غزل نمبر13
Ghazal No. 13
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)
قافیہ: وخت
صنف: غزل/قصیده/قطعه
خوش آنکه رخت خرد را به شعلهای می سوخت
مثال لاله متاعی ز آتشی اندوخت
مبارک ہے وہ شخص جس نے عقل کے لابس کو شراب کے شعلے سے جلا دیا (عقل کو عشق کی آگ سے جلا دے یعنی عقل کے بجائے عشق کی پیروی کر) اور گل لالہ کی طرح آگ ہی کو اپنی پونجی بنا لیا ۔
Happy the man who burned with flames of wine his intellectual goods. He gained a new thing from the flames, rich like the tulip’s fiery hue.
تو هم ز ساغر می چهره را گلستان کن
بهار خرقه فروشی به صوفیان آموخت
تو بھی پیالہ شراب سے چہرے کو گلستان (سرخ) بنا ۔ بہار نے تو اللہ والوں (زاہدوں ) سے خرقے نیلام کروا دیئے (وہ خرقہ فروشی کر کے شراب حاصل کر رہے ہیں جب زاہدوں نے توبہ توڑ دی ہے تو بھی شراب پی کر اپنے چہرہ پر سرخی پیدا کر لے) ۔
Come you; too, give your face a vernal freshness with a cup of wine, for spring makes pious Sufis sell their garments for that stuff.
دلم تپید ز محرومی فقیه حرم
که پیر میکده جامی به فتوئی نفروخت
مفتی حرم کی محرومی پر میرا دل کڑھا (بہت جلا) کہ شراب خانے کے پیر نے اس کے فتویٰ کے عوض شراب کا پیالہ بھی نہ دیا ۔ (ارباب طریقت کی نظر میں فقہا کے فتاویٰ کی کوئی قدرومنزلیت نہیں کیونکہ یہ لوگ ارباب حکومت کو خوش کرنے کے لیے اور ان سے دنیاوی فوائد حاصل کرنے کے لیے ان کی مرضی کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں ۔
I felt great pity for the jurist, when I heard the taverner refused to buy of him a legal ruling for a cup of wine.
مسنج قدر سرود از نوای بی اثرم
ز برق نغمه توان حاصل سکندر سوخت
میری بے اثر پکار سے سرود کی قیمت کا اندازہ نہ کر ۔ نغمے کی بجلی سے سکندر کی کھیتی جل سکتی ہے ۔ یعنی عشق کے سامنے سکندر اعظم کی عظیم الشان سلطنت کی بھی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔
Do not judge music by my ineffectual songs. A lightening flash of it can burn an Alexander’s whole domain.
صبا به گلشن ویمر سلام ما برسان
که چشم نکته وران خاک آن دیار افروخت
اے صبا! ویمر کے گلشن تک ہمارا سلام پہنچا دے کہ اس سرزمین کی خاک نے نکتہ وروں کی آنکھوں کو روشنی بخشی (ان کے دل و دماغ کو منور کر دیا)(اس شعر میں اقبال نے گوءٹے کی خدمت میں خراج تحسین پیش کیا ہے) ۔
O morning breeze, convey my greetings to the happy Weimar town. The light that radiated from it has illumined many sages’ minds. (Weimar: German town where Goethe spent most part of his life.)
فارسی متن کا ماخذ: گنجور