غزل نمبر 12
Ghazal No. 12
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)
قافیہ: اساختی
صنف: غزل/قصیده/قطعه
آشنا هر خار را از قصهٔ ما ساختی
در بیابان جنون بردی و رسوا ساختی
تو نے ہر کانٹے کو میری داستان سے باخبر کر دیا (تو مجھے) دیوانگی کے بیابان میں لے گیا اور رسوا کر دیا ۔
You have made every thorn prick us and know our tale. You took us to the wilderness of madness, and let everybody know.
جرم ما از دانه ئی تقصیر او از سجده ئی
نی به آن بیچاره میسازی نه با ما ساختی
ہمارا جرم گندم کا دانہ کھانا اور اس کا قصور ایک سجدہ (نہ کرنا) تو نہ اس بیچارے سے خوش ہے نہ ہم سے راضی ہوا (تو نے نہ اس سے موافقت کی نہ ہم سے) ۔
Our fault was we ate of a grain, and his that he refused to bow. You never pardoned that poor devil, nor have You yet forgiven us.
صد جهان میروید از کشت خیال ما چو گل
یک جهان و آنهم از خون تمنا ساختی
ہمارے خیال کی کھیتی سے سینکڑوں عالم پھولوں کی طرح اگتے ہیں ۔ تو نے ایک دنیا بنائی اور وہ بھی ہماری تمناؤں کے لہو سے ۔
A hundred worlds spring up like flowers from our imagination’s soil. There is but one real world; and that too you have made of the blood of murdered wishes.
پرتو حسن تو می افتد برون مانند رنگ
صورت می پرده از دیوار مینا ساختی
تیرے حسن کا پرتو رنگ کی طرح شیشے سے باہر چھلکا پڑتا ہے ۔ تو نے شراب کی صورت شیشے کی دیوار کو اوٹ بنایا (شراب کا رنگ بوتل کی دیوار سے نمایاں ہو جاتا ہے) ۔ اگرچہ خدا ظاہری آنکھوں سے نظر نہیں آتا لیکن اس کے جمال کا پرتو ہر شے میں نمایاں ہے ۔ یعنی ہر شے مظہر ذات باری تعالیٰ ہے ۔
Like colour the reflection of Your beauty shines through the glass. You have made of the goblet’s wall a screen for Yourself, just like wine.
طرح نو افکن که ما جدت پسند افتاده ایم
این چه حیرت خانه ئی امروز و فردا ساختی
کوئی نئی بنیاد ڈال کہ ہم جدت پسند واقع ہوئے ہیں تو نے کیا سر چکرا دینے والی آج اور کل کا حیرت خانہ بنا رکھا ہے(آپ نے یہ دنیا ایسی بنائی ہے کہ اس میں آج کے بعد کل اور کل کے بعد پھر کل آتا ہے ہر کل پہلے کل کی طرح ہوتا ہے اس میں کوئی فرق نہیں ہوتا اس یکسانیت سے ہم پر حیرت کا عالم طاری ہے ۔ مطلب یہ کہ انسان کو یکساں حالت پسند نہیں ہے ۔ انسان طبعی طور پر جدت پسند واقع ہوا ہے ۔
O, lay some new foundation, for we happen to like novelty. What is this giddy peep-how You have made of yesterdays, to-morrows and to-days?
فارسی متن کا ماخذ: گنجور