنس سخن
خوشم از آنکه متاع مرا کسی نخرید
شعر خریدار کی پہچان کی کسوٹی ہے ۔ اس میں اس بات سے خوش ہوں کہ میری پونجی کسی نے نہیں خریدی (اس شعر میں بھی لطیف قسم کا طنز پوشیدہ ہے ۔ یعنی اقبال کا کلام صرف ایک علم دوست انسان پسند کرتا ہے ، مسلمان ان صفات سے محروم ہے) ۔
Verse is such a thing as tests the buyer’s judgment. I am glad that no one buys my poetry.
ز شعر دلکش اقبال میتوان در یافت
که درس فلسفه میداد و عاشقی ورزید
اقبال کے دل کھینچ لینے والی شاعری سے بوجھا جا سکتا ہے کہ اس نے فلسفے کا درس دیا اور ساتھ عاشقی بھی اختیار کی ۔ (اس نے فلسفی ہونے کے باوجود مسلک عشق اختیار کیا) نوٹ: اس شعر سے اقبال کے دو شاخیں واضح ہو گئیں یعنی وہ فلسفی بھی ہیں اور شاعر بھی ۔
From his pleasing verses it is clear that Iqbal, teacher of philosophy, turned to Love’s vocation.
زمین
گذشت عمر به لرزیدنم ز بیم و امید
قضا نوشت مگر سرخطم به سایهٔ بید
بیدل دهلویغزلیاتغزل شمارهٔ 1582
به گرد عارض تو گر دمیده یک دو سه موی
مکن ز عشق من و حسن خویش قطع امید
جامیدیوان اشعارقطعاتشمارهٔ 9
به طرف باغ عجب دلکش است سایه بید
که لمعه لمعه درخشد ازان میان خورشید
جامیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 154
ز سبزه گرد لب جوی خط تازه دمید
به تازگی خط آیندگان باغ رسید
جامیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 273
جهان بر ابرویِ عید از هِلال وَسمه کشید
هِلال عید در ابرویِ یار باید دید
حافظغزلیاتغزل شمارهٔ 238
رسید مژده که آمد بهار و سبزه دمید
وظیفه گر برسد، مصرفش گُل است و نَبید
حافظغزلیاتغزل شمارهٔ 239
دریغ! مدحت چون زر و آبدار غزل
که چابکیش نیاید همی به لفظ پدیذ
رودکیقصاید و قطعاتشمارهٔ 47
سلام بر تو که سین سلام بر تو رسید
سلام گرد جهان گشت جز تو نپسندید
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 955
قلم به یاد تو در مشت من نمیگنجد
که دیر شد که نرفتهست در دوات امید
سعدیخبیثات و مجالس الهزلخبیثاتشمارهٔ 28
به سمع خواجه رسانید اگر مجال بود
که ای خزانهٔ ارزاق را کف تو کلید
سعدیمواعظقطعاتشمارهٔ 117 - ظاهرا در مدح صاحب دیوان است
فارسی متن کا ماخذ: گنجور